Post Main Ad Panel
Read in English سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدہ

سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدہ

42 ویوز

سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدہ، علاقائی سلامتی کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق

ریاض، 7 اگست: سعودی عرب، پاکستان اور ترکی نے جمعہ کے روز مکہ مکرمہ میں ایک سہ فریقی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں سکیورٹی اور دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

تینوں ممالک کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق "مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ" اس اصول پر مبنی ہے کہ اگر کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ ہوتا ہے تو اسے تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ معاہدے کا مقصد اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا، امن و استحکام کو فروغ دینا اور خطے میں سلامتی کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔ تاہم اس میں ہر ملک کی جانب سے کیے گئے مخصوص دفاعی وعدوں یا ذمہ داریوں کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

ترک حکام نے کہا کہ یہ معاہدہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے، کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں اور مستقبل میں دیگر علاقائی ممالک کے لیے بھی اس میں شمولیت کی گنجائش موجود ہے۔ حکام کے مطابق یہ معاہدہ کسی بھی موجودہ دوطرفہ یا کثیرالجہتی دفاعی انتظامات کا متبادل نہیں ہوگا۔

یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات، میزائل اور ڈرون حملوں کے باعث خطے کی سلامتی اور توانائی کی ترسیل کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف، چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ، عمرہ کی ادائیگی کے بعد اجلاس میں شریک ہوئے، جہاں انہوں نے ترک صدر رجب طیب اردوان اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ مسلم دنیا کی تین اہم طاقتوں کے درمیان دفاعی اور سفارتی تعاون کو نئی جہت دے سکتا ہے۔ ترکی نیٹو کی دوسری بڑی فوج رکھتا ہے، سعودی عرب خلیج کی سب سے بڑی معیشت اور دنیا کے بڑے تیل برآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہے، جبکہ پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے۔

ماہرین کے مطابق معاہدے سے دفاعی صنعت، فوجی تربیت، انٹیلی جنس کے تبادلے اور علاقائی سلامتی کے شعبوں میں تعاون میں اضافہ متوقع ہے، تاہم اس میں پاکستان کے جوہری پروگرام یا جوہری دفاعی صلاحیت کو شامل کیے جانے کا امکان نہیں ہے۔

یہ معاہدہ تینوں ممالک کے درمیان برسوں سے جاری دفاعی تعاون کی بنیاد پر طے پایا ہے اور اسے خطے میں سکیورٹی تعاون کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

Post Bottom Ad Panel