Post Main Ad Panel
Read in English میسی اور رونالڈو ریٹائرمنٹ کے قریب، فٹبال کے ایک شاندار دور کے اختتام کی آہٹ

میسی اور رونالڈو ریٹائرمنٹ کے قریب، فٹبال کے ایک شاندار دور کے اختتام کی آہٹ

 

تقریباً دو دہائیوں تک لیونل میسی اور کرسٹیانو رونالڈو نے فٹبال کی تاریخ کو نئے سرے سے لکھا، بے شمار ریکارڈ توڑے اور ایک دوسرے کو غیر معمولی بلندیوں تک پہنچنے پر مجبور کیا۔ اب دونوں سپر اسٹارز فٹبال سے دور زندگی کے بارے میں سوچ رہے ہیں، جس نے دنیا بھر کے شائقین کو اس عظیم دور کے اختتام پر غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

41 سالہ کرسٹیانو رونالڈو نے حال ہی میں عندیہ دیا ہے کہ موجودہ سیزن پروفیشنل فٹبال میں ان کا آخری سال ہو سکتا ہے۔ میگزین ووگ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں النصر کے فارورڈ نے کہا کہ وہ اپنے کیریئر کا اختتام ایک ’’شاندار ورثہ‘‘ چھوڑ کر کرنا چاہتے ہیں۔

رونالڈو کا یہ بیان ان کے عظیم حریف 39 سالہ لیونل میسی کے والد جارج میسی کے انتقال کے چند روز بعد سامنے آیا۔ میسی نے اپنے والد کو جذباتی خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے فٹبال میں اپنے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کا اظہار کیا۔

میسی نے سوشل میڈیا پر اپنے والد کے لیے جذباتی پیغام میں کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ وہ ان کے بغیر کیسے آگے بڑھیں گے اور وہ مزید کتنے عرصے تک فٹبال کھیل سکیں گے۔

کامیابی کی طرف دو مختلف راستے

اگرچہ میسی اور رونالڈو کے کامیابی تک پہنچنے کے راستے مختلف تھے، لیکن دونوں نے اپنی زندگی میں بڑی مشکلات کا سامنا کیا۔

رونالڈو نے پرتگال کے جزیرے میڈیرا میں مالی مشکلات سے دوچار خاندان میں پرورش پائی۔ ان کی غیر معمولی صلاحیت نے انہیں اسپورٹنگ سی پی کی اکیڈمی تک پہنچایا، جہاں سے ان کے شاندار کیریئر کا آغاز ہوا۔

بعد ازاں وہ مانچسٹر یونائیٹڈ، ریال میڈرڈ اور یووینٹس جیسے بڑے کلبوں کا حصہ بنے اور مختلف ٹائٹلز اور ریکارڈز اپنے نام کیے۔ وہ فٹبال کی تاریخ کے کامیاب ترین اور سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑیوں میں شامل ہیں۔

دوسری جانب میسی کا سفر بھی مشکلات سے خالی نہیں تھا۔ ارجنٹائن میں بچپن کے دوران انہیں گروتھ ہارمون کی کمی کی تشخیص ہوئی، جس کے علاج کے لیے مہنگے اخراجات درکار تھے۔

ان کا خاندان بالآخر انہیں اسپین لے گیا جہاں انہوں نے بارسلونا کی یوتھ اکیڈمی میں شمولیت اختیار کی۔ میسی کے والد جارج نے ان کے کیریئر میں اہم کردار ادا کیا اور علاج کے حصول میں بھی ان کا بھرپور ساتھ دیا۔

بارسلونا میں میسی نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور بالآخر کلب کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شمار ہونے لگے۔

ایسی رقابت جس نے فٹبال بدل دی

کئی برسوں تک میسی اور رونالڈو ایک دوسرے کو مزید بہتر کارکردگی دکھانے پر مجبور کرتے رہے۔

میسی کے بارسلونا اور رونالڈو کے ریال میڈرڈ میں ہونے کے دوران ان کی رقابت اپنے عروج پر رہی۔ دونوں کے درمیان ایل کلاسیکو کے مقابلے دنیا بھر میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والے کھیلوں کے مقابلوں میں شامل ہوگئے۔

دونوں نے ایک دوسرے کے ریکارڈ توڑے، انفرادی اعزازات کے لیے مقابلہ کیا اور عالمی فٹبال میں کامیابی کے نئے معیار قائم کیے۔

میسی نے 2022 میں ارجنٹائن کے ساتھ ورلڈ کپ جیت کر اپنے کیریئر کا سب سے بڑا اعزاز حاصل کیا، جبکہ رونالڈو نے پرتگال کے ساتھ یورو 2016 اور یوئیفا نیشنز لیگ سمیت اہم بین الاقوامی کامیابیاں حاصل کیں۔

ایک عظیم دور کا اختتام

فٹبال مستقبل میں بھی عظیم کھلاڑی پیدا کرتا رہے گا، جیسے پیلے کے بعد میراڈونا اور پھر دیگر عالمی ستارے سامنے آئے۔

لیکن میسی اور رونالڈو کا تقریباً دو دہائیوں تک بیک وقت عالمی فٹبال پر راج کرنا شاید دوبارہ دیکھنے کو نہ ملے۔

دونوں کے کیریئر صرف غیر معمولی صلاحیتوں سے نہیں بلکہ ایک دوسرے کو مسلسل پیچھے چھوڑنے کی ناقابلِ یقین خواہش سے بھی پہچانے جاتے ہیں۔

اب جب دونوں اپنے کیریئر کے آخری مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں، دنیا بھر کے شائقین ایک تلخ حقیقت کا سامنا کر رہے ہیں:

دنیا کے عظیم ترین کھلاڑی بھی وقت کو شکست نہیں دے سکتے۔

Post Bottom Ad Panel