اسلام آباد (یکم اکتوبر 2026ء): حکومتِ پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس کے لیے 45 نئی بلٹ پروف گاڑیاں خریدنے اور 300 نان بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنے کے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا
ہے کہ یہ انتظام اعلیٰ سطح کے غیر ملکی مہمانوں کی سکیورٹی اور نقل و حمل کی ضروریات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
حکومتی بیان کے مطابق 45 بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کے معاملے پر بعض حلقوں کی جانب سے کیے جانے والے تبصرے اجلاس کی سکیورٹی ضروریات اور فیصلے کے پس منظر کو نظر انداز کرتے ہیں۔
وزارت خزانہ کے مطابق 8 ستمبر کو 30 بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کے لیے 6.6 ارب روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری دی گئی تھی۔ بعد ازاں 14 ستمبر کو اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) نے کابینہ ڈویژن کی سمری پر مزید 15 بلٹ پروف سیڈان گاڑیوں کی خریداری کے لیے 3 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی تجویز پر غور کیا۔
اس طرح 45 گاڑیوں کے لیے مختص رقم مجموعی طور پر 9.6 ارب روپے بنتی ہے۔
حکومت کا مؤقف
کابینہ ڈویژن کے مطابق پاکستان اس وقت شنگھائی تعاون تنظیم کے ’’کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ‘‘ کی صدارت کر رہا ہے اور اجلاس میں مختلف ممالک کے سربراہانِ مملکت، سربراہانِ حکومت اور بین الاقوامی تنظیموں کے اعلیٰ حکام شرکت کریں گے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ایسے اجلاس کے دوران بین الاقوامی سکیورٹی معیار کے مطابق محفوظ اور قابلِ اعتماد سفری سہولیات فراہم کرنا ضروری ہے، خصوصاً پاکستان کو درپیش سکیورٹی خطرات کے تناظر میں۔
حکومتی بیان کے مطابق کابینہ ڈویژن کے پاس موجود جدید ترین بلٹ پروف گاڑیاں 2016 ماڈل کی ہیں اور اجلاس کے لیے درکار سکیورٹی معیار پر پوری نہیں اترتیں۔
حکومت کے مطابق 45 نئی گاڑیوں کی تعداد مختلف فورمز پر غور کے بعد کم از کم ضرورت کی بنیاد پر مقرر کی گئی ہے۔ ان کے علاوہ 300 نان بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کی جائیں گی۔
وفاقی حکومت کی کفایت شعاری پالیسی کے تحت نئی سرکاری گاڑیوں کی خریداری پر پابندی عائد ہے، تاہم ان گاڑیوں کی خریداری کے لیے اس پابندی سے استثنا حاصل کیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر بحث
گاڑیوں کی خریداری کا معاملہ گزشتہ کئی دنوں سے سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے، جہاں بعض صارفین نے اخراجات اور حکومتی کفایت شعاری کی پالیسی پر سوالات اٹھائے ہیں۔
سابق سینیٹر مشاہد حسین سید نے حکومت کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 45 لگژری گاڑیوں کی خریداری پر اربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں اور سوال اٹھایا کہ اتنی بڑی تعداد میں گاڑیوں کی ضرورت کیوں پیش آئی۔
بعض سوشل میڈیا صارفین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ایس سی او اجلاس کے اختتام کے بعد ان گاڑیوں کا کیا استعمال ہوگا اور کیا ان کی خریداری کے عمل میں مطلوبہ شفافیت اور عوامی نگرانی یقینی بنائی جائے گی۔
دوسری جانب بعض صارفین کا مؤقف ہے کہ غیر ملکی سربراہان اور اعلیٰ حکام کی سکیورٹی کے لیے مطلوبہ معیار کی گاڑیوں کا انتظام ایک ضروری سرکاری اقدام ہے۔
حکومت نے کہا ہے کہ گاڑیوں کی خریداری کا فیصلہ اجلاس میں شرکت کرنے والے اعلیٰ سطح کے غیر ملکی مہمانوں کی سکیورٹی اور نقل و حمل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔