اکتوبر، اوناگاوا، جاپان — یاسوو تاکاماتسو گزشتہ 13 برس سے اپنی اہلیہ یوکو کو تلاش کر رہے ہیں، جو 2011 میں جاپان کے شمال مشرقی ساحل پر آنے والے سونامی کے بعد لاپتا ہو گئی تھیں۔
تاکاماتسو تقریباً ہر ماہ دو مرتبہ اوناگاوا کی بندرگاہ سے کشتی کے ذریعے سمندر میں جاتے ہیں۔ وہ غوطہ خوری کا سامان پہن کر پانی میں اترتے ہیں اور اپنی اہلیہ کے ممکنہ سراغ کی تلاش کرتے ہیں۔
وہ اب تک 760 سے زیادہ غوطے لگا چکے ہیں۔
"مجھے محسوس ہوتا تھا کہ اگر میں غوطے لگاتا رہوں تو ایک دن اپنی اہلیہ سے ضرور مل سکوں گا،" تاکاماتسو نے کہا۔
سونامی کے دن کیا ہوا؟
11 مارچ 2011 کو جاپان میں شدید زلزلے کے بعد آنے والے سونامی نے شمال مشرقی ساحلی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی تھی۔
اس روز تاکاماتسو نے صبح اپنی اہلیہ کو ان کے بینک پہنچایا تھا۔ دونوں نے راستے میں رات کے کھانے کے بارے میں بات کی۔
سونامی کی وارننگ جاری ہونے کے بعد یوکو اپنے 12 ساتھیوں کے ساتھ بینک کی عمارت کی چھت پر چلی گئیں۔
وہاں سے انہوں نے اپنے شوہر کو ایک مختصر پیغام بھیجا:
"کیا آپ محفوظ ہیں؟ میں گھر جانا چاہتی ہوں۔"
تاکاماتسو نے کہا کہ اس پیغام کے بعد انہیں یقین تھا کہ یوکو محفوظ ہیں۔
لیکن اگلے روز جب وہ ایک میونسپل ہسپتال پہنچے، جہاں سونامی سے بچ جانے والے افراد کو رکھا گیا تھا، تو یوکو وہاں موجود نہیں تھیں۔
بعد میں انہیں بتایا گیا کہ ان کی اہلیہ سونامی کے بعد لاپتا ہو گئی تھیں۔
"اس کے بعد میں کھڑا بھی نہیں ہو سکا۔ میری ٹانگوں سے ساری طاقت ختم ہو گئی تھی،" انہوں نے کہا۔
دو برس بعد خود غوطہ خوری شروع کی
سونامی کے بعد ساحلی علاقوں میں لاپتا افراد کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی گئیں۔ یوکو کی باقیات بھی تلاش کی گئیں، لیکن وہ کبھی نہیں ملیں۔
تاکاماتسو نے تقریباً دو برس تک جاپانی کوسٹ گارڈ کے غوطہ خوروں کو سمندر میں تلاش کرتے دیکھا۔
اس کے بعد انہوں نے خود غوطہ خوری سیکھنے کا فیصلہ کیا۔
تب سے وہ باقاعدگی سے سمندر میں اتر رہے ہیں۔
تاکاماتسو کہتے ہیں کہ شروع میں ان کا مقصد اپنی اہلیہ کو تلاش کرنا تھا، لیکن وقت کے ساتھ یہ غوطہ خوری ان کے لیے یوکو کو یاد کرنے کا ایک طریقہ بھی بن گئی۔
"بار بار غوطے لگانے کے بعد مجھے محسوس ہونے لگا کہ شاید وہ کہیں قریب ہی ہیں،" انہوں نے کہا۔
"یہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے میں ان سے ملنے جا رہا ہوں۔"
ملبہ دیکھ کر اہلیہ کا خیال آتا ہے
غوطہ خوری کے دوران تاکاماتسو کو سونامی کے بعد سمندر کی تہہ میں رہ جانے والا ملبہ بھی نظر آتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے مواقع پر انہیں اپنی اہلیہ کا خیال آتا ہے۔
"جب میں ملبہ دیکھتا ہوں تو میرے ذہن میں آتا ہے کہ میری اہلیہ اس سب کے درمیان سے واپس اوپر نہیں آ سکی ہوں گی،" انہوں نے کہا۔
تاہم تاکاماتسو کا کہنا ہے کہ وہ سمندر سے نفرت نہیں کرتے۔
"اُس وقت سونامی آیا تھا اور سمندر بہت طوفانی تھا۔ لیکن دوسری طرف یہ بہت سی لذیذ نعمتیں بھی فراہم کرتا ہے اور اس کے مناظر بھی بہت خوبصورت ہیں،" انہوں نے کہا۔
13 برس گزرنے کے باوجود یوکو کی باقیات نہیں مل سکیں۔ تاکاماتسو کا کہنا ہے کہ وہ اس کے باوجود سمندر میں اپنی تلاش جاری رکھیں گے۔