Post Main Ad Panel
Read in English ایرانی میزائل خطرے کے پیش نظر ٹرمپ نے خفیہ طور پر طیارہ تبدیل کیا: امریکی میڈی

ایرانی میزائل خطرے کے پیش نظر ٹرمپ نے خفیہ طور پر طیارہ تبدیل کیا: امریکی میڈی

ایرانی خطرے کے پیش نظر ٹرمپ کی خفیہ طور پر طیارہ تبدیل کرنے کی رپورٹ

واشنگٹن، 11 اگست (Reuters-style) — امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ ترکی میں نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد روانگی کے وقت ممکنہ ایرانی خطرے کے پیش نظر خفیہ طور پر اپنا طیارہ تبدیل کیا تھا، تاہم وائٹ ہاؤس نے ان اطلاعات کی براہِ راست تصدیق یا تردید نہیں کی۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ٹرمپ 8 جولائی کو انقرہ ایئرپورٹ پر کیمروں کے سامنے صدارتی طیارے میں سوار ہوئے، لیکن بعد میں انہیں خاموشی سے ایک نسبتاً چھوٹے فوجی طیارے C-32A میں منتقل کیا گیا۔ یہ طیارہ بوئنگ 757 کا تبدیل شدہ ماڈل ہے اور عام طور پر امریکی نائب صدر کے سفر کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کو ایک کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے C-32A تک پہنچایا گیا، جسے طیارے کے دروازے کی سطح تک بلند کیا گیا تھا۔ اس طرح ان کی بورڈنگ عوام اور ایئر فورس ون میں موجود بعض صحافیوں کی نظروں سے اوجھل رہی۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ بھی الگ سے بیرونی سیڑھی کے ذریعے C-32A میں سوار ہوئے، تاکہ طیارے کی تبدیلی معمول کے مطابق دکھائی دے اور اضافی حفاظتی انتظامات کا تاثر نہ ملے۔

ایران کی جانب سے ممکنہ خطرے کی اطلاعات

امریکی میڈیا کے مطابق امریکی حکام کو ایران کی جانب سے صدر کے طیارے پر ممکنہ میزائل حملے کے ایک قابلِ اعتبار خطرے سے آگاہ کیا گیا تھا۔

سی بی ایس نیوز کی سابقہ رپورٹس کے مطابق امریکی انٹیلی جنس اداروں نے بھی مخصوص خطرے کے بارے میں خبردار کیا تھا کہ ٹرمپ یا ان کے زیرِ استعمال طیارے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

ٹرمپ نے انقرہ میں نیٹو اجلاس کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایران کی جانب سے مبینہ طور پر ’’نمبر ون ہدف‘‘ ہیں۔

ٹرمپ نے خطرناک پرواز کا ذکر کیا

بعد ازاں واشنگٹن واپسی کے لیے ٹرمپ نے قطر کی جانب سے فراہم کیے گئے نئے بوئنگ 747-8 طیارے میں سفر کیا۔ پرواز کے دوران انہوں نے اپنے ہمراہ موجود صحافیوں سے ایران سے لاحق خطرات پر گفتگو کی، تاہم مبینہ طور پر طیارہ تبدیل کرنے کے خفیہ آپریشن کا ذکر نہیں کیا۔

جب صحافیوں نے پوچھا کہ ترکی سے روانگی کے وقت طیارے کی کھڑکیوں کے پردے نیچے رکھنے کی ہدایت کیوں کی گئی تھی تو ٹرمپ نے کہا کہ یہ ان لوگوں کی وجہ سے تھا جن سے امریکہ کو نمٹنا پڑتا ہے اور اس لیے پرواز خطرناک ہو سکتی تھی۔

ٹرمپ نے کہا کہ ان کی جان کو ’’ہر وقت خطرات لاحق رہتے ہیں‘‘ اور ایران کی مبینہ فہرست میں وہ ’’نمبر ون ہدف‘‘ ہیں۔

انہوں نے صحافیوں سے مزاحیہ انداز میں یہ بھی کہا کہ اگر ان کے ساتھ کچھ ہوا تو ممکنہ طور پر وہ بھی اس میں شامل ہوں گے۔

وائٹ ہاؤس نے براہِ راست تصدیق نہیں کی

وائٹ ہاؤس کے کمیونیکیشنز ڈائریکٹر سٹیون چیونگ نے ٹرمپ کے طیارے کی خفیہ تبدیلی کی رپورٹس کی براہِ راست تصدیق یا تردید نہیں کی۔

تاہم انہوں نے کہا کہ نئے ایئر فورس ون میں صدر اور ان کے عملے کے تحفظ کے لیے جدید سکیورٹی نظام موجود ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ نیا ایئر فورس ون صدر کے سفر کے لیے مکمل طور پر محفوظ ہے، تاہم موسمِ خزاں میں اس میں مزید حفاظتی اپ گریڈز کیے جائیں گے، جن کی تکمیل میں تقریباً ایک ماہ لگے گا۔

نئے ایئر فورس ون پر سکیورٹی سوالات

ٹرمپ ترکی ایک نئے بوئنگ 747-8 طیارے میں پہنچے تھے جو قطر کی جانب سے فراہم کیا گیا تھا۔ امریکہ نے اس طیارے کو صدارتی استعمال کے قابل بنانے کے لیے کئی ماہ تک تبدیلیاں اور حفاظتی اپ گریڈز کیے ہیں۔

نیویارک ٹائمز نے اس سے قبل رپورٹ کیا تھا کہ سیکرٹ سروس نے نیٹو اجلاس سے واپسی پر ٹرمپ کو طیارہ تبدیل کرنے کا مشورہ دیا تھا، جس کی وجہ مبینہ سکیورٹی خدشات تھے۔

سی بی ایس نیوز کے مطابق پرانے ایئر فورس ون طیاروں میں ایسے لیزر پر مبنی دفاعی نظام موجود ہیں جو آنے والے میزائلوں کو گمراہ کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ قطر کی جانب سے فراہم کیے گئے نئے طیارے میں اسی نوعیت کے تمام حفاظتی نظام موجود ہیں یا نہیں۔

نئے طیارے سے متعلق سکیورٹی معلومات کے افشا ہونے کے معاملے پر امریکی محکمہ انصاف نے بھی تحقیقات شروع کرنے کی تصدیق کی ہے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ نئے ایئر فورس ون میں صدر کی حفاظت کے لیے جدید ترین سکیورٹی انتظامات موجود ہیں۔

Post Bottom Ad Panel