میساچوسٹس، امریکہ — امریکی ریاست میساچوسٹس میں اپنے تین بچوں کے قتل کے الزام کا سامنا کرنے والی لنڈسے کلینسی کے مقدمے میں ان کے سابق شوہر نے عدالت کو بتایا ہے کہ بچوں کی ہلاکت سے قبل وہ شدید ذہنی دباؤ اور ذہنی صحت کے مسائل سے گزر رہی تھیں۔
36 سالہ کلینسی پر جنوری 2023 میں اپنی پانچ سالہ بیٹی کورا، تین سالہ بیٹے ڈاسن اور آٹھ ماہ کے بیٹے کالن کو قتل کرنے کے الزام میں فرسٹ ڈگری قتل کے تین مقدمات قائم ہیں۔
کلینسی نے بچوں کی ہلاکت میں اپنے کردار سے انکار نہیں کیا، تاہم ان کے وکلا کا مؤقف ہے کہ وہ شدید ذہنی بیماری، بالخصوص مبینہ طور پر پوسٹ پارٹم سائیکوسس، کا شکار تھیں اور اس کیفیت کے باعث انہیں اپنے اقدامات کے لیے قانونی طور پر ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے۔
استغاثہ کا کہنا ہے کہ کلینسی نے بچوں کو جان بوجھ کر قتل کیا اور واقعے کے وقت انہیں اپنے اقدامات کے نتائج کا ادراک تھا۔
اگر جیوری انہیں مجرم قرار دیتی ہے تو انہیں بغیر پیرول کے عمر قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
بچوں کی ہلاکت کا واقعہ
استغاثہ کے مطابق 24 جنوری 2023 کو کلینسی نے ڈکسبری، میساچوسٹس میں واقع اپنے گھر میں تینوں بچوں کو فٹنس ایکسرسائز بینڈز کے ذریعے گلا گھونٹ کر قتل کیا۔
اس کے بعد انہوں نے مبینہ طور پر خودکشی کی کوشش کرتے ہوئے گھر کی دوسری منزل کی کھڑکی سے چھلانگ لگا دی۔
گرنے کے نتیجے میں کلینسی شدید زخمی ہوئیں اور انہیں مستقل طور پر وہیل چیئر استعمال کرنا پڑتی ہے۔ وہ مقدمے کی سماعت میں بھی وہیل چیئر کے ذریعے شریک ہو رہی ہیں۔
عدالت میں مقدمے کی کارروائی کے دوران ایک موقع پر کلینسی اس وقت آبدیدہ ہو گئیں جب ان کے سابق شوہر پیٹرک کلینسی کی 911 پر کی گئی ہنگامی کال کی ریکارڈنگ چلائی گئی۔
پیٹرک نے اس وقت پولیس کو بتایا تھا کہ ان کی اہلیہ نے بچوں کو قتل کر دیا ہے۔
سابق شوہر کی گواہی
پیٹرک کلینسی نے عدالت کو بتایا کہ ان کی سابق اہلیہ کی ذہنی صحت بچوں کی ہلاکت سے تقریباً ایک ماہ قبل تیزی سے خراب ہونا شروع ہوئی تھی۔
ان کے مطابق کلینسی کا وزن تیزی سے کم ہو رہا تھا، وہ شدید افسردگی کا شکار تھیں اور ایک انتہائی مشکل دور سے گزر رہی تھیں۔
پیٹرک نے بتایا کہ کلینسی نے مختلف مواقع پر طبی ماہرین سے مدد حاصل کی اور مختلف ادویات بھی استعمال کیں۔ ان کے مطابق ان کی سابق اہلیہ نے خودکشی کے خیالات کا بھی ذکر کیا تھا۔
واقعے کے روز پیٹرک کے مطابق وہ کھانا اور دوائیں لینے کے لیے گھر سے باہر گئے تھے۔ اس وقت ان کا بیٹا ڈاسن صوفے پر بیٹھا چکن نگٹس کھا رہا تھا۔
گھر واپس پہنچنے پر انہوں نے تینوں بچوں کو مردہ حالت میں پایا۔
دفاع کا مؤقف: ذہنی بیماری نے کردار ادا کیا
کلینسی کے وکلا کا کہنا ہے کہ وہ بچوں کی ہلاکت کے وقت شدید ذہنی خلل کا شکار تھیں۔
دفاع کے مطابق تیسرے بچے کی پیدائش کے بعد کلینسی کو فریبِ نظر اور وہم سمیت ذہنی علامات کا سامنا تھا۔ وکلا کا کہنا ہے کہ ان کی ذہنی حالت اس حد تک خراب ہو گئی تھی کہ وہ حقیقت اور غیر حقیقی تصورات میں فرق کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھی تھیں۔
دفاعی وکیل کیون ریڈنگٹن نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ کلینسی ذہنی بیماری کے علاج کے لیے ادویات لے رہی تھیں اور واقعے سے قبل انہیں ذہنی صحت کے حوالے سے طبی مدد بھی فراہم کی گئی تھی۔
دفاع نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ کلینسی نے بچوں کو قتل کرنے کے وقت اپنی ذہنی بیماری کے باعث اپنے اقدامات کی نوعیت اور نتائج کو مکمل طور پر سمجھنے کی صلاحیت کھو دی تھی۔
پوسٹ پارٹم سائیکوسس کیا ہے؟
پوسٹ پارٹم سائیکوسس ایک نایاب لیکن سنگین ذہنی کیفیت ہے جو بعض خواتین میں بچے کی پیدائش کے بعد پیدا ہو سکتی ہے۔
اس میں شدید ذہنی الجھن، فریبِ نظر، وہم، بے خوابی، اضطراب اور حقیقت سے رابطہ کمزور ہونے جیسی علامات سامنے آ سکتی ہیں۔ انتہائی شدید صورتوں میں متاثرہ شخص اپنے یا دوسروں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
کلینسی کے وکلا کا کہنا ہے کہ ان کی مؤکلہ میں ایسی علامات موجود تھیں اور انہیں واقعے سے قبل ذہنی صحت کی مدد بھی حاصل تھی۔
تاہم استغاثہ کے ماہرین نے اس تشخیص اور اس کے قانونی اثرات پر اختلاف کیا ہے۔
ماہرین کی گواہی میں اختلاف
مقدمے کے دوران دفاع اور استغاثہ کی جانب سے متعدد ماہرین نے کلینسی کی ذہنی حالت کے بارے میں گواہی دی۔
کلینسی کی ماہرِ نفسیات جینیفر ٹفٹس، جنہوں نے کئی ماہ کے دوران ان کا متعدد بار معائنہ کیا تھا، نے استغاثہ کی جانب سے گواہی دیتے ہوئے کہا کہ ان ملاقاتوں کے دوران انہیں ایسی سنگین علامات نظر نہیں آئیں جن سے یہ ظاہر ہوتا کہ کلینسی خود یا کسی دوسرے شخص کے لیے فوری خطرہ تھیں۔
دفاع نے ٹفٹس کے طبی نوٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان میں کلینسی کو دباؤ کا شکار قرار دیا گیا تھا۔
ٹفٹس نے تاہم وضاحت کی کہ ان کے نوٹس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ کلینسی نفسیاتی عارضے میں مبتلا تھیں۔
استغاثہ کے ایک اور ماہرِ نفسیات ایورم میک نے بھی پوسٹ پارٹم سائیکوسس کی تشخیص اور اسے ایک باضابطہ طبی بیماری تسلیم کیے جانے کے معاملے پر دفاع سے اختلاف کیا۔
استغاثہ کا مؤقف: قتل منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا
استغاثہ کا کہنا ہے کہ کلینسی نے اپنے بچوں کو قتل کرنے کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا تھا۔
پراسیکیوٹر جینیفر سپریگ نے عدالت کو بتایا کہ کلینسی واقعے کے وقت درست اور غلط میں فرق کرنے کی صلاحیت رکھتی تھیں اور انہیں اپنے اقدامات کے نتائج کا علم تھا۔
استغاثہ کے مطابق واقعے کی زمانی ترتیب بھی اس مؤقف کی حمایت کرتی ہے کہ کلینسی نے اپنے شوہر کے گھر سے نکلنے کے بعد بچوں کو قتل کیا۔
استغاثہ کا مزید کہنا ہے کہ شوہر کو گھر سے باہر بھیجنے کے بعد بچوں کو قتل کرنا اس بات کی علامت ہو سکتا ہے کہ یہ اقدام پہلے سے سوچا سمجھا تھا۔
دفاع اس تشریح سے اختلاف کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا ہے کہ کلینسی کے اقدامات کو ان کی شدید ذہنی بیماری کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
خاندان نے ذہنی صحت کے مسائل کی تصدیق کی
مقدمے میں کلینسی کے خاندان کے متعدد افراد نے بھی گواہی دی ہے۔
ان کی سابقہ ساس سوسن کلینسی نے عدالت کو بتایا کہ کلینسی مدد کی شدید ضرورت محسوس کر رہی تھیں۔ ان کے مطابق وہ بے خوابی، بھوک میں کمی، پریشانی اور شدید اداسی کا شکار تھیں۔
کلینسی کی والدہ پاؤلا مسگرو نے گواہی دی کہ ان کی بیٹی نے بچوں کی ہلاکت سے تقریباً ایک ماہ قبل انہیں اور اپنے سابق شوہر کو بتایا تھا کہ انہیں بچوں کو نقصان پہنچانے کے خیالات آ رہے ہیں۔
ان کی بہن ایلیسن اوزگا نے بھی عدالت کو بتایا کہ کلینسی واقعے سے تقریباً ایک ماہ قبل روزانہ خودکشی کے بارے میں سوچتی تھیں۔
مقدمے نے عوام کی توجہ حاصل کی
مقدمے نے امریکہ میں خاصی توجہ حاصل کی ہے اور عدالتی کارروائی کو بڑی تعداد میں لوگوں نے دیکھا ہے۔
کلینسی کے حامیوں کا ایک گروپ بھی کئی ہفتوں تک عدالت کے باہر موجود رہا۔ بعض خواتین نے ایسی شرٹس پہن رکھی تھیں جن پر کلینسی کو مدد کی ضرورت ہونے کے پیغامات درج تھے۔
دوسری جانب متاثرہ بچوں کے قتل کے باعث مقدمے نے شدید جذباتی ردعمل بھی پیدا کیا ہے۔
پیٹرک کلینسی کے بارے میں سوشل میڈیا پر بعض سازشی دعوے بھی سامنے آئے، تاہم تفتیش کاروں نے انہیں اس واقعے میں مشتبہ قرار نہیں دیا۔
فیصلہ جیوری کرے گی
مقدمے کا بنیادی قانونی سوال یہ ہے کہ بچوں کی ہلاکت کے وقت کلینسی ذہنی طور پر اپنے اقدامات کی نوعیت اور نتائج کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتی تھیں یا نہیں۔
دفاع انہیں شدید ذہنی بیماری کا شکار قرار دے رہا ہے، جبکہ استغاثہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اقدامات کی ذمہ دار تھیں اور انہوں نے بچوں کو جان بوجھ کر قتل کیا۔
اب جیوری شواہد، طبی ماہرین کی گواہی اور دونوں فریقوں کے دلائل کا جائزہ لے گی۔ مقدمے کا حتمی فیصلہ جیوری کے فیصلے کے بعد سامنے آئے گا۔