Post Main Ad Panel
Read in English مانسہرہ میں غیرت کے نام پر دوہرا قتل، مقتولین کے اپنے بھائی ہی مبینہ قاتل نکلے، پولیس کا بڑا دعویٰ

مانسہرہ میں غیرت کے نام پر دوہرا قتل، مقتولین کے اپنے بھائی ہی مبینہ قاتل نکلے، پولیس کا بڑا دعویٰ

3 ویوز
 

مانسہرہ، 13 اکتوبر: پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر مانسہرہ میں 6 اکتوبر کو مختلف علاقوں سے ایک مرد اور خاتون کی لاشیں ملنے کے بعد سامنے آنے والے دوہرے قتل کے واقعات میں پولیس نے اہم پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے۔ پولیس کے مطابق دونوں مقتولین کو مبینہ طور پر ان کے اپنے سگے بھائیوں نے غیرت کے نام پر قتل کیا، جبکہ ابتدائی طور پر درج مقدمات میں ایک دوسرے خاندان پر شبہ ظاہر کیا گیا تھا۔

مانسہرہ پولیس کے مطابق 27 سالہ گل نواز کے قتل میں ان کے بھائی امجد جبکہ 18 سالہ سمیرا بی بی کے قتل میں ان کے بھائی عابد کو مبینہ طور پر ملوث قرار دے کر گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس نے دونوں وارداتوں میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ڈسٹرکٹ پولیس افسر مانسہرہ محمد اظہر خان کے دفتر سے جاری بیان اور پولیس حکام کے مطابق دونوں واقعات کی تفتیش کے دوران مختلف شواہد سامنے آئے، جن کی بنیاد پر پولیس نے دونوں قتل کے مقدمات میں ملزمان کا سراغ لگایا۔


 چھے اکتوبر کو مختلف مقامات سے لاشیں برآمد

مانسہرہ میں 6 اکتوبر کو تھانہ سٹی اور تھانہ صدر کی حدود میں دو الگ الگ مقامات سے گل نواز اور سمیرا بی بی کی لاشیں ملنے کے بعد علاقے میں تشویش پھیل گئی تھی۔

دونوں افراد کے قتل کے مقدمات چند گھنٹوں کے فرق سے درج ہوئے۔ ابتدائی طور پر دونوں مقدمات میں مدعیان نے اپنے اپنے بیانات کی بنیاد پر قتل کے حوالے سے شبہات ظاہر کیے، تاہم بعد ازاں پولیس کی تفتیش میں ایک مختلف صورت حال سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا۔

پولیس کے مطابق دونوں واقعات بظاہر ایک دوسرے سے منسلک تھے اور ان کے پس منظر میں گل نواز اور سمیرا بی بی کے مبینہ تعلقات کا معاملہ سامنے آیا۔


سمیرا بی بی ایک ماہ سے لاپتہ تھیں، ایف آئی آر میں کیا کہا گیا؟

تھانہ صدر مانسہرہ میں 18 سالہ سمیرا بی بی کے قتل کا مقدمہ ان کے چچا زاد بھائی کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔

ایف آئی آر کے مطابق سمیرا بی بی گزشتہ تقریباً ایک ماہ سے لاپتہ تھیں اور ان کی گمشدگی کی رپورٹ پہلے ہی تھانہ سٹی میں درج کروائی جا چکی تھی۔

مدعی مقدمہ نے الزام عائد کیا تھا کہ اہلخانہ کو اپنے طور پر معلوم ہوا کہ سمیرا بی بی کی گل نواز نامی شخص سے دوستی تھی۔ ایف آئی آر میں یہ بھی کہا گیا کہ خاندان کو شبہ تھا کہ گل نواز نے سمیرا بی بی کو شادی کی غرض سے اغوا کر رکھا ہے۔

اسی معاملے پر دونوں خاندانوں کے درمیان جرگہ بھی ہوا تھا، جس میں سمیرا بی بی کی گمشدگی اور گل نواز کے ساتھ ان کے مبینہ تعلقات زیر بحث آئے۔

مقدمے کے مطابق 6 اکتوبر کو اہلخانہ کو اطلاع ملی کہ سمیرا بی بی کی لاش علاقے میں پڑی ہے، جس کے بعد رشتہ دار ان کی میت کو ہسپتال لے گئے۔

ایف آئی آر میں سمیرا بی بی کے سگے بھائی عابد پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ اس نے انہیں مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران اسی الزام کی مزید تحقیقات کی گئیں اور عابد کو گرفتار کر لیا گیا۔


گل نواز کے قتل کا مقدمہ اپنے بھائی کی مدعیت میں درج ہوا

دوسری جانب 27 سالہ گل نواز کے قتل کا مقدمہ بھی 6 اکتوبر کو تھانہ سٹی مانسہرہ میں ان کے بھائی کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔

ایف آئی آر کے مطابق گل نواز کی شادی تقریباً سات سال قبل ہوئی تھی اور ان کے تین بچے تھے۔ مقدمے کے مدعی نے دعویٰ کیا تھا کہ گل نواز کی گزشتہ پانچ سے چھ ماہ سے ایک خاتون سے دوستی تھی اور اسی معاملے کے باعث سمیرا بی بی اپنا گھر چھوڑ کر چلی گئی تھیں۔

مقدمے میں کہا گیا کہ بعد ازاں سمیرا بی بی کو سمجھا بجھا کر گھر واپس بھیج دیا گیا تھا۔ دونوں خاندانوں کے درمیان اس معاملے پر دو مرتبہ جرگے بھی ہوئے تھے، جبکہ 6 اکتوبر کو ایک اور جرگہ ہونا تھا۔

ایف آئی آر کے مطابق اسی روز دوپہر کے وقت گل نواز کے اہلخانہ کو اطلاع ملی کہ ان کی لاش سفیدہ کے مقام پر پڑی ہے۔

گل نواز کے قتل کے مقدمے میں ان کے بھائی نے سمیرا بی بی کے اہلخانہ میں سے کسی شخص پر قتل کا شبہ ظاہر کیا تھا۔ تاہم پولیس کے مطابق تفتیش کے دوران اس مقدمے میں بھی اہم انکشافات سامنے آئے اور گل نواز کے اپنے بھائی امجد کو مبینہ طور پر قتل میں ملوث قرار دیا گیا۔


پولیس کا دعویٰ، مقدمے کا رخ دوسرے خاندان کی جانب موڑنے کی کوشش کی گئی

تھانہ سٹی مانسہرہ کے تفتیشی افسر محمد شہزاد نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ جب ایک ہی روز گل نواز اور سمیرا بی بی کی لاشیں مختلف مقامات سے ملیں تو گل نواز کے قتل کے مقدمے میں سمیرا بی بی کے اہلخانہ پر شبہ ظاہر کیا گیا تھا۔

تفتیشی افسر کے مطابق تحقیقات کے دوران پولیس کو معلوم ہوا کہ گل نواز کے قتل میں ان کے بھائی امجد کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے۔ ان کے بقول، ابتدائی طور پر درج مقدمے میں بیان کیے گئے بعض حقائق بھی تفتیش کے دوران مشکوک پائے گئے۔

محمد شہزاد کے مطابق یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ سمیرا بی بی کو گھر واپس بھیج دیا گیا تھا، تاہم پولیس کی تحقیقات کے مطابق جرگوں اور خاندانی دباؤ کے بعد گل نواز نے سمیرا بی بی کو واپس بھیجا تھا، جہاں مبینہ طور پر ان کے بھائی عابد نے انہیں قتل کر دیا۔

پولیس حکام کے مطابق ان واقعات کی تفتیش کے دوران دونوں خاندانوں کے بیانات، دستیاب شواہد اور دیگر معلومات کا جائزہ لیا گیا، جس کے بعد دونوں مقتولین کے بھائیوں کو گرفتار کیا گیا۔


چھ روز میں دونوں ملزمان گرفتار کرنے کا دعویٰ

ڈسٹرکٹ پولیس افسر مانسہرہ محمد اظہر خان کے مطابق پولیس نے دستیاب شواہد کی مدد سے چھ روز کے اندر دونوں قتل کے مقدمات میں مبینہ ملزمان کا سراغ لگا کر انہیں گرفتار کیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کے قبضے سے وارداتوں میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے۔ تاہم اسلحے کی فرانزک رپورٹ، دیگر شواہد اور مقدمات کی عدالتی پیش رفت سے متعلق تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔

دونوں مقدمات میں قتل کے الزامات کی حتمی قانونی حیثیت کا تعین عدالت میں پیش کیے جانے والے شواہد اور عدالتی کارروائی کے بعد ہوگا۔


غیرت کے نام پر قتل، ایک سنگین سماجی اور قانونی مسئلہ

مانسہرہ کے ان دو واقعات نے ایک بار پھر نام نہاد غیرت کے نام پر قتل جیسے سنگین مسئلے کو اجاگر کیا ہے۔ پولیس کے مطابق دونوں خاندانوں کے درمیان تعلقات کے معاملے پر متعدد جرگے ہوئے، جبکہ بعد ازاں دونوں افراد کی جان چلی گئی۔

قانونی طور پر قتل کے مقدمات میں ملزمان کی گرفتاری الزام ثابت ہونے کے مترادف نہیں ہوتی۔ عدالت شواہد، گواہوں کے بیانات اور متعلقہ قانونی تقاضوں کی روشنی میں فیصلہ کرتی ہے۔

 

 

Post Bottom Ad Panel