عمران خان کی میڈیکل رپورٹ: ’اینگزائٹی لیول تھری پلس‘ کیا ہے اور اس کا علاج کیسے ممکن ہے؟
سپریم کورٹ کا عمران خان کو نجی اسپتال منتقل کرنے کا حکم، میڈیکل بورڈ بھی تشکیل دینے کی ہدایت
اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو فوری طور پر اسلام آباد کے نجی اسپتال شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیتے ہوئے ان کے طبی معائنے کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے۔
منگل کو جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجہ اور عمران خان کی بہن عظمیٰ خان کی درخواستوں پر سماعت کی۔ عدالت نے ہدایت کی کہ میڈیکل بورڈ میں عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل اور عظمیٰ خان کو بھی شامل کیا جائے۔
عدالت نے آئندہ سماعت پر عمران خان کی تفصیلی میڈیکل رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ کیس کی اگلی سماعت 16 ستمبر کو ہوگی۔
میڈیکل رپورٹ میں کیا بتایا گیا؟
اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق عمران خان میں بے چینی اور گھبراہٹ کی شدید علامات پائی گئی ہیں اور ان کا اینگزائٹی لیول تھری پلس بتایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق عمران خان کا آخری طبی معائنہ 10 اگست 2026 کو ایک میڈیکل بورڈ نے کیا، جس میں آنکھوں، امراضِ قلب اور میڈیسن کے ماہر ڈاکٹرز شامل تھے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ عمران خان کا بلڈ پریشر 140/80 جبکہ نبض 54 فی منٹ ریکارڈ کی گئی۔ ان کی ای سی جی نارمل، سینہ صاف اور دل کے والوز اور چیمبرز بھی معمول کے مطابق قرار دیے گئے۔
عمران خان نے سر میں بوجھل پن اور دل کی دھڑکن تیز محسوس ہونے کی شکایت کی، تاہم سینے میں درد، بھاری پن یا سانس پھولنے کی شکایت نہیں کی۔
میڈیکل بورڈ نے بلڈ پریشر اور بے چینی کو کنٹرول کرنے کے لیے ادویات تجویز کرنے کے ساتھ روزانہ ایک گھنٹے کی چہل قدمی اور ذہنی سکون کی سرگرمیوں کی بھی سفارش کی۔

اہلخانہ سے ملاقاتیں بڑھانے کی سفارش
میڈیکل بورڈ نے عمران خان کو اخبارات، میگزین، ٹی وی اور مطالعے کی کتابیں فراہم کرنے کی سفارش کی ہے۔
رپورٹ میں اہلخانہ اور شریکِ حیات سے ملاقات کا دورانیہ بڑھانے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ میڈیکل بورڈ کے مطابق خاندانی میل جول میں اضافے سے ان کی بے چینی اور بلڈ پریشر کو قابو کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
جیل حکام کے مطابق عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جیل رولز کے تحت ہر منگل کو ملاقات ہوتی رہی ہے اور اب تک ایسی 84 ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔
’اینگزائٹی لیول تھری پلس‘ کیا ہے؟
ماہرِ نفسیات ڈاکٹر ریاض بھٹی کے مطابق اینگزائٹی لیول تھری پلس شدید بے چینی اور اضطراب کی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے۔
ان کے مطابق طویل عرصے تک تنہائی، سماجی میل جول کی کمی اور ناموافق ماحول بے چینی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں بعض افراد مایوسی یا ڈپریشن کا شکار بھی ہوسکتے ہیں۔
ماہرِ نفسیات کے مطابق ایسے حالات میں مناسب سماجی میل جول، چہل قدمی اور ورزش علامات کو کم کرنے میں مددگار ہوسکتی ہیں، جبکہ علاج کا طریقہ فرد کی طبی اور نفسیاتی صورتحال کے مطابق طے کیا جاتا ہے۔

جیل میں طبی سہولیات سے متعلق رپورٹ
جیل حکام نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ طبی عملہ عمران خان کے کھانے پینے اور صحت کی جانچ دن میں تین مرتبہ کرتا ہے۔ مختلف سرکاری ڈاکٹرز ان کا طبی معائنہ کرتے رہے ہیں جبکہ آنکھوں کے ماہر سے بھی ان کا علاج کرایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق عمران خان کی ایک آنکھ کی بینائی تقریباً معمول پر آچکی ہے۔
جیل حکام نے سپریم کورٹ میں 4 نومبر 2023 سے 10 اگست 2026 تک 39 مختلف طبی ماہرین کے معائنے کی تفصیلات بھی پیش کی ہیں۔
عدالت کا اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ
سپریم کورٹ کا یہ حکم ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عمران خان کے اہلخانہ اور پی ٹی آئی رہنما ان کی صحت اور جیل میں علاج کے حوالے سے مسلسل تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔
عدالت نے عمران خان کو آئندہ سماعت تک اسپتال میں رکھنے اور ان کے علاج کی نگرانی کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے۔