Post Main Ad Panel
Read in English الائیڈ ہسپتال ٹو میں ذہنی صحت سے متعلق عالمی دن پر سیمینار اور آگاہی واک: پاکستان میں ڈھائی سے سوا تین کروڑ افراد ذہنی مسائل کا شکار، وائس چانسلر ایف ایم یو اور ماہرین نفسیات کی تشویش کا اظہار

الائیڈ ہسپتال ٹو میں ذہنی صحت سے متعلق عالمی دن پر سیمینار اور آگاہی واک: پاکستان میں ڈھائی سے سوا تین کروڑ افراد ذہنی مسائل کا شکار، وائس چانسلر ایف ایم یو اور ماہرین نفسیات کی تشویش کا اظہار

10 ویوز

فیصل آباد: 12 اکتوبر (ڈیجیٹل اطلاع): الائیڈ ہسپتال ٹو میں ذہنی صحت سے متعلق آگاہی کے عالمی دن کے حوالے سے ایک پروقار سیمینار اور آگاہی واک کا اہتمام کیا گیا۔ تقریب میں وائس چانسلر فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی (ایف ایم یو) پروفیسر ڈاکٹر سید اصغر علی نقی نے بطورِ مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ نامور ماہر نفسیات پروفیسر ڈاکٹر امتیاز احمد ڈوگر، ڈاکٹر مقصود، ڈاکٹر ظفر علی، ڈاکٹر محی الدین، ڈاکٹر شاہد، ڈاکٹر غلام مصطفی سمیت دیگر ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل اسٹاف، نرسز اور طلبا و طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معروف ماہر نفسیات پروفیسر ڈاکٹر امتیاز احمد ڈوگر نے انکشاف کیا کہ پاکستان میں تقریباً سوا تین کروڑ لوگ ذہنی صحت کے مختلف مسائل سے دوچار ہیں جو کہ ایک انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔ انہوں نے نوجوان نسل میں موبائل فون کا روزانہ 8 سے 10 گھنٹے مسلسل استعمال اور منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان کو ذہنی امراض کی بڑی وجوہات قرار دیا۔ انہوں نے خصوصی طور پر خبردار کیا کہ نوجوانوں میں خطرناک نشے "آئس" کا استعمال تیزی سے پھیل رہا ہے، اس لیے والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو موبائل فون کے بے جا استعمال اور منشیات کی لعنت سے بچانے کے لیے کڑی نظر رکھیں۔

اس موقع پر وائس چانسلر فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر سید اصغر علی نقی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایک صحت مند اور پائیدار معاشرے کی تشکیل کے لیے ذہنی صحت کا تندرست ہونا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ملک بھر کے ہسپتالوں میں ذہنی امراض کے وارڈز، بیڈز اور مخصوص اسپیشلٹیز کی شدید قلت پائی جاتی ہے، جسے دور کرنے کے لیے جامع اقدامات اور کوششیں کی جا رہی ہیں۔

تقریب کے اختتام پر شرکاء نے ذہنی صحت کی اہمیت، قلبی و دماغی سکون اور عوامی بیداری کو اجاگر کرنے کے لیے ہسپتال احاطے میں ایک پروقار آگاہی واک بھی کی۔

Post Bottom Ad Panel