Post Main Ad Panel
Read in English وائٹ ہاؤس میں 40 کروڑ ڈالر کے بال روم کی تعمیر عدالت نے روک دی

وائٹ ہاؤس میں 40 کروڑ ڈالر کے بال روم کی تعمیر عدالت نے روک دی

امریکی عدالت نے ٹرمپ کے 40 کروڑ ڈالر مالیت کے وائٹ ہاؤس بال روم منصوبے پر روک لگا دی

واشنگٹن، 7 اگست (رائٹرز): امریکی وفاقی اپیل عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو وائٹ ہاؤس میں 40 کروڑ ڈالر مالیت کے مجوزہ بال روم کی تعمیر روکنے کا حکم دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر منصوبے پر عمل درآمد نہیں کیا جا سکتا۔

واشنگٹن میں قائم امریکی اپیل عدالت نے 2 کے مقابلے میں 1 جج کی اکثریتی رائے سے نیشنل ٹرسٹ فار ہسٹورک پریزرویشن کے حق میں جاری ابتدائی حکم امتناع کو برقرار رکھا، جس کے تحت وائٹ ہاؤس کے ایسٹ ونگ کو منہدم کر کے 90 ہزار مربع فٹ پر مشتمل نئے بال روم کی تعمیر کو چیلنج کیا گیا تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے پر 14 روز کے لیے عملدرآمد مؤخر کر دیا تاکہ ٹرمپ انتظامیہ کو امریکی سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا موقع مل سکے۔

یہ مقدمہ اس سوال کے گرد گھومتا ہے کہ آیا امریکی صدر کانگریس کی منظوری کے بغیر وائٹ ہاؤس جیسے تاریخی مقام پر اتنے بڑے تعمیراتی منصوبے کی اجازت دے سکتے ہیں یا نہیں۔

اس سے قبل امریکی ڈسٹرکٹ جج رچرڈ لیون بھی قرار دے چکے ہیں کہ وفاقی قانون صدر کو کانگریس کی منظوری کے بغیر اس منصوبے کی تعمیر کا اختیار نہیں دیتا۔ انہوں نے زمین کے اوپر تعمیراتی کام روک دیا تھا، تاہم زیر زمین کام جاری رکھنے کی اجازت دی تھی۔

ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ نیا بال روم سرکاری تقریبات کے انعقاد اور وائٹ ہاؤس کی سکیورٹی بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے۔ حکومت کے وکلا کا کہنا ہے کہ منصوبہ نجی فنڈنگ سے مکمل کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت کو اس میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

دوسری جانب نیشنل ٹرسٹ فار ہسٹورک پریزرویشن کا مؤقف ہے کہ انتظامیہ نے کانگریس کی منظوری اور قانونی طریقہ کار کو نظر انداز کرتے ہوئے تاریخی عمارت میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کا آغاز کیا۔

یہ منصوبہ صدر ٹرمپ کی جانب سے واشنگٹن میں وفاقی عمارتوں اور قومی یادگاروں کی شکل بدلنے کے لیے شروع کیے گئے متعدد منصوبوں میں سے ایک ہے۔ ٹرمپ اس منصوبے کی بڑھتی ہوئی لاگت کا دفاع کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ بال روم پہلے سے بڑا، بہتر معیار کا اور زیادہ محفوظ ہوگا۔

Post Bottom Ad Panel