راولپنڈی میں خاتون کے مبینہ قتل کی تحقیقات جاری، ابتدائی پوسٹ مارٹم میں متعدد زخموں کا انکشاف
راولپنڈی، 24 اگست 2026: راولپنڈی میں 45 سالہ خاتون حنا جاوید کی مبینہ ہلاکت کے معاملے میں ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں گردن کی ہڈی ٹوٹنے اور پسلیوں اور کولہے کی ہڈی پر زخموں کے نشانات کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات جاری رکھی ہوئی ہیں۔
حنا جاوید 20 اگست کو اپنے گھر کے باتھ روم میں مردہ پائی گئی تھیں۔ ان کے بھائی فہد جاوید ملک کی مدعیت میں تھانہ سول لائنز میں مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس میں مقتولہ کے شوہر، سسر اور ایک گھریلو ملازم کو نامزد کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں حنا جاوید کے دل کے گرد خون کا لوتھڑا بھی موجود پایا گیا، تاہم رپورٹ میں موت کی حتمی وجہ کا تعین نہیں کیا گیا۔ مزید شواہد اور موت کی وجہ جاننے کے لیے جسم سے حاصل کیے گئے نمونے فرانزک لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں۔
پولیس نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم موت کے تقریباً 12 گھنٹے بعد کیا گیا تھا۔
شوہر اور گھریلو ملازم زیر حراست
ایف آئی آر کے مطابق حنا جاوید کی لاش گھر کے باتھ روم سے برآمد ہوئی، جہاں ان کے ہاتھ مبینہ طور پر پیچھے بندھے ہوئے تھے، منہ پر کپڑا تھا جبکہ گردن کے گرد بجلی کی تار بندھی ہوئی تھی جو شاور کے ساتھ منسلک تھی۔
پولیس نے مقتولہ کے شوہر اور ایک گھریلو ملازم کو گرفتار کرکے عدالت سے تین روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا ہے۔
تفتیشی حکام کے مطابق ملزمان کے ڈی این اے ٹیسٹ سمیت دیگر فرانزک اور تفتیشی مراحل مکمل کیے جائیں گے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضرورت پڑنے پر ملزمان کو پولی گراف اور دیگر ٹیسٹوں کے لیے لاہور بھی لے جایا جائے گا۔
مقدمے میں نامزد حنا جاوید کے بزرگ سسر کا ابتدائی بیان بھی ریکارڈ کیا جا چکا ہے۔ پولیس کے مطابق عمر زیادہ ہونے کے باعث انہیں فی الحال گرفتار نہیں کیا گیا، تاہم انہیں تحقیقات مکمل ہونے تک علاقہ نہ چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ملزمان کے وکلا کی جانب سے تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔
اہل خانہ کا شفاف تحقیقات کا مطالبہ
حنا جاوید کے بھائی فہد جاوید ملک نے کہا کہ خاندان شدید صدمے سے دوچار ہے اور وہ واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات چاہتے ہیں۔
ایف آئی آر میں فہد جاوید نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی بہن کو شوہر نے گھریلو ملازم اور والد کی مدد سے قتل کیا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ حنا کو اس سے قبل مبینہ طور پر گھریلو تشدد کا سامنا تھا۔
خاندان کے مطابق حنا جاوید کی شادی نومبر 2025 میں ہوئی تھی۔
حنا کی کزن صباح بانو ملک نے انہیں ایک محبت کرنے والی، محنتی اور خاندان کو جوڑ کر رکھنے والی شخصیت قرار دیا۔ ان کے مطابق حنا اپنے بزرگ والدین کی دیکھ بھال بھی کرتی تھیں اور تقریباً 15 سال تک قومی اسمبلی میں کام کر چکی تھیں۔
صباح کے مطابق شادی کے بعد حنا پہلے کی نسبت زیادہ خاموش اور اپنے اندر سمٹ گئی تھیں، تاہم انہوں نے اپنی ذاتی زندگی کے مسائل کے بارے میں کھل کر بات نہیں کی۔
حنا جاوید کے اہل خانہ نے پنجاب پولیس اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقات کسی دباؤ یا تاخیر کے بغیر مکمل کی جائیں۔ خاندان کا کہنا ہے کہ گھریلو تشدد اور خواتین کے خلاف تشدد کو نجی معاملہ نہیں بلکہ سنگین جرم سمجھا جانا چاہیے۔
پولیس کے مطابق مقدمے کی تفتیش جاری ہے اور حتمی پوسٹ مارٹم و فرانزک رپورٹس کی روشنی میں موت کی اصل وجہ اور واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔