Post Main Ad Panel
Read in English فیصل آباد: ایف ڈی اے کا رہائشی کالونیوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کرنے کا فیصلہ

فیصل آباد: ایف ڈی اے کا رہائشی کالونیوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کرنے کا فیصلہ

60 ویوز

فیصل آباد، 29 ستمبر 2026ء (ڈیجیٹل اطلاع) — ہینڈ آؤٹ نمبر 1401 کے مطابق، ڈائریکٹر جنرل فیصل آباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی (FDA) محمد آصف چوہدری کی خصوصی ہدایت پر ایف ڈی اے کے زیر کنٹرول رہائشی کالونیوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کے خلاف جاری مہم کو مزید تیز کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں انفورسمنٹ ٹیموں کو سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ کمرشلائزیشن پالیسی پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں اور رہائشی جائیدادوں کے تجارتی استعمال پر مقررہ واجبات و جرمانوں کی وصولی کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔

ان امور میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف ڈی اے قیصر عباس رند کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈائریکٹرز ٹاؤن پلاننگ اسماء محسن، افنان سعید سندھو، ڈائریکٹر اسٹیٹ مینجمنٹ ون جنید حسن منج، ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس عدنان شہزاد، ڈپٹی ڈائریکٹر آئی ٹی عبداللہ نور اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل نے کچی آبادیوں سمیت ایف ڈی اے کے زیر کنٹرول تمام رہائشی کالونیوں میں غیر قانونی کمرشل سرگرمیوں کے خلاف جاری کارروائیوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ رہائشی جائیدادوں کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے معاملات میں کسی قسم کی محکمانہ نرمی یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کمرشلائزیشن کے لیے موصول ہونے والی درخواستوں کو تیز رفتاری سے نمٹایا جائے اور درخواست گزاروں کو مکمل معاونت فراہم کی جائے تاکہ وہ قواعد و ضوابط کے مطابق اپنی جائیدادوں کو قانونی شکل دے سکیں۔

قیصر عباس رند نے کہا کہ غیر قانونی کمرشل سرگرمیوں کی روک تھام کے ساتھ ساتھ قانونی تقاضے پورے کرنے والے پراپرٹی مالکان کو سہولت فراہم کرنا بھی ایف ڈی اے کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ اس مقصد کے لیے تمام متعلقہ شعبوں کے مابین باہمی تعاون کو مزید بہتر بنایا جائے تاکہ جانچ پڑتال، واجبات کے تعین اور منظوری کے مراحل میں تاخیر کا خاتمہ ہو سکے۔ انہوں نے فیلڈ سروے اور مانیٹرنگ کا عمل مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی تاکہ پالیسی کی خلاف ورزی کرنے والی جائیدادوں کی فوری نشاندہی کر کے نوٹسز جاری کیے جا سکیں اور سرکاری واجبات کی وصولی کو یقینی بنایا جا سکے۔

Post Bottom Ad Panel