Post Main Ad Panel
Read in English بچوں کو فیس بک اور انسٹاگرام کا عادی بنانے کے الزام میں میٹا کو بڑے امریکی مقدمے کا سامنا

بچوں کو فیس بک اور انسٹاگرام کا عادی بنانے کے الزام میں میٹا کو بڑے امریکی مقدمے کا سامنا

 

اوکلینڈ، کیلیفورنیا، 12 اگست (رائٹرز) — میٹا پلیٹ فارمز کو بدھ سے امریکی وفاقی عدالت میں متعدد ریاستوں کی جانب سے دائر کیے گئے ایک اہم مقدمے کا سامنا ہے، جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ کمپنی نے فیس بک اور انسٹاگرام کو اس طرح ڈیزائن کیا کہ بچے اور نوجوان ان کے استعمال کے عادی ہو جائیں۔

یہ مقدمہ تقریباً سات ہفتے جاری رہنے کی توقع ہے اور اس کے نتیجے میں میٹا کو بھاری ہرجانے کے ساتھ ساتھ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرنا پڑ سکتی ہیں۔

میٹا پر بچوں کو پلیٹ فارم کا عادی بنانے کا الزام

کیلیفورنیا کے شہر اوکلینڈ میں ہونے والے مقدمے میں کولوراڈو، کینٹکی، کیلیفورنیا اور نیو جرسی کا کہنا ہے کہ میٹا نے اپنے پلیٹ فارمز کو نوجوان صارفین کو زیادہ سے زیادہ وقت تک مصروف رکھنے کے لیے تیار کیا۔

ریاستوں کا الزام ہے کہ کمپنی نے فیس بک اور انسٹاگرام کے حفاظتی اثرات کے بارے میں صارفین کو گمراہ کیا جبکہ 29 ریاستوں نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ میٹا نے وفاقی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بچوں کا ڈیٹا غیر قانونی طور پر جمع اور استعمال کیا۔

مارک زکربرگ اور انسٹاگرام سربراہ گواہی دیں گے

بدھ کو جیوری کے انتخاب کا عمل شروع ہوگا جبکہ ابتدائی دلائل 18 اگست سے شروع ہونے کی توقع ہے۔

میٹا کے بانی اور چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ جبکہ انسٹاگرام کے سربراہ ایڈم موسیری بھی مقدمے میں گواہی دے سکتے ہیں۔

یہ مقدمہ بچوں اور نوجوانوں پر سوشل میڈیا کے اثرات سے متعلق میٹا کے خلاف اب تک کے سب سے اہم قانونی چیلنجز میں شمار کیا جا رہا ہے۔

1.4 ٹریلین ڈالر تک ہرجانے کا خدشہ

میٹا کے مطابق ریاستیں کمپنی سے 1.4 ٹریلین ڈالر تک ہرجانے کا مطالبہ کر سکتی ہیں، جو کمپنی کی تقریباً 1.5 ٹریلین ڈالر کی مارکیٹ ویلیو کے قریب ہے۔

تاہم ریاستی اٹارنی جنرلز نے ابھی تک عوامی طور پر یہ نہیں بتایا کہ وہ کتنے ہرجانے کا مطالبہ کریں گے۔

ریاستیں عدالت سے یہ بھی چاہتی ہیں کہ میٹا صارفین کی عمر کی تصدیق کے لیے مؤثر نظام متعارف کرائے، لامحدود اسکرولنگ ختم کرے اور پلیٹ فارمز کے دیگر ایسے فیچرز تبدیل کرے جو نوجوانوں کو زیادہ دیر تک آن لائن رکھنے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

میٹا نے الزامات مسترد کر دیے

میٹا نے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی نوجوانوں کے تحفظ کے لیے طویل عرصے سے اقدامات کر رہی ہے۔

کمپنی کے ترجمان کے مطابق میٹا نے والدین کی بات سنی، ماہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کام کیا اور نوجوان صارفین سے متعلق مسائل کو سمجھنے کے لیے وسیع تحقیق کی۔

میٹا کا یہ بھی مؤقف ہے کہ کمپنی صارفین کو اس حوالے سے گمراہ نہیں کر سکتی کہ سوشل میڈیا عادی بنانے والا ہے، کیونکہ "سوشل میڈیا ایڈکشن" کو باقاعدہ نفسیاتی بیماری کے طور پر تسلیم نہیں کیا گیا۔

میٹا کی سابق ملازمہ کے انکشافات کے بعد تحقیقات

ریاستوں کی جانب سے دائر کیا گیا مقدمہ 2023 میں سامنے آیا تھا۔ اس سے قبل متعدد ریاستوں نے فیس بک اور انسٹاگرام کے نوجوان صارفین پر اثرات کی مشترکہ تحقیقات شروع کی تھیں۔

یہ تحقیقات میٹا کی سابق ملازمہ اور وہسل بلوئر فرانسس ہاؤگن کے 2021 میں امریکی سینیٹ کے سامنے بیان کے بعد مزید اہم ہوئیں۔

ہاؤگن نے الزام لگایا تھا کہ میٹا کو معلوم تھا کہ اس کی مصنوعات نوجوان صارفین کو نقصان پہنچا سکتی ہیں اور کمپنی کے پاس انہیں محفوظ بنانے کے طریقے بھی موجود تھے، لیکن اس نے زیادہ منافع کے حصول کو ترجیح دی۔

سوشل میڈیا کے خلاف عوامی دباؤ میں اضافہ

یہ مقدمہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں بچوں اور نوجوانوں پر سوشل میڈیا کے اثرات پر تشویش بڑھ رہی ہے۔

حالیہ رائٹرز/اِپسوس سروے کے مطابق 85 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ سوشل میڈیا بچوں کے لیے نشہ آور یا عادت بنانے والا ہو سکتا ہے، جبکہ 61 فیصد افراد نے کہا کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کی نگرانی مزید سخت ہونی چاہیے۔

میٹا کے علاوہ اسنیپ، گوگل کی ملکیت یوٹیوب اور ٹک ٹاک کی مالک بائٹ ڈانس سمیت دیگر کمپنیوں کو بھی بچوں اور نوجوانوں کو مبینہ طور پر نقصان پہنچانے کے الزامات پر ہزاروں مقدمات کا سامنا ہے۔

حالیہ عدالتی فیصلوں سے میٹا پر دباؤ بڑھ گیا

میٹا کو حالیہ عرصے میں متعدد قانونی مقدمات میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اس سے قبل دو مقدمات میں جیوری نے کمپنی کے خلاف فیصلے دیے تھے۔ گزشتہ ہفتے نیو میکسیکو کے ایک جج نے میٹا کو 567 ملین ڈالر ادا کرنے اور اپنے پلیٹ فارمز میں تبدیلیاں کرنے کا حکم دیا تھا۔

جج نے قرار دیا تھا کہ کمپنی کی سرگرمیوں نے ریاست میں بچوں کی ذہنی صحت کے بحران کو بڑھانے میں کردار ادا کیا۔

میٹا نے کینٹکی کے ایک اسکول ڈسٹرکٹ کی جانب سے دائر مقدمہ بھی 9 ملین ڈالر میں طے کر لیا تھا۔

عدالت کی جانب سے غیر معمولی طریقہ اختیار

میٹا نے مقدمے کو مؤخر کرنے کی آخری کوشش بھی کی، تاہم پیر کو امریکی عدالت نے کمپنی کی درخواست مسترد کر دی۔

امریکی ڈسٹرکٹ جج یویون گونزالیز راجرز مقدمے کی نگرانی کریں گی اور توقع ہے کہ وہ اکتوبر میں اپنا فیصلہ سنائیں گی۔

جج نے اس مقدمے میں ایک مشاورتی جیوری تشکیل دی ہے جو مخصوص سوالات پر اپنی رائے دے گی۔ تاہم جیوری کی رائے جج کے لیے حتمی فیصلہ نہیں ہوگی اور وہ اسے قبول یا مسترد کرنے کا اختیار رکھتی ہیں۔

ریاستیں میٹا کے پلیٹ فارمز میں بڑی تبدیلیاں چاہتی ہیں

ریاستوں نے صرف مالی جرمانے کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ میٹا کے پلیٹ فارمز میں ملک گیر تبدیلیاں بھی چاہی ہیں۔

مطالبات میں بچوں کے لیے عمر کی پابندیاں، بچوں کے ڈیٹا سے تیار کیے گئے الگورتھمز اور مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو ختم کرنا، لامحدود اسکرولنگ اور بعض نوٹیفکیشنز کا خاتمہ شامل ہے۔

ریاستیں یہ بھی چاہتی ہیں کہ میٹا کا مواد تجویز کرنے والا الگورتھم صارفین کو زیادہ دیر تک مصروف رکھنے کے بجائے ان کی فلاح و بہبود کو ترجیح دے اور نوجوان صارفین کے لیے سوشل میڈیا استعمال کرنے کی سخت وقت کی حدود مقرر کی جائیں۔

ہزاروں مقدمات فیصلے کے منتظر

یہ مقدمہ میٹا کے خلاف جاری ایک وسیع قانونی جنگ کا حصہ ہے۔

وفاقی عدالت میں اسکول ڈسٹرکٹس، افراد اور دیگر فریقوں کی جانب سے میٹا، اسنیپ، الفابیٹ کی یوٹیوب اور ٹک ٹاک کی مالک بائٹ ڈانس کے خلاف 3 ہزار سے زائد مقدمات دائر کیے جا چکے ہیں۔

اس کے علاوہ مزید 3,300 سے زائد مقدمات، جن میں زیادہ تر افراد مدعی ہیں، لاس اینجلس کی ریاستی عدالت میں زیرِ سماعت ہیں۔

اوکلینڈ کے اس مقدمے کا فیصلہ صرف میٹا ہی نہیں بلکہ دیگر بڑی سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے بچوں اور نوجوانوں کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی ڈیزائننگ اور استعمال کے حوالے سے مستقبل کی قانونی پالیسیوں پر اثر پڑنے کا امکان ہے۔

Post Bottom Ad Panel