بہار پولیس کا انوکھا فیصلہ، بھینس کی ملکیت ثابت کرنے کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کا حکم
پٹنہ، 27 اگست 2026ء — بھارت کی ریاست بہار میں پولیس نے بھینس کی ملکیت کے ایک غیر معمولی تنازع کو حل کرنے کے لیے بھینس اور اس کی مبینہ کٹڑی کا ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ معاملہ سیوتر گاؤں کے رہائشی سورج یادو اور قریبی گاؤں کے رہائشی پرکاش مانجھی کے درمیان ہے، جو ایک ہی بھینس کو اپنی ملکیت قرار دے رہے ہیں۔
معاملے نے اس وقت سیاسی رنگ اختیار کیا جب دونوں فریق اپنے دعووں سے پیچھے ہٹنے پر تیار نہ ہوئے۔ اس کے بعد مگدھ رینج کے انسپکٹر جنرل پولیس وکاس ویبھو نے پولیس کو سائنسی شواہد کی مدد سے تنازع حل کرنے کی ہدایت کی۔
بھینس گم ہوئی، ملکیت کا تنازع شروع
سورج یادو کے مطابق ان کی بھینس کچھ روز قبل لاپتہ ہوگئی تھی۔ انہوں نے ابتدا میں پولیس کو رپورٹ کرنے کے بجائے خود جانور کی تلاش شروع کردی۔
یادو کا کہنا ہے کہ بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ بھینس قریبی گاؤں میں پرکاش مانجھی کے گھر بندھی ہوئی ہے۔ وہ وہاں پہنچے، بھینس کو کھولا اور اسے اپنے گھر لے آئے۔
دوسری جانب پرکاش مانجھی نے دعویٰ کیا کہ بھینس قانونی طور پر ان کی ملکیت ہے۔
تنازع بڑھنے پر پولیس نے بھینس کو تھانے منتقل کرکے اپنی تحویل میں رکھ لیا۔
پولیس نے بھینس کو آزاد بھی کیا
مقامی پولیس نے ابتدا میں ایک غیر معمولی طریقہ آزمانے کا فیصلہ کیا۔ بھینس کو کھول کر آزاد چھوڑ دیا گیا تاکہ دیکھا جا سکے کہ وہ خود کس گھر کا رخ کرتی ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق بھینس آزاد ہونے کے بعد سورج یادو کے گھر پہنچ گئی۔
تاہم پرکاش مانجھی نے اس فیصلے کو تسلیم نہیں کیا اور اپنی ملکیت کے دعوے پر قائم رہے۔
معاملہ سیاست تک پہنچ گیا
بھینس کی ملکیت کا تنازع بعد میں مقامی سیاست کا موضوع بھی بن گیا۔
سابق رکن اسمبلی اجے یادو نے پولیس کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کی اور سورج یادو کے ساتھ مبینہ ناانصافی پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک غریب شخص کو بھینس کے تنازع پر مہنگے قانونی مقدمات میں الجھانا مناسب نہیں۔
دوسری جانب ہندوستانی عوام مورچہ (HAM) کے قومی ترجمان شیام سندر شرن نے پرکاش مانجھی کے حق میں پولیس سے ملاقات کی اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
مگدھ رینج کے آئی جی وکاس ویبھو کے مطابق اس معاملے میں اب تک دو ایف آئی آر درج کی جا چکی ہیں، جن میں ایک ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کے تحت جبکہ دوسری بھینس کی ملکیت کے تنازع سے متعلق ہے۔
ڈی این اے سے ہوگا فیصلہ
پولیس کے مطابق دونوں فریق اپنے دعووں پر قائم ہیں، اس لیے اب سائنسی شواہد کی مدد لینا ضروری ہوگیا ہے۔
پولیس نے دونوں دعویداروں سے جانوروں سے متعلق دستیاب ریکارڈ بھی طلب کیا ہے، جس میں نسل اور خاندانی معلومات شامل ہوسکتی ہیں۔
حکام کے مطابق متنازع بھینس کا ڈی این اے سورج یادو کے پاس موجود مبینہ کٹڑی کے ڈی این اے سے ملایا جائے گا۔
اگر دونوں کے درمیان حیاتیاتی تعلق ثابت ہوجاتا ہے تو یہ سورج یادو کے دعوے کے حق میں اہم ثبوت بن سکتا ہے۔
پولیس نے علاقے میں مزید شواہد جمع کرنے اور مقامی افراد سے پوچھ گچھ کے لیے افسران کو بھی روانہ کردیا ہے۔
سوشل میڈیا پر دلچسپ تبصرے
بھینس کے ڈی این اے ٹیسٹ کی خبر سامنے آنے کے بعد یہ معاملہ سوشل میڈیا پر بھی تیزی سے وائرل ہوگیا۔
صارفین نے پولیس کے فیصلے پر دلچسپ تبصرے کرتے ہوئے کہا کہ اب “جس کی لاٹھی، اس کی بھینس” کے بجائے شاید “جس کی ڈی این اے رپورٹ، اس کی بھینس” کا دور آگیا ہے۔
کچھ صارفین نے یہ بھی مذاق کیا کہ بھینس کو شاید خود بھی اندازہ نہیں کہ وہ ایک قانونی اور سیاسی تنازع کی مرکزی شخصیت بن چکی ہے۔
بہار پولیس کے لیے ایسا معاملہ نیا نہیں
جانوروں سے متعلق غیر معمولی شکایات سے بہار پولیس پہلے بھی نمٹ چکی ہے۔
ریاست کے پورنیہ علاقے میں ایک شخص نے پولیس سے ایک بیل کو “گرفتار” کرنے کی درخواست کی تھی۔ اس کا الزام تھا کہ بیل نے اس کا پیچھا کیا، سینگوں سے حملہ کیا اور اسے زخمی کردیا۔
پولیس نے بعد میں دونوں فریقوں کو طلب کرکے معاملہ بات چیت کے ذریعے حل کرایا اور شکایت واپس لے لی گئی۔
پورنیہ میں پولیس تین بکریوں کی ہلاکت سے متعلق ایک الگ معاملے کی تحقیقات بھی کر چکی ہے۔
فی الحال بھینس کی حتمی ملکیت کا فیصلہ باقی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ڈی این اے رپورٹ اور دیگر شواہد کی بنیاد پر طے کیا جائے گا کہ بھینس کا اصل مالک کون ہے۔