30 ستمبر 2026
گوجرانوالہ، پاکستان — گوجرانوالہ پولیس نے پانچ ماہ کی حاملہ بیوی کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے اور الٹراساؤنڈ میں بچی کی موجودگی کا علم ہونے کے بعد اسے حمل ضائع کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کے الزام میں شوہر کو گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق ملزم کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے اس کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا ہے۔ متاثرہ خاتون کا طبی معائنہ بھی کرایا گیا ہے اور پولیس کا کہنا ہے کہ میڈیکل رپورٹ سمیت دیگر شواہد کی بنیاد پر تفتیش آگے بڑھائی جائے گی۔
مبینہ تشدد 27 اور 28 ستمبر کی درمیانی شب ہوا
پولیس کے مطابق مبینہ تشدد کا واقعہ 27 اور 28 ستمبر کی درمیانی شب پیش آیا۔
مقدمہ تھانہ صدر گوجرانوالہ میں متاثرہ خاتون کے والد کی مدعیت میں درج کیا گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق خاتون کی شادی تقریباً چار سال قبل ملزم سے ہوئی تھی اور دونوں کی ایک سالہ بیٹی ہے۔ خاتون اس وقت تقریباً پانچ ماہ کی حاملہ ہیں۔
خاتون کے والد نے پولیس کو بتایا کہ 27 ستمبر کی رات ان کی بیٹی نے فون کرکے بتایا کہ اس کا شوہر مبینہ طور پر اسے تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے اور اس نے مدد کی درخواست کی۔
والد کے مطابق وہ اپنی اہلیہ اور بیٹے کے ہمراہ بیٹی کے سسرال پہنچے، جہاں خاتون زخمی حالت میں موجود تھیں۔
حمل ضائع کرنے کے لیے مبینہ دباؤ
ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملزم پہلی بیٹی کی پیدائش پر بھی خوش نہیں تھا۔
درخواست کے مطابق دوسرے حمل کے دوران الٹراساؤنڈ سے یہ معلوم ہونے پر کہ بچی کی پیدائش متوقع ہے، شوہر مبینہ طور پر ناراض ہوا اور اہلیہ پر حمل ضائع کرنے کے لیے دباؤ ڈالتا رہا۔
شکایت کے مطابق خاتون کے انکار پر ملزم نے مبینہ طور پر اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور حمل ضائع کرنے کی کوشش کی۔
متاثرہ خاتون نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ان کے شوہر پہلی بیٹی کی پیدائش پر بھی خوش نہیں تھے۔
ملزم کے اہلخانہ نے الزامات مسترد کر دیے
دوسری جانب ملزم کے اہلخانہ نے خاتون کی جانب سے عائد الزامات کو مسترد کیا ہے۔
اہلخانہ کا دعویٰ ہے کہ دونوں خاندانوں کے درمیان سکریپ کے کاروبار سے متعلق مالی تنازع چل رہا ہے اور اسی وجہ سے ملزم کو مبینہ طور پر جھوٹے مقدمے میں ملوث کیا گیا۔
ملزم کے اہلخانہ کے مطابق انہوں نے قانونی معاونت کے لیے وکیل مقرر کر لیا ہے اور وہ عدالت میں مقدمے کا دفاع کریں گے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش جاری ہے
گوجرانوالہ پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں خاتون کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ مالی لین دین کے تنازع سے متعلق دعوے کو بھی الگ سے دیکھا جا رہا ہے۔
پولیس نے بتایا کہ خاتون کا ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال سے طبی معائنہ کرایا گیا ہے اور میڈیکل رپورٹ کو تفتیش کا حصہ بنایا جائے گا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے کی تفتیش میرٹ پر کی جا رہی ہے اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
نوٹ: ملزم کے خلاف عائد الزامات تاحال عدالت میں ثابت نہیں ہوئے۔ ملزم کے اہلخانہ نے الزامات کی تردید کی ہے جبکہ مقدمے کی حتمی حیثیت پولیس تفتیش اور عدالتی کارروائی کے بعد واضح ہوگی۔