لاہور، 29 ستمبر 2026ء (ڈیجیٹل اطلاع) — لاہور پولیس نے آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی 20 سالہ خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے مقدمے میں ایک ملزم کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ دو دیگر مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیے پولیس ٹیمیں کارروائیاں کر رہی ہیں۔
لاہور کے ڈی آئی جی انویسٹی گیشنز ذیشان رضا کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق خاتون کے مبینہ گینگ ریپ کے مقدمے میں ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون کا طبی معائنہ بھی کرایا گیا، جس میں جنسی زیادتی کے شواہد سامنے آئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے کی تفتیش جاری ہے اور دیگر مبینہ ملزمان کو گرفتار کرنے کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
خاتون کا عدالت میں بیان
متاثرہ خاتون نے مجاز عدالت کے سامنے پیش ہو کر ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت اپنا بیان بھی ریکارڈ کرایا ہے۔
عدالت میں دیے گئے بیان کے مطابق خاتون نے بتایا کہ وہ 13 ستمبر کو استنبول سے پاکستان پہنچی تھیں۔ ان کے مطابق انہوں نے اسلام آباد اور فیصل آباد میں قیام کیا، جبکہ بعد میں لاہور آئیں۔ خاتون نے بتایا کہ ان کا سکردو جانے کا ارادہ تھا، تاہم تنہا سفر کرنے کی وجہ سے انہوں نے دو خواتین سے رابطہ کیا۔
خاتون کے مطابق 25 ستمبر کی رات وہ ان خواتین میں سے ایک کے ساتھ ایک کیفے گئیں، جہاں سے بعد میں انہیں بحریہ ٹاؤن کے ایک مقام پر لے جایا گیا۔
ان کے مطابق رات گئے ایک سفید رنگ کی گاڑی وہاں پہنچی جس میں دو مرد سوار تھے۔ خاتون کا کہنا ہے کہ وہ ایک اپارٹمنٹ میں گئیں جہاں پہلے موجود افراد کے علاوہ مزید دو مرد بھی پہنچے۔
خاتون نے کیا الزام عائد کیا؟
عدالت میں ریکارڈ کرائے گئے بیان کے مطابق خاتون نے الزام عائد کیا کہ ان کے ساتھ موجود خواتین میں سے ایک نے ایک مرد سے رقم وصول کی اور بتایا کہ یہ پارٹی کے اخراجات کے لیے ہے۔
خاتون کے مطابق انہوں نے وہاں موجود افراد کو بتایا کہ انہیں پیسوں یا شراب کی ضرورت نہیں اور وہ وہاں سے جانا چاہتی ہیں۔ ان کے بیان کے مطابق ایک شخص نے انہیں ایک الگ کمرے میں جانے پر مجبور کیا اور کہا کہ وہ وہاں سے نہیں جا سکتیں کیونکہ ان کی دوست رقم لے کر چلی گئی ہے۔
خاتون نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے وہاں سے جانے کے لیے 30 ہزار روپے دینے کی پیشکش بھی کی، تاہم ان کے مطابق ایک شخص نے انہیں مبینہ طور پر دھمکایا اور بلیک میل کیا۔
خاتون کے مطابق انہیں شراب پینے پر مجبور کیا گیا اور اس کے بعد دو مردوں نے مبینہ طور پر ان کے ساتھ زیادتی کی۔
پولیس کو درج کرائی گئی ایف آئی آر میں خاتون نے الزام عائد کیا کہ تین افراد نے انہیں ایک نامعلوم فلیٹ میں لے جا کر مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا۔
مبینہ طور پر نشہ آور چیز پلانے کا الزام
ایف آئی آر کے مطابق خاتون نے پولیس کو بتایا کہ ملزمان نے مبینہ طور پر شراب میں بے ہوشی کی دوا ملا کر انہیں پلائی، جس کے بعد تینوں افراد نے باری باری ان کے ساتھ زیادتی کی۔
یہ الزام پولیس کی تفتیش کا حصہ ہے اور اس کی حتمی تصدیق عدالتی کارروائی اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر ہوگی۔
موبائل فون اور نقدی لے جانے کا الزام
خاتون نے پولیس کو بتایا کہ مبینہ واقعے کے بعد ملزمان انہیں ایک گاڑی میں بٹھا کر شہر سے باہر ایک مقام پر لے گئے، جہاں انہیں اتار دیا گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق خاتون کا دعویٰ ہے کہ ملزمان ان کا آئی فون 13 پرو میکس، ریڈمی موبائل فون اور تقریباً دو لاکھ روپے نقدی بھی اپنے پاس رکھ گئے۔
خاتون نے الزام عائد کیا کہ ملزمان نے انہیں پولیس سے رابطہ نہ کرنے کی دھمکی دی۔ ان کے مطابق جب انہوں نے پولیس کو اطلاع دینے کی بات کی تو انہیں مزید دھمکایا گیا۔
خاتون کا کہنا ہے کہ بعد میں انہیں گاڑی سے اتار دیا گیا، جہاں انہوں نے ایک راہگیر سے موبائل فون لے کر پولیس کو اطلاع دی۔
مقدمہ کیسے درج ہوا؟
آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی خاتون نے 26 ستمبر کو لاہور کے تھانہ ڈیفنس سی میں مقدمہ درج کرایا۔
ایف آئی آر کے مطابق خاتون نے پولیس کو بتایا کہ وہ کاروباری مقصد کے لیے پاکستان آئی تھیں اور واقعے سے قبل تقریباً دو ہفتوں سے ملک میں موجود تھیں۔
پولیس نے مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 375-A کے تحت درج کیا، جو اجتماعی زیادتی سے متعلق ہے، اور واقعے کی تفتیش شروع کر دی۔
پولیس کی کارروائی
ڈی آئی جی انویسٹی گیشنز ذیشان رضا کے مطابق پولیس نے مقدمے میں ایک مشتبہ ملزم کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ دیگر دو ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں مختلف مقامات پر کارروائیاں کر رہی ہیں۔
پولیس کے مطابق واقعے سے متعلق دستیاب شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور متاثرہ خاتون کے طبی معائنے، بیان اور دیگر شواہد کو تفتیش کا حصہ بنایا گیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث تمام افراد کو قانون کے مطابق کارروائی کا سامنا ہوگا۔
تحقیقات جاری
تفتیشی حکام واقعے کے مبینہ مقام، گاڑی، موبائل فونز اور دیگر ممکنہ شواہد کا جائزہ لے رہے ہیں۔ پولیس اس بات کا بھی تعین کر رہی ہے کہ واقعے میں کتنے افراد ملوث تھے اور متاثرہ خاتون کو مبینہ طور پر کہاں لے جایا گیا تھا۔
خاتون کی جانب سے عدالت میں دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ کرایا جانا بھی مقدمے کی قانونی کارروائی کا حصہ ہے۔
تاہم پولیس تفتیش مکمل ہونے اور عدالت میں شواہد پیش کیے جانے سے قبل ملزمان پر عائد الزامات کو حتمی جرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔
لاہور میں غیرملکی خواتین سے متعلق ایک اور مقدمہ
یہ لاہور میں رواں سال غیرملکی خواتین سے متعلق جنسی تشدد اور اغوا کے الزامات کا ایک اور مقدمہ ہے۔
جون میں نیدرلینڈز اور اسپین سے تعلق رکھنے والی دو خواتین کے مبینہ اغوا اور جنسی تشدد کا واقعہ بھی رپورٹ ہوا تھا۔ پولیس نے اس مقدمے میں متعدد افراد کو گرفتار کرنے کا بتایا تھا۔
پولیس کے مطابق دونوں مقدمات الگ الگ واقعات ہیں اور موجودہ کیس کی تفتیش اپنے دستیاب شواہد کی بنیاد پر جاری ہے۔