لاہور، 21 ستمبر (ڈیجیٹل اطّلاع): پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی تینوں بہنوں، علیمہ خان، ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو لاہور میں پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر ہ 3 کے تحت 30 روز کے لیے حراست میں لے لیا گیا ہے۔
یہ کارروائی پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان کی رہائی اور آئین کی بالادستی کے مطالبات کے لیے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف مجوزہ احتجاجی مارچ سے چند روز قبل سامنے آئی ہے۔
لاہور کے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری احکامات کے مطابق ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو 30 روز کے لیے نظربند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ دونوں کو کوٹ لکھپت جیل منتقل کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ علیمہ خان کو اس سے ایک روز
قبل اسی قانون کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔
نظربندی کی وجوہات
ڈپٹی کمشنر لاہور کے 20 ستمبر کے احکامات میں پولیس اور ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس برانچ کی رپورٹس کا حوالہ دیا گیا ہے۔ ان رپورٹس کے مطابق حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ نورین نیازی اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کی سرگرمیاں عوامی تحفظ اور امن و امان کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔
پولیس رپورٹس میں ان پر ماضی کے احتجاج، سڑکوں کی بندش، کارکنوں کو متحرک کرنے اور سرکاری و عوامی املاک کو نقصان پہنچانے پر اکسانے جیسے الزامات کا ذکر کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کمیٹی نے بھی دستیاب رپورٹس اور مواد کا جائزہ لینے کے بعد 30 روزہ نظربندی کی سفارش کی تھی۔
علیمہ خان کے خلاف جاری کیے گئے نظربندی کے حکم میں بھی انتظامیہ نے عوامی امن و امان سے متعلق خدشات کو بنیاد بنایا تھا۔ رائٹرز کے مطابق لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے کہا تھا کہ علیمہ خان کی عوامی موجودگی عوامی تحفظ کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
پی ٹی آئی کا عدالتی رجوع
پی ٹی آئی نے تینوں بہنوں کی نظربندی کی مخالفت کرتے ہوئے اسے غیر قانونی قرار دیا ہے۔
پارٹی کے وکیل رانا مدثر عمر کے ذریعے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا ہے، جہاں علیمہ خان، ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظربندی کے احکامات کو چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ نظربندی کے احکامات میں مخصوص الزامات واضح نہیں کیے گئے اور انتظامیہ نے دفعہ 3 کے تحت مقررہ قانونی طریقہ کار پر عمل نہیں کیا۔
درخواست میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عام فوجداری قوانین کے تحت دستیاب کم سخت اقدامات پر غور کیے بغیر حفاظتی حراست کا سہارا لیا گیا۔ عدالت سے تینوں نظربندی کے احکامات کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔
پی ٹی آئی نے اس سے قبل بھی ان گرفتاریوں کو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے فوری رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔
27 ستمبر کا احتجاج
تینوں بہنوں کی نظربندی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔
پارٹی کا کہنا ہے کہ احتجاج کا مقصد عمران خان کی رہائی اور آئین کی بالادستی کے لیے سیاسی جدوجہد کرنا ہے۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ مارچ پرامن اور سیاسی ہوگا اور پارٹی کسی تصادم یا تشدد کی خواہاں نہیں۔
دوسری جانب حکومت نے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد میں امن و امان خراب کرنے یا سڑکیں بند کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے حکومت کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد میں کسی بھی ایسے اقدام کو روکا جائے گا جس سے امن و امان متاثر ہو۔ حکومت نے احتجاج کے دوران قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا عندیہ بھی دیا ہے۔
یہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کے پس منظر میں بھی اہم ہے، جس میں عدالت نے قرار دیا تھا کہ کسی سیاسی جماعت یا عوامی عہدیدار کو اسلام آباد کی سڑکیں، شاہراہیں، انٹرچینجز یا دیگر عوامی مقامات بند کرنے کا قانونی اختیار حاصل نہیں۔
3-MPO کیا ہے؟
پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس، 1960 کی دفعہ 3 انتظامیہ کو ایسے افراد کو حفاظتی حراست میں لینے کا اختیار دیتی ہے جن کے بارے میں حکام سمجھتے ہوں کہ ان کی سرگرمیاں امن و امان یا عوامی تحفظ کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔
قانون کے تحت تین ماہ سے زیادہ حراست جاری رکھنے کے لیے متعلقہ بورڈ کی رائے درکار ہوتی ہے۔ قانون میں یہ بھی درج ہے کہ نظربندی کے احکامات کے تحت زیرِ حراست شخص کو، مقررہ قانونی طریقہ کار کے مطابق، حکم کی بنیاد بتائی جائے اور حکومت کے سامنے نمائندگی کا موقع دیا جائے۔
موجودہ معاملے میں لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست کے ذریعے تینوں خواتین کی نظربندی کے قانونی جواز اور طریقہ کار کو چیلنج کیا گیا ہے۔ عدالت کی کارروائی اس معاملے میں آئندہ قانونی پیش رفت کا تعین کرے گی۔
تینوں بہنوں کی نظربندی نے 27 ستمبر کے مجوزہ احتجاج سے قبل حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔