’ہم بھی محبت اور سیکس چاہتے ہیں‘: معذور افراد کے لیے ڈیٹنگ ایپ مقبول ہونے لگی
ڈیٹ ایبلٹی معذور افراد کو رومانوی تعلقات، دوستی اور قربت کے لیے محفوظ اور قبولیت پر مبنی پلیٹ فارم فراہم کر رہی ہے
جدید ڈیٹنگ ایپس نے لوگوں کے لیے شریکِ حیات یا رومانوی ساتھی تلاش کرنے کا طریقہ بدل دیا ہے، لیکن معذور افراد اور دائمی بیماریوں کے ساتھ زندگی گزارنے والے کئی افراد کا کہنا ہے کہ عام ڈیٹنگ پلیٹ فارمز پر انہیں امتیازی سلوک اور غلط تصورات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اسی صورتحال کے باعث ہزاروں افراد اب ’ڈیٹ ایبلٹی‘ (Dateability) جیسے پلیٹ فارمز کا رخ کر رہے ہیں، جسے خصوصی طور پر معذور افراد اور دائمی بیماریوں کے ساتھ زندگی گزارنے والوں کے لیے بنایا گیا ہے۔
برسٹل سے تعلق رکھنے والے 29 سالہ ڈین چارڈ، جو فالج کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، کہتے ہیں کہ عام ڈیٹنگ ایپس پر لوگ انہیں انسان کے طور پر جاننے سے پہلے ان کی معذوری کو دیکھتے ہیں۔
ان کے مطابق انہیں ایسے تجربات بھی ہوئے جہاں لوگوں نے ان کے فالج کے بارے میں جاننے کے بعد رابطہ ختم کر دیا یا انہیں صرف معذوری کی بنیاد پر جانچا۔
چارڈ کے لیے ڈیٹ ایبلٹی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ انہیں اپنی معذوری کے بارے میں کب اور کیسے بتانا ہے، اس دباؤ کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ تصور کہ معذور افراد رومانوی تعلقات یا قربت نہیں چاہتے، بالکل غلط ہے۔ ان کے مطابق معذور افراد کے بھی محبت، تعلقات اور زندگی کے بارے میں وہی خواب اور خواہشات ہوتی ہیں جو دوسرے لوگوں کی ہوتی ہیں۔
ڈیٹنگ میں اضافی مشکلات

چیلٹنہم سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ ڈینیئل پیک کو 10 سال قبل آٹزم کی تشخیص ہوئی تھی۔ ان کے مطابق رابطہ قائم کرنا، آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا اور نئے ماحول میں خود کو ایڈجسٹ کرنا ان کے لیے مشکل ہوسکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ڈیٹنگ کے لیے پہلے سے تیاری اور منصوبہ بندی ضروری ہے تاکہ انہیں معلوم ہو کہ ملاقات کہاں، کب اور کس طرح ہوگی۔
پیک کے مطابق ڈیٹ ایبلٹی نے انہیں اپنی معذوری کے بارے میں زیادہ کھل کر اور ایمانداری سے بات کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔
ٹانٹن سے تعلق رکھنے والے 43 سالہ ٹام لوئس، جو فالج کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، نے بھی کہا کہ ایپ نے انہیں ہم خیال لوگوں سے رابطہ کرنے میں مدد دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایپ ان کے لیے خاص طور پر اس لیے بھی مددگار ہے کیونکہ وہ ہم جنس پرست ہیں۔
ڈیٹنگ ایپ سے شادی تک کا سفر
ڈیٹ ایبلٹی کے ذریعے امریکہ میں مقیم کولن اور کیسی لافون کی ملاقات ہوئی اور بعد میں دونوں نے شادی کرلی۔
کیسی کے مطابق اس ایپ نے انہیں دنیا میں اپنا بہترین دوست تلاش کرنے کا موقع دیا۔
کولن نے کہا کہ ان کی ملاقات نے صحت اور طبی مسائل سے متعلق مشکل گفتگو کو ایک دوسرے کو سمجھنے اور سننے کے عمل میں تبدیل کردیا۔
ان کے مطابق شروع ہی سے ان کے درمیان ایک گہرا تعلق قائم ہوگیا اور ان کا رشتہ دونوں کی طبی صورتحال کے ساتھ آگے بڑھا۔
معذوری سے متعلق معاشرتی تصورات کو چیلنج کرنا
ڈیٹ ایبلٹی کی شریک بانی جیکولین چائلڈ کے مطابق معذور افراد اور دائمی بیماریوں کے ساتھ زندگی گزارنے والے افراد کو عام ڈیٹنگ ایپس پر اکثر تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ معاشرے میں اب بھی یہ تصور پایا جاتا ہے کہ معذور افراد سیکس یا رومانوی تعلقات نہیں چاہتے۔
جیکولین اور ان کی بہن الیکسا چائلڈ نے 2022 میں ڈیٹ ایبلٹی شروع کی تھی۔ ان کا مقصد معذوری اور قربت جیسے موضوعات سے جڑی سماجی جھجھک اور ممنوع تصورات کو کم کرنا ہے۔
جیکولین نے بتایا کہ انہیں خود بھی عام ڈیٹنگ ایپس پر امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق بعض افراد نے انہیں بوجھ قرار دیا اور بعض نے یہاں تک کہا کہ ان کے خاندان کسی معذور شخص کے ساتھ تعلق قبول نہیں کریں گے۔
الیکسا چائلڈ کے مطابق ان کا مقصد ایسا ماحول بنانا ہے جہاں معذوری، محبت، سیکس اور قربت جیسے موضوعات کو ممنوع نہ سمجھا جائے۔
بڑی ڈیٹنگ ایپس بھی اقدامات کر رہی ہیں
ٹنڈر اور ہنج کی مالک کمپنی میچ گروپ کے ترجمان نے کہا کہ کمپنی نے بدسلوکی اور نامناسب رویوں کی روک تھام کے لیے اپنے حفاظتی نظام اور ٹولز میں نمایاں سرمایہ کاری کی ہے۔
ترجمان کے مطابق معاشرتی تعصبات مختلف سماجی ماحول، بشمول ڈیٹنگ ایپس، میں ظاہر ہوسکتے ہیں اور کمپنی انہیں روکنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔
ڈیٹ ایبلٹی کے صارفین کا کہنا ہے کہ معذوری محبت، دوستی یا رومانوی تعلقات کی خواہش میں رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔