ہری پور میں 15 روز سے لاپتہ پانچ سالہ آیت نور کی لاش کنویں سے برآمد، چار ملزمان گرفتار
ہری پور، 25 اگست 2026: خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور میں 15 روز قبل لاپتہ ہونے والی پانچ سالہ بچی آیت نور کی لاش ایک خشک کنویں سے برآمد ہونے کے بعد پولیس نے چار مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان میں ایک کم عمر بھی شامل ہے، جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
آیت نور 10 اگست کو گھر کے قریب کھیلنے کے لیے نکلی تھی لیکن واپس نہیں آئی۔ اس کے والد محمد شفیق، جو ایک بیکری میں کام کرتے ہیں، نے اسی روز پولیس کو واقعے کی اطلاع دی تھی۔
15 روزہ تلاش کا اختتام
پولیس کے مطابق آیت نور کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کیا گیا۔ 24 اگست کو ایک گرفتار ملزم کی مبینہ نشاندہی پر یونیورسٹی روڈ کے قریب جھاڑیوں میں موجود ایک گہرے اور خشک کنویں سے بچی کی لاش برآمد کی گئی۔
لاش کو ہری پور کے ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں والد نے اس کی شناخت کی۔
آیت نور کی نماز جنازہ منگل کی صبح ادا کی گئی جس میں اہل علاقہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
والد کی دل دہلا دینے والی اپیل
آیت کے والد محمد شفیق نے کہا کہ ان کی بیٹی ان کی اکلوتی اولاد تھی اور وہ روزانہ ان کے گھر واپس آنے کا انتظار کرتی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ جس روز آیت لاپتہ ہوئی، وہ کام سے واپسی پر اپنی بیٹی کے لیے چیزیں بھی لائے تھے، لیکن گھر پہنچنے پر معلوم ہوا کہ وہ وہاں موجود نہیں تھی۔
بیٹی کی لاش ملنے کے بعد شفیق نے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔
انہوں نے کہا، ’’مجھے انصاف چاہیے، میری معصوم بیٹی کا کیا قصور تھا؟‘‘
پولیس نے 200 سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج دیکھی
ضلعی پولیس کے مطابق آیت نور کی گمشدگی کی تحقیقات سائنسی اور تکنیکی بنیادوں پر آگے بڑھائی گئیں۔
پولیس نے علاقے میں نصب تقریباً 200 سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ حاصل کرکے اس کا جائزہ لیا۔ حکام کے مطابق ان میں سے 12 کیمروں کی فوٹیج تفتیش میں خاص طور پر اہم ثابت ہوئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے بچی کے گھر سے نکلنے کے بعد اس کی نقل و حرکت اور مبینہ طور پر اسے ساتھ لے جانے والے افراد کے بارے میں اہم معلومات حاصل ہوئیں۔
موبائل فون ریکارڈ سے بھی مدد ملی
تفتیش کے دوران پولیس نے 20 مشتبہ موبائل نمبرز کا ریکارڈ بھی حاصل کرکے ان کا تجزیہ کیا۔
پولیس کے مطابق بعض مشتبہ افراد کم عمر تھے اور ان کے پاس شناختی کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے موبائل سمز ان کے اپنے نام پر رجسٹرڈ نہیں تھیں۔
تفتیشی ٹیم نے ملزمان کے اہلخانہ اور دیگر مشتبہ افراد کے نمبرز کا تکنیکی تجزیہ کیا، جس کے نتیجے میں پولیس اس ملزم تک پہنچی جس کی مبینہ نشاندہی پر بچی کی لاش برآمد ہوئی۔
چار ملزمان گرفتار
ہری پور پولیس کے مطابق کیس میں اب تک چار ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
پولیس کے مطابق ایک ملزم کو 21 اگست جبکہ دو دیگر کو 22 اگست کو گرفتار کیا گیا تھا۔ واقعے میں مبینہ طور پر استعمال ہونے والی موٹر سائیکل بھی برآمد کر لی گئی ہے۔
ضلعی پولیس افسر شفیع اللہ گنڈا پور کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق گرفتار ملزمان میں سے ایک نے عدالت کے روبرو بچی کے اغوا اور مبینہ جنسی زیادتی کا اعتراف کیا ہے۔
تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ ان الزامات کی حتمی تصدیق طبی، فرانزک اور ڈی این اے شواہد کے ذریعے کی جائے گی۔
400 سے زائد اہلکاروں کا سرچ آپریشن
بچی کی تلاش کے لیے پولیس نے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کیا، جس میں 400 سے زائد پولیس اہلکار شامل تھے۔
ٹاؤن میونسپل ایڈمنسٹریشن اور واٹر اینڈ سینیٹیشن حکام کی ٹیموں نے بھی پولیس کے ساتھ مل کر مختلف علاقوں میں تلاش کی۔
پولیس کے مطابق نالوں، گٹروں، گھنے گھاس والے علاقوں، خالی پلاٹوں، ویران مقامات اور یونیورسٹی آف ہری پور کے اطراف میں بھی تلاشی لی گئی۔
پٹھان کالونی سے ملحقہ علاقوں اور دیگر ممکنہ مقامات کو بھی سرچ آپریشن کا حصہ بنایا گیا۔
پوسٹ مارٹم اور ڈی این اے رپورٹ کا انتظار
کیس کے تفتیشی افسر شفیق الرحمان نے بتایا کہ بچی کے جسم سے ڈی این اے سمیت دیگر نمونے حاصل کرکے لیبارٹری بھجوائے گئے ہیں۔
ان کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ اور فرانزک شواہد سے موت کی اصل وجہ اور واقعے کے دیگر اہم پہلوؤں کا تعین کرنے میں مدد ملے گی۔
پولیس نے مقدمے میں تعزیرات پاکستان کی مختلف دفعات شامل کی ہیں، جن میں قتل، 14 سال سے کم عمر بچے کے اغوا اور ریپ سے متعلق دفعات شامل ہیں۔
پولیس کو تفتیش میں مشکلات کا سامنا
پولیس کے مطابق تحقیقات کے دوران بعض ملزمان کے کم عمر ہونے اور ان کے نام پر موبائل سمز رجسٹرڈ نہ ہونے کے باعث مشکلات پیش آئیں۔
تاہم پولیس کی ٹیکنیکل ٹیم نے اہلخانہ اور دیگر مشتبہ افراد کے موبائل ریکارڈ کا جائزہ لے کر تفتیش کو آگے بڑھایا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تمام ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ واقعے میں مزید کوئی شخص ملوث تھا یا نہیں۔
ہری پور میں عوامی احتجاج
آیت نور کی گمشدگی کے بعد ہری پور میں کئی روز تک عوامی احتجاج بھی کیا گیا تھا۔ شہریوں نے بچی کی فوری بازیابی اور ذمہ دار افراد کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔
لاش کی برآمدگی کے بعد شہریوں میں غم و غصہ مزید بڑھ گیا ہے جبکہ خاندان نے حکومت اور پولیس سے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا سخت کارروائی کا اعلان
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے آیت نور کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق سخت سزا دلائی جائے گی۔
پولیس نے کہا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا اور فرانزک و طبی رپورٹس سامنے آنے کے بعد کیس میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔