اسپائیڈر مین: برانڈ نیو ڈے — شاندار کامیابی، مگر کیا یہ واقعی اسپائیڈر مین کی سولو فلم ہے؟
ٹام ہالینڈ کے اسپائیڈر مین نے دنیا بھر میں دھوم مچا دی، پاکستان میں بھی ریکارڈ بزنس
فلم ’اسپائیڈر مین: برانڈ نیو ڈے‘ نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ اسپائیڈر مین دنیا کے مقبول ترین سپر ہیروز میں شامل ہے۔ فلم نے دنیا بھر میں شاندار کاروبار کیا جبکہ پاکستان میں بھی اس کے تین روزہ ابتدائی بزنس نے فلمی شائقین کی بھرپور توجہ حاصل کی۔
فلم نے اپنے پہلے ویک اینڈ میں دنیا بھر میں مبینہ طور پر 938 ملین ڈالر کمائے، جبکہ پاکستان میں تین دن کے دوران اس کا بزنس تقریباً 25 کروڑ روپے رہا۔
موازنے کے طور پر ’اسپائیڈر مین: نو وے ہوم‘ نے پاکستان میں پہلے 10 دنوں کے دوران تقریباً 20 کروڑ روپے جبکہ پوری نمائش کے دوران تقریباً 34 کروڑ روپے کا بزنس کیا تھا۔

اسپائیڈر مین کا جادو اب بھی برقرار
فلم کی کامیابی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں سینما کی مستقبل کی حیثیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ’اسپائیڈر مین: برانڈ نیو ڈے‘ اور دیگر بڑی فلموں کی کامیابی نے ثابت کیا ہے کہ بڑے سپر ہیرو فرنچائزز اب بھی شائقین کو سینما گھروں تک لانے کی طاقت رکھتی ہیں۔
مارول کے شائقین کی نظریں اب ’ایونجرز: ڈومز ڈے‘ پر بھی مرکوز ہیں، جس میں کئی بڑے کرداروں اور اداکاروں کی واپسی متوقع ہے۔
فلم کے پوسٹ کریڈٹ سین نے بھی اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ اسپائیڈر مین مارول سنیماٹک یونیورس کے اگلے مرحلے میں اہم کردار ادا کرتا رہے گا۔
پیٹر پارکر کی کہانی ایک نئے مرحلے میں داخل
ٹام ہالینڈ کی اسپائیڈر مین فلموں میں ہمیشہ پیٹر پارکر کی ذاتی زندگی اور اس کی بطور ہیرو ترقی کو مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔
’اسپائیڈر مین: ہوم کمنگ‘ میں پیٹر خود کو ایک بڑا ہیرو ثابت کرنا چاہتا ہے، لیکن اسے احساس ہوتا ہے کہ اپنے محلے اور شہر کے لوگوں کی مدد کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔
’اسپائیڈر مین: فار فرام ہوم‘ میں وہ ٹونی اسٹارک کی میراث کا بوجھ محسوس کرتا ہے اور ایک نئے رہنما کی تلاش میں رہتا ہے۔

جبکہ ’نو وے ہوم‘ میں وہ اپنی مشکلات حل کرنے کے لیے ڈاکٹر اسٹرینج کی مدد لیتا ہے، لیکن اس کی قیمت اسے اپنے قریبی لوگوں کی یادداشت کھونے کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے۔
نو وے ہوم کے بعد نئی شروعات
’نو وے ہوم‘ کے اختتام پر پیٹر پارکر کی شناخت دنیا کی یادداشت سے مٹا دی جاتی ہے۔ اس کے بعد اسے ایک نئی زندگی شروع کرنے کا موقع ملتا ہے، جہاں وہ ٹونی اسٹارک کی ٹیکنالوجی اور بڑے مارول کراس اوورز سے نسبتاً آزاد ہو جاتا ہے۔
’برانڈ نیو ڈے‘ میں پیٹر پہلے ہی نیویارک کے فرینڈلی نیبرہڈ اسپائیڈر مین کے طور پر اپنی شناخت بنا چکا ہے۔ وہ مقامی پولیس کے ساتھ مل کر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں کرتا ہے۔
فلم میں اسے اپنی مرحوم آنٹی مے کی قبر پر جاتے اور اپنے سابق دوستوں نیڈ لیڈز اور ایم جے کو سوشل میڈیا کے ذریعے دیکھتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے۔
تاہم جلد ہی پیٹر کو شدید سر درد اور اپنے رویے میں غیر معمولی تبدیلیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
بروس بینر کی مدد حاصل کرنے پہنچا اسپائیڈر مین
اپنی بدلتی ہوئی شخصیت اور جارحانہ رویے کو قابو کرنے کے لیے پیٹر ڈاکٹر بروس بینر سے مدد لیتا ہے، جن کا کردار مارک رفالو نے ادا کیا ہے۔
دوسری جانب ایک نیا ولن لوگوں کے شعور پر قبضہ کرتے ہوئے ایک جسم سے دوسرے جسم میں منتقل ہوتا رہتا ہے اور V-Max نامی پراسرار مقام کی تلاش میں ہے۔
پیٹر کی اندرونی کشمکش اور اس کے بدلتے رویے میں ہلک کی اپنی جدوجہد کی جھلک بھی نظر آتی ہے۔
پنیشر نے فلم میں جان ڈال دی
فلم کے نمایاں معاون کرداروں میں فرینک کاسل، یعنی پنیشر بھی شامل ہے، جس کا کردار جون برنتھل نے ادا کیا ہے۔
پنیشر کا کردار اس بار زیادہ نمایاں ہے اور وہ پیٹر پارکر کے لیے ایک اخلاقی متبادل کے طور پر سامنے آتا ہے۔ فلم کے آخری حصے تک ناظرین پنیشر کے کردار میں بھی اتنی ہی دلچسپی لینے لگتے ہیں جتنی اسپائیڈر مین میں۔
ییلینا بیلووا کا کردار بھی فلم میں شامل ہے، جس سے مارول کی وسیع کائنات کے ساتھ اس کے تعلقات مزید مضبوط ہوتے ہیں۔
اسپائیڈر مین کے روایتی ولن کہاں ہیں؟
فلم کی ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ روایتی اسپائیڈر مین ولن زیادہ نمایاں کردار ادا نہیں کرتے۔
اسکارپین اور دی ہینڈ فلم میں موجود ہیں، لیکن ان کے کردار نسبتاً محدود ہیں۔
فلم کا مرکزی مخالف کردار بالآخر جین گرے نکلتا ہے، جس کا کردار سیدی سنک نے ادا کیا ہے۔
جین گرے کی موجودگی فلم کو ایکس مین اور مارول کے مستقبل کے منصوبوں سے جوڑتی ہے۔
پوسٹ کریڈٹ سین بھی اس تعلق کو مزید واضح کرتا ہے اور اشارہ دیتا ہے کہ ’برانڈ نیو ڈے‘ محض ایک اسپائیڈر مین فلم نہیں بلکہ ’ایونجرز: ڈومز ڈے‘ اور مارول میں ایکس مین کی آمد کی طرف جانے والا ایک اہم راستہ بھی ہے۔
شاندار ایکشن، بہترین جذبات اور ٹام ہالینڈ کی مضبوط اداکاری
ان تمام تنقیدوں کے باوجود ’اسپائیڈر مین: برانڈ نیو ڈے‘ ایک تفریحی اور بصری طور پر متاثر کن فلم ہے۔
اسپائیڈر مین کے ویب سوئنگنگ اور ایکشن مناظر فلم کے مضبوط ترین حصوں میں شامل ہیں، جبکہ مائیکل جیاکینو کی موسیقی فلم کے ماحول کو مزید مؤثر بناتی ہے۔
ٹام ہالینڈ بھی پیٹر پارکر کے کردار میں اپنی جذباتی اور فطری اداکاری سے متاثر کرتے ہیں۔
فلم کے سب سے مضبوط لمحات پیٹر کی اندرونی اور جذباتی تبدیلی سے متعلق ہیں، جہاں وہ خود کو قبول کرنے اور اپنے مسائل کا بوجھ اکیلے اٹھانے کے بجائے دوسروں پر اعتماد کرنا سیکھتا ہے۔
فیصلہ: شاندار مارول فلم، مگر مکمل سولو اسپائیڈر مین کہانی نہیں
’اسپائیڈر مین: برانڈ نیو ڈے‘ ایک بڑے مارول سپر ہیرو شو کے طور پر کامیاب نظر آتی ہے۔ فلم میں شاندار ایکشن، جذباتی مناظر اور ٹام ہالینڈ کی مضبوط اداکاری موجود ہے۔
تاہم فلم کو مکمل طور پر ایک آزاد اور خودمختار اسپائیڈر مین کہانی کہنا مشکل ہے۔ اس کے بجائے یہ مارول سنیماٹک یونیورس کے اگلے مرحلے سے جڑنے والی ایک اہم کڑی دکھائی دیتی ہے۔
’اسپائیڈر مین: برانڈ نیو ڈے‘ سونی پکچرز اور ایچ کے سی کے تحت ریلیز ہوئی ہے۔ فلم کی کہانی کرس میک کینا اور ایرک سومرز نے لکھی جبکہ ہدایت کاری ڈیسٹن ڈینیئل کریٹن نے کی ہے۔ فلم کو ’U‘ ریٹنگ دی گئی ہے اور یہ عام ناظرین کے لیے موزوں ہے۔
فلم کے شاندار ابتدائی بزنس سے واضح ہے کہ اسپائیڈر مین کا جادو آج بھی شائقین کو بڑی تعداد میں سینما گھروں تک کھینچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔