راولپنڈی، 18 اگست 2026: ٹیکسلا میں ٹک ٹاکر شمسو بی بی عرف عائشہ گلمنہ کے قتل کے مقدمے میں پولیس نے ایک نامزد ملزم اور تین مبینہ سہولت کاروں کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ دو دیگر نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔
پولیس کے مطابق شمسو بی بی کو 14 اگست کو تھانہ ٹیکسلا کی حدود میں فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا۔ مقدمے کی ایف آئی آر مقتولہ کے والد فضل کی مدعیت میں درج کی گئی۔
تفتیشی افسر سب انسپکٹر محمد فیاض کے مطابق ایک نامزد ملزم کو گرفتار کیا گیا ہے، جس پر الزام ہے کہ اس نے مقتولہ کو فون کرکے گھر سے باہر بلایا۔ پولیس کے مطابق مزید دو نامزد ملزمان جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھتے ہیں اور واقعے کے بعد روپوش ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ جیو فینسنگ کے ذریعے دونوں ملزمان کے موبائل فونز کی لوکیشن واقعے کے وقت مری میں سامنے آئی۔ تفتیشی حکام کے مطابق جائے وقوعہ پر ان کے موبائل فونز کی موجودگی نہ ہونے سے
اس امکان کو بھی دیکھا جا رہا ہے کہ قتل کے لیے مبینہ طور پر کرائے کے قاتل استعمال کیے گئے۔

فائرنگ میں ٹک ٹاکر جاں بحق
ایف آئی آر کے مطابق 14 اگست کو شمسو بی بی کو ایک شخص کی فون کال موصول ہوئی، جس کے بعد وہ اپنے بہن اور بھائی کے ہمراہ گاڑی میں والد کے گھر جانے کے لیے روانہ ہوئیں۔
فیصل ٹاؤن کے قریب دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کی۔ ایک گولی شمسو بی بی کی گردن میں لگی، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگئیں۔
فائرنگ کے بعد گاڑی بے قابو ہو کر مخالف سمت سے آنے والے ڈمپر سے جا ٹکرائی، جس کے نتیجے میں مقتولہ کے بھائی اور بہن بھی زخمی ہوگئے۔
رقم کے لین دین کا تنازع
مقتولہ کے والد نے ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کی بیٹی کو مبینہ طور پر رقم کے لین دین کے تنازع پر قتل کیا گیا۔ ان کے مطابق شمسو بی بی نے انہیں بتایا تھا کہ دو افراد نے ان سے رقم لی ہوئی تھی اور انہیں قتل کی دھمکیاں بھی دے رہے تھے۔
پولیس نے واقعے کی تحقیقات کے لیے مختلف ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔ مقتولہ کے زیر استعمال موبائل فون کا فرانزک تجزیہ بھی کیا جا رہا ہے، جبکہ ان افراد سے بھی تفتیش کی جا رہی ہے جن سے شمسو بی بی کے زیادہ رابطے تھے۔
مقتولہ کے بھائی کا مؤقف
شمسو بی بی کے بھائی رحمت اللہ نے بھی دعویٰ کیا کہ ان کی بہن کو رقم کے لین دین کے معاملے پر قتل کیا گیا۔ انہوں نے پولیس کی جانب سے گرفتار کیے گئے ملزم کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خاندان نے اسے نامزد نہیں کیا تھا۔
تفتیشی افسر نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آر کے اندراج کے لیے درخواست خود مقتولہ کے والد نے تحریر کی تھی۔
رحمت اللہ کے مطابق شمسو بی بی دس بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پر تھیں اور ان کے تین بچے ہیں۔ وہ اپنے والدین کے ساتھ نہیں بلکہ اسلام آباد میں کرائے کے مکان میں رہتی تھیں۔
پولیس کے مطابق مقدمے کی تحقیقات جاری ہیں اور مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ پولیس حکام نے خیبر پختونخوا پولیس سے بھی تعاون کے لیے رابطہ کیا ہے۔