چکوال فائرنگ کیس: انکوائری رپورٹ میں پولیس اہلکار کو ہانیہ احمد کی ہلاکت کا ذمہ دار قرار دے دیا گیا
چکوال: پنجاب کے ضلع چکوال میں پاکستانی نژاد آسٹریلوی خاندان کی گاڑی پر فائرنگ کے واقعے کی 200 صفحات پر مشتمل انکوائری رپورٹ میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD) کے ایک کانسٹیبل کو 9 سالہ ہانیہ احمد کی ہلاکت اور ان کے والد و بھائی کے زخمی ہونے کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔
یہ واقعہ 10 اور 11 جون کی درمیانی شب پیش آیا تھا۔ فائرنگ میں 9 سالہ ہانیہ احمد جاں بحق جبکہ ان کے والد عدیل احمد اور 10 سالہ بھائی عفان احمد شدید زخمی ہوئے تھے۔
انکوائری رپورٹ میں کیا کہا گیا؟
رپورٹ کے مطابق دورانِ تفتیش یہ بات سامنے آئی کہ ملزم کانسٹیبل نے اپنے انچارج کی اجازت کے بغیر اور ڈیوٹی کے دائرہ کار سے ہٹ کر شہریوں کی گاڑی پر فائرنگ کی۔ رپورٹ میں اس فائرنگ کو اندھا دھند قرار دیا گیا ہے۔
کانسٹیبل نے تفتیش کے دوران مؤقف اختیار کیا کہ وہ سی سی ڈی تھانے کے مرکزی گیٹ کے قریب موجود تھا جب اسے شور سنائی دیا۔ باہر نکلنے پر اس نے ایک سفید گاڑی اور مبینہ مسلح ڈاکوؤں کو دیکھا۔ اس کے مطابق ایک شخص نے اس پر فائر کیا، جس کے جواب میں اس نے فائرنگ کی۔
تاہم ڈیوٹی افسر انسپکٹر جہانزیب خان نے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کانسٹیبل نے کسی سینئر افسر کی اجازت کے بغیر سرکاری رائفل استعمال کی اور بعد ازاں ایک نجی موٹر سائیکل پر گاڑی کا تعاقب بھی کیا۔ رپورٹ کے مطابق تین دیگر پولیس اہلکاروں نے بھی انسپکٹر کے بیان کی تائید کی۔
رپورٹ میں کانسٹیبل کے اس مؤقف کو بھی حقائق کے منافی قرار دیا گیا کہ اس نے حقِ دفاع میں فائرنگ کی۔
جائے وقوعہ سے گولیوں کے خول برآمد
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق جائے وقوعہ سے پستول کے 14 اور کلاشنکوف کے 13 خول برآمد ہوئے۔
رپورٹ میں 34 گواہوں کے بیانات بھی شامل ہیں۔ عینی شاہد احمد نواز نے بتایا کہ اس نے کلاشنکوف سے مسلح کانسٹیبل کو چلتی ہوئی گاڑی پر یکے بعد دیگرے فائر کرتے دیکھا تھا۔
تاہم پنجاب فرانزک اینڈ سائنس ایجنسی کی جانب سے فائر کی گئی گولیوں اور متاثرین سے حاصل کیے گئے نمونوں کے حوالے سے حتمی رپورٹ ابھی موصول نہیں ہوئی۔
مبینہ ڈاکو بھی ہلاک ہوئے
رپورٹ کے مطابق اس واقعے میں مبینہ طور پر ملوث دو افراد، محمد عباس اور محمد فیاض، کی شناخت ہوئی۔ پولیس کے مطابق دونوں متعدد مقدمات میں ریکارڈ یافتہ تھے۔
سی سی ڈی کے مطابق دونوں مبینہ ڈاکو 11 جون کی رات چکوال میں ایک مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں افراد نے آسٹریلوی خاندان کو لوٹنے سے قبل دو دکانوں پر بھی ڈکیتی کی تھی۔
ہانیہ احمد کون تھیں؟
ہانیہ احمد پاکستانی نژاد آسٹریلوی شہری اور پرتھ کے آسٹریلین اسلامک کالج میں چوتھی جماعت کی طالبہ تھیں۔ ان کے والد عدیل احمد انجینیئر جبکہ والدہ ڈینٹسٹ ہیں۔
یہ خاندان مئی میں پاکستان آیا تھا۔ 10 جون کو انہوں نے پاکستان میں سفر کے لیے ایک گاڑی کرائے پر لی۔ اسی رات خاندان ایک دعوت سے واپس جا رہا تھا جب چکوال میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ہانیہ کے جسم پر 11 زخموں کے نشانات پائے گئے، جن میں گولیوں کے زخم بھی شامل تھے۔ ڈاکٹروں کے مطابق شدید خون بہنے کے باعث ان کی موت ہوئی۔
پولیس حکام کے مطابق عدالتی تعطیلات کے باعث مقدمے کا باقاعدہ ٹرائل ستمبر میں شروع ہونے کا امکان ہے۔