Post Main Ad Panel
Read in English گجرات میں زارا مجاہد قتل کیس، دو پولیس انسپکٹرز کی بعد از گرفتاری ضمانت خارج

گجرات میں زارا مجاہد قتل کیس، دو پولیس انسپکٹرز کی بعد از گرفتاری ضمانت خارج

35 ویوز

گجرات، 29 ستمبر 2026ء (ڈیجیٹل اطلاع) — پنجاب کے ضلع گجرات کی ایک عدالت نے زارا مجاہد کے مبینہ غیرت کے نام پر قتل کے مقدمے میں اعانتِ جرم کے الزام میں گرفتار دو پولیس انسپیکٹرز کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں، جبکہ پولیس کے مطابق مقدمے کی تفتیش جاری ہے۔

کھاریاں کے ایڈیشنل سیشن جج عمران خورشید نے پیر کو انسپیکٹر فہد الرحمٰن اور انسپیکٹر اعجاز احمد کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ سنایا۔ دونوں افسران پر الزام ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر زارا مجاہد کے قتل میں ملوث افراد کو سہولت فراہم کی۔

دفاعی وکیل قاضی ظفر اللہ خان ایڈووکیٹ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ دونوں پولیس افسران بے قصور ہیں اور انہیں محض شک کی بنیاد پر مقدمے میں شامل کیا گیا ہے۔ وکیل نے کہا کہ سیشن کورٹ کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔

زارا مجاہد قتل کیس کیا ہے؟

پولیس کے مطابق گجرات کے گاؤں چک سکندر سے تعلق رکھنے والی زارا مجاہد نے پسند کی شادی کی تھی اور مبینہ طور پر اپنے خاندان کے خوف کے باعث اپنے شوہر کے ہمراہ اسلام آباد منتقل ہو گئی تھیں۔

پولیس کی جانب سے درج ایف آئی آر کے مطابق زارا کو مبینہ طور پر 13 اور 14 مئی کی درمیانی شب چک سکندر میں قتل کیا گیا۔ پولیس کا الزام ہے کہ قتل کے بعد لاش کو ایک گاڑی کے ذریعے ضلع خانیوال کے علاقے جہانیاں منتقل کیا گیا، جہاں اسے دفن کر دیا گیا۔

ایف آئی آر کے مطابق لاش کی منتقلی اور تدفین کے عمل میں متعدد افراد نے مبینہ طور پر معاونت کی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے واقعے کے شواہد چھپانے کی کوشش کی۔

پولیس نے قتل کے تقریباً 27 روز بعد، 10 جون کو تھانہ صدر لالہ موسیٰ میں مقدمہ درج کیا۔ مقدمے میں قتل سمیت متعدد دفعات شامل کی گئیں اور نامزد و نامعلوم افراد کو ملزم قرار دیا گیا۔

مقدمے میں 17 افراد نامزد

ریجنل پولیس آفیسر گوجرانوالہ خرم شہزاد وڑائچ کے مطابق مقدمے میں مجموعی طور پر 17 افراد کو نامزد کیا گیا، جن میں 11 افراد کی شناخت کی گئی جبکہ چھ افراد کو ابتدا میں نامعلوم قرار دیا گیا۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق زارا کے والد مجاہد، بھائی احمد مرتضیٰ اور چچا عاطف رضا گرفتار ہو کر جیل منتقل ہو چکے ہیں، جبکہ دیگر ملزمان میں سے بعض عبوری ضمانت پر ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دو ملزمان اشتہاری قرار دیے جا چکے ہیں، جبکہ ایک شخص کے بیرون ملک فرار ہونے کی اطلاع ہے۔ آر پی او کے مطابق اس شخص کی گرفتاری کے لیے انٹرپول سے مدد لینے کا امکان ہے۔

پولیس زارا کی تدفین کا انتظام کرنے والے بعض افراد کے کردار کا بھی تعین کر رہی ہے۔

دو پولیس افسران کیوں گرفتار ہوئے؟

پولیس کے مطابق انسپیکٹر فہد الرحمٰن اور انسپیکٹر اعجاز احمد پر قتل میں مبینہ طور پر معاونت اور سہولت کاری کا الزام ہے۔

انسپیکٹر فہد الرحمٰن گرفتاری کے وقت تھانہ صدر گجرات میں ایس ایچ او تعینات تھے، جبکہ انسپیکٹر اعجاز احمد تھانہ ٹانڈہ میں ایس ایچ او کے طور پر خدمات انجام دے چکے تھے اور گرفتاری کے وقت ڈسٹرکٹ پولیس لائنز میں تعینات تھے۔

پنجاب کے کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) نے 21 ستمبر کو دونوں پولیس افسران کو حراست میں لیا۔

پولیس حکام کے مطابق ابتدائی محکمانہ انکوائری میں دونوں افسران کے کردار پر سوالات اٹھنے کے بعد انہیں معطل کیا گیا اور ان کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی شروع کی گئی۔

پولیس افسر کے مبینہ کردار سے متعلق تفتیشی دعویٰ

مقدمے کی تفتیشی ٹیم میں شامل ایک پولیس افسر کے مطابق ضمنی نمبر 44 میں دونوں انسپیکٹرز کو مبینہ طور پر ملزمان کی معاونت کا ذمہ دار قرار دیا گیا، جس کے بعد انہیں باقاعدہ گرفتار کیا گیا۔

تفتیشی افسر کے مطابق پولیس کو شبہ ہے کہ ایک انسپیکٹر نے زارا اور ان کے شوہر کو حراست میں لینے کے بعد خاتون کو اس کے خاندان کے حوالے کیا، جبکہ شوہر کی گرفتاری چوری کے ایک مقدمے میں ظاہر کی گئی۔

پولیس افسر کے مطابق زارا کے خاندان نے مبینہ طور پر اپنے داماد کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کرانے کے بجائے جنوری 2026 میں نامعلوم افراد کے خلاف چوری کا مقدمہ درج کرایا تھا۔

تفتیشی افسر کا دعویٰ ہے کہ اسی مقدمے کی بنیاد پر پولیس نے جوڑے کو حراست میں لیا اور بعد میں زارا کو مبینہ طور پر اس کے خاندان کے حوالے کر دیا۔

یہ دعوے پولیس تفتیش کا حصہ ہیں اور عدالت میں ان کی حتمی حیثیت کا تعین ہونا باقی ہے۔

مبینہ قتل کی اطلاع پولیس کو کب ملی؟

تفتیشی ٹیم کے رکن کے مطابق جون میں پولیس کو خفیہ ذرائع سے اطلاع ملی کہ زارا کو مبینہ طور پر قتل کر دیا گیا ہے۔

پولیس نے مبینہ طور پر خاندان سے زارا کو تھانے میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا، تاہم تفتیشی افسر کے مطابق خاندان ایسا کرنے میں ناکام رہا۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ دوسرے انسپیکٹر نے مبینہ طور پر خاندان کو مزید وقت حاصل کرنے میں سہولت فراہم کی۔

بعد ازاں پولیس نے زارا کی تلاش شروع کی اور تحقیقات کے دوران مبینہ قتل اور لاش کو دوسرے ضلع میں منتقل کیے جانے کے شواہد سامنے آنے کا دعویٰ کیا۔

آر پی او کا مؤقف

آر پی او گوجرانوالہ خرم شہزاد وڑائچ کے مطابق ابتدائی انکوائری میں دونوں پولیس افسران کا کردار مشتبہ پایا گیا، جس کے بعد ان کی گرفتاری اور محکمانہ کارروائی کی منظوری دی گئی۔

ان کا کہنا ہے کہ مقدمے میں ملوث کسی بھی نجی شخص کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، جبکہ اگر پولیس اہلکاروں کا کردار ثابت ہوا تو انہیں قانونی اور محکمانہ کارروائی دونوں کا سامنا کرنا ہوگا۔

پولیس حکام کے مطابق کسی بھی افسر کو اس مقدمے میں رعایت نہیں دی جائے گی۔

دفاع کا مؤقف

دفاعی وکیل قاضی ظفر اللہ خان نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ دونوں پولیس انسپیکٹرز قتل کی ایف آئی آر میں نامزد نہیں تھے اور انہیں بعد میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 120-B کے تحت شامل کیا گیا۔

وکیل کے مطابق دونوں افسران کو محض شک کی بنیاد پر مقدمے میں ملوث کیا گیا اور ان کے خلاف براہ راست کوئی عینی شاہد یا ٹھوس ثبوت موجود نہیں۔

دفاع کا کہنا ہے کہ پولیس کی کارروائی مبینہ طور پر سنی سنائی معلومات پر مبنی ہے اور دونوں افسران کا قتل سے کوئی تعلق نہیں۔

مقتولہ کے والد مجاہد، بھائی احمد مرتضیٰ اور چچا عاطف رضا کی جانب سے بھی ضمانت کی درخواستیں دائر کی جا چکی ہیں۔ ان کے وکلا نے بھی عدالت میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کے موکل قتل میں ملوث نہیں اور انہیں غلط طور پر مقدمے میں شامل کیا گیا ہے۔

مقدمے کی موجودہ صورتحال

عدالت کی جانب سے دونوں پولیس انسپیکٹرز کی ضمانت بعد از گرفتاری مسترد کیے جانے کے بعد دفاعی وکیل نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ادھر پولیس باقی ملزمان کی گرفتاری، مبینہ طور پر بیرون ملک فرار ہونے والے شخص کی تلاش اور قتل کے بعد لاش کی منتقلی و تدفین میں مبینہ طور پر معاونت کرنے والے افراد کے کردار کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔

مقدمے میں نامزد افراد کے خلاف عائد الزامات ابھی عدالت میں ثابت ہونا باقی ہیں اور تمام ملزمان کو قانونی طور پر جرم ثابت ہونے تک بے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔

Post Bottom Ad Panel