Post Main Ad Panel
Read in English خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ: صوبے بھر میں انٹرنیٹ سروسز معطل، بڑے پیمانے پر گرفتاریاں اور پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت پر سیاسی تنقید

خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ: صوبے بھر میں انٹرنیٹ سروسز معطل، بڑے پیمانے پر گرفتاریاں اور پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت پر سیاسی تنقید

10 ویوز

پشاور: 11 اکتوبر (ڈیجیٹل اطلاع): خیبر پختونخوا میں امن و امان کی سیاسی و انتظامی صورتحال کے پیش نظر وفاقی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 234 کے تحت صوبے میں گورنر راج نافذ کر دیا گیا ہے۔ آئینی التوا کے اس اقدام کے ساتھ ہی انتظامیہ نے سیکیورٹی خدشات اور احتجاجی لہر کو روکنے کے لیے پشاور سمیت صوبے کے تمام اضلاع میں موبائل اور باقاعدہ انٹرنیٹ سروسز کو مکمل طور پر معطل کر دیا ہے، جس کے باعث عوام اور میڈیا کو رابطوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

ذرائع کے مطابق گورنر راج کے نفاذ کے فوراً بعد صوبائی دارالحکومت اور دیگر حساس اضلاع میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے ہنگامی بنیادوں پر تحرک شروع کر دیا ہے۔ انتظامیہ نے امن و امان کی خرابی، شاہراہوں کی بندش اور احتجاجی مظاہروں میں پیش پیش درجنوں سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو نقصِ امن عامہ کے تحت حراست میں لے کر مختلف جیلوں اور تھانوں میں منتقل کر دیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گورنر ہاؤس، وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ، صوبائی اسمبلی اور اہم سرکاری تنصیبات کے گردونواح میں نفری کو الرٹ کر کے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔

سیاسی و تاریخی منظرنامے میں اپوزیشن اور سیاسی تجزئیہ نگار اس پیش رفت کو پیپلز پارٹی اور موجودہ وفاقی ائتلاف کے فیصلے کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ تاریخی طور پر پیپلز پارٹی کی حکومتوں کے ادوار میں یہ صوبہ خیبر پختونخوا میں نافذ کیا جانے والا تیسرا گورنر راج بن چکا ہے (جس سے قبل 1975ء اور 1994ء کے سیاسی بحرانوں میں بھی اسی قسم کے اقدامات اٹھائے گئے تھے)۔ اپوزیشن اور مقامی قیادت کی جانب سے اس فیصلے کو جمہوری اقدار پر حملہ قرار دیتے ہوئے سخت ردِعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ حکومت کا موقف ہے کہ صوبائی آئینی مشینری کی ناکامی اور سیکیورٹی کی سنگین ہوتی صورتحال کے باعث یہ قدم اٹھانا ناگزیر ہو گیا تھا۔

گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے کے تمام انتظامی اختیارات گورنر خیبر پختونخوا کے سپرد کر دیے گئے ہیں، جنہوں نے چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کو تمام اضلاع میں ریڈ الرٹ برقرار رکھنے اور عوام کے جان و مال کی حفاظت کو ہر صورت یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ انٹرنیٹ کی معطلی کے باعث ہسپتالوں، تجارتی مراکز اور آن لائن بینکنگ کی سہولیات بھی سخت متأثر ہوئی ہیں اور حالات نارمل ہونے تک یہ پابندیاں برقرار رہنے کا امکان ہے۔

 

Post Bottom Ad Panel