Post Main Ad Panel
Read in English بھوت کی افواہوں سے قبائلی آشرم اسکول خالی، 606 طلبہ گھروں کو واپس چلے گئے

بھوت کی افواہوں سے قبائلی آشرم اسکول خالی، 606 طلبہ گھروں کو واپس چلے گئے

 

امراوتی، بھارت: بھارتی ریاست مہاراشٹر کے ضلع امراوتی کے دور دراز علاقے میلہ گھاٹ میں ایک قبائلی رہائشی اسکول بھوت نظر آنے کی افواہوں کے بعد تقریباً خالی ہو گیا ہے۔ خوف کے باعث اسکول کے 606 طلبہ و طالبات اپنے گھروں کو واپس چلے گئے، جن میں 263 لڑکے اور 343 لڑکیاں شامل ہیں۔

ڈوما گاؤں کے آشرم اسکول میں طالبات نے مبینہ طور پر اچانک ہنسنے، رونے، چیخنے، کسی ایک سمت مسلسل دیکھنے، ہاتھ پاؤں اکڑنے اور سوالات کا جواب نہ دینے جیسی علامات ظاہر کیں۔ ان واقعات کے بعد اسکول میں بھوتوں کی موجودگی کی افواہیں پھیل گئیں۔

دلچسپ طور پر لڑکیوں کے ہاسٹل کے قریب ہی لڑکوں کا ہاسٹل بھی موجود ہے، تاہم وہاں ایسی کوئی علامات سامنے نہیں آئیں۔ توہم پرستی کے خلاف کام کرنے والے سماجی کارکنوں نے بھی اس پہلو کی جانب توجہ دلائی ہے۔

درخت کی کٹائی کے بعد افواہیں پھیلیں

ڈوما آشرم اسکول امراوتی شہر سے تقریباً 100 کلومیٹر دور واقع ہے۔ اسکول کی نئی عمارت کی تعمیر کے دوران ایک مہوا کا پرانا درخت کاٹا گیا، جس کے بعد مقامی سطح پر یہ افواہ پھیل گئی کہ درخت پر بھوتوں کا ایک خاندان رہتا تھا اور درخت کاٹے جانے کے بعد وہ ہاسٹل منتقل ہوگیا۔

اس افواہ نے طلبہ میں خوف کو مزید بڑھا دیا۔

اسکول میں مجموعی طور پر تقریباً 800 طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ تاہم 300 سے زائد طالبات کے لیے صرف تین کمرے مختص ہیں، جس کے باعث رہائشی سہولیات بھی محدود ہیں۔

لڑکوں کے لیے نئی ہاسٹل عمارت مکمل ہونے کے باوجود چار دیواری کے تنازع کے باعث اسے ابھی تک استعمال کے لیے نہیں کھولا گیا، جس کے نتیجے میں طلبہ پرانی عمارت میں رہ رہے ہیں۔

والدین اور طالبات میں خوف

متاثرہ طالبات میں سے ایک کے والد شنکر دھیکار نے بتایا کہ فی الحال اسکول کا ماحول ان کی بیٹی کے لیے موزوں نہیں، تاہم صحت یابی کے بعد وہ اسے دوبارہ اسکول بھیجنا چاہتے ہیں۔

ان کے مطابق ان کی بیٹی کو واقعے کی واضح یاد نہیں، لیکن اسکول میں پھیلنے والی افواہوں کے بارے میں اسے معلوم تھا۔

ماہرین کے مطابق ممکن ہے کہ مسلسل خوف، افواہوں اور ذہنی دباؤ نے طالبات کے رویوں پر اثر ڈالا ہو۔

ماہرین نے بھوت کے بجائے ذہنی دباؤ کو ممکنہ وجہ قرار دیا

ماہرِ نفسیات سواتی سونونے نے متاثرہ طالبات کا معائنہ کرنے کے بعد کہا کہ ان میں ذہنی دباؤ کے جسمانی اور جذباتی اثرات دیکھے گئے۔

طالبات میں بلاوجہ ہنسنے یا رونے، خوف، چیزیں بھولنے اور شدید ذہنی دباؤ جیسی علامات سامنے آئیں۔ ان کے مطابق طبی معائنے میں طالبات جسمانی طور پر صحت مند پائی گئیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خوف، توہم پرستی اور مسلسل ذہنی دباؤ بعض اوقات ایسی جسمانی اور جذباتی کیفیات پیدا کر سکتے ہیں۔

ہارر فلم دیکھنے کا پہلو بھی سامنے آیا

تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ متاثرہ طالبات میں سے بیشتر نے ’کنچنا‘ نامی ہارر فلم دیکھی تھی۔ بعض ماہرین اور مقامی افراد کا خیال ہے کہ فلم اور بھوتوں سے متعلق گفتگو نے طالبات کے خوف میں اضافہ کیا ہو سکتا ہے۔

یہ واقعہ 29 جولائی، گرو پورنیما کے روز شروع ہوا، جب ابتدائی طور پر چار طالبات نے باتھ روم سے باہر آنے کے بعد غیر معمولی رویہ اختیار کیا۔ بعد میں دیگر طالبات میں بھی ایسی علامات ظاہر ہوئیں۔

تاہم گھر واپس جانے کے بعد زیادہ تر طالبات معمول کی زندگی گزار رہی ہیں اور بعض گھریلو کاموں اور کھیتی باڑی میں بھی حصہ لے رہی ہیں۔

طالبات کو واپس لانے کی کوششیں

توہم پرستی کے خاتمے کے لیے کام کرنے والے سماجی کارکنوں نے علاقے کا دورہ شروع کر دیا ہے اور طالبات و والدین کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ بچوں کو دوبارہ اسکول بھیجا جائے۔

محکمہ قبائلی ترقی بھی طلبہ کو واپس لانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ ایڈیشنل کمشنر سندیپ گولائت کے مطابق طالبات کو محفوظ اور پُراعتماد ماحول فراہم کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

فی الحال اسکول کا ہاسٹل تقریباً خالی ہے، تاہم متعدد طالبات دوبارہ اپنی تعلیم جاری رکھنے کی خواہش رکھتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق واقعے کے پیچھے کسی ماورائی طاقت کے بجائے خوف، افواہوں، ذہنی دباؤ اور اجتماعی نفسیاتی اثرات کا کردار زیادہ ممکن نظر آتا ہے۔

Post Bottom Ad Panel