امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے نیویارک کی ایک 35 سالہ خاتون کو ریاستی کیپیٹل عمارت میں بم دھماکے کے ذریعے قانون سازوں کو قتل کرنے کی مبینہ منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔
استغاثہ کے مطابق جیسیکا بووی نے ماضی میں شدت پسند تنظیم داعش سے وابستگی اختیار کی تھی اور ان پر ایک غیر ملکی دہشت گرد تنظیم کو مادی معاونت فراہم کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق جیسیکا نے مبینہ حملے کی تیاری کے لیے کیپیٹل عمارت کا کئی مرتبہ معائنہ کیا اور وہاں ممکنہ اہداف کا جائزہ لیا۔ تحقیقات کے دوران خفیہ ایف بی آئی ایجنٹس نے مبینہ طور پر انہیں ایک جعلی بم اور ناکارہ پستول بھی فراہم کی۔
استغاثہ کا الزام ہے کہ جیسیکا نے خفیہ ایجنٹس سے کہا کہ وہ عمارت کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا اور سینیٹرز کو قتل کرنا چاہتی ہیں۔ مبینہ طور پر انہوں نے اس عمارت کو وائٹ ہاؤس کے مقابلے میں آسان ہدف قرار دیا۔
حکام کے مطابق جیسیکا کا مبینہ منصوبہ تھا کہ بم کو کھانا ڈیلیور کرنے والے بیگ میں چھپایا جائے۔ عدالتی دستاویزات میں اس بیگ کی تصویر بھی شامل ہے جو مبینہ طور پر انہوں نے خفیہ ایجنٹس کو دکھائی تھی۔
استغاثہ کے مطابق ایف بی آئی کے خفیہ اہلکاروں نے انہیں بم کی تیاری میں استعمال ہونے والا سامان خریدنے کے لیے 200 ڈالر بھی دیے۔ اہلکار مبینہ طور پر انہیں ایک ہارڈویئر اسٹور تک بھی لے گئے، جہاں سے انہوں نے مختلف سامان خریدا۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق گرفتاری کے وقت جیسیکا کے پاس چھریاں اور داعش سے وفاداری کا تحریری بیان بھی موجود تھا۔
ایف بی آئی کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی دستاویزات میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ جیسیکا سوشل میڈیا پر امریکہ مخالف مواد پوسٹ کرتی تھیں۔ حکام کے مطابق انہوں نے ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں کے حوالے سے بھی مبینہ طور پر تعریفی پوسٹس کی تھیں۔
دستاویزات کے مطابق جیسیکا نے خفیہ ایجنٹس کو بتایا کہ انہوں نے تقریباً پانچ سال قبل اسلام قبول کیا تھا اور 11 ستمبر کے حملوں کے بعد ان کے خیالات میں نمایاں تبدیلی آئی۔
جیسیکا بووی نے اپنے خلاف عائد الزامات پر کیا مؤقف اختیار کیا ہے، یہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا۔
نیویارک کی گورنر کیتھی ہوچل نے ایف بی آئی اور نیویارک پولیس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تحقیقات کے ذریعے ایک خطرناک فرد کو گرفتار کیا