اسلام آباد کی سرحد یونیورسٹی میں فوجی افسر کی مبینہ ہوائی فائرنگ، پولیس نے تحقیقات شروع کر دیں
اسلام آباد، 25 اگست 2026: اسلام آباد پولیس نے سرحد یونیورسٹی میں طلبہ اور لیفٹیننٹ کرنل رینک کے ایک فوجی افسر کے درمیان جھگڑے اور مبینہ ہوائی فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں، جبکہ واقعے کو پولیس کے روزنامچے میں درج کرلیا گیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق 24 اگست کو پیش آنے والے واقعے میں فوجی افسر اور طلبہ کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی، جس کے بعد افسر کی جانب سے مبینہ طور پر ہوائی فائرنگ کی گئی۔ واقعے کے بعد طلبہ نے یونیورسٹی سے باہر نکل کر جی ٹی روڈ پر احتجاج کیا اور ٹریفک بلاک کردی۔
اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ واقعے کا اندراج روزنامچے میں کیا گیا ہے اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
پولیس کے مطابق متعلقہ فوجی افسر کو حفاظتی تحویل میں لے کر فوجی حکام کے حوالے کیا جا چکا ہے۔ ایک پولیس افسر نے بتایا کہ فوجی افسر کے خلاف محکمانہ کارروائی کا امکان ہے۔
عسکری ذرائع کے مطابق فوج کی اعلیٰ قیادت نے واقعے کا سخت نوٹس لیا ہے اور قانون کی خلاف ورزی ثابت ہونے کی صورت میں کارروائی کی جائے گی۔
واقعہ کیسے پیش آیا؟
پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق تنازع کی ابتدا چند روز قبل یونیورسٹی کے ایک ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ اور فوجی افسر کی اہلیہ، جو یونیورسٹی میں ہیومن ریسورسز کی ڈائریکٹر ہیں، کے درمیان اختلاف سے ہوئی تھی۔
پولیس کے مطابق خاتون نے متعلقہ ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کے خلاف مبینہ ہراسانی اور دھمکیوں کی شکایت درج کرائی تھی۔ بعد میں یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے فریقین کے درمیان معاملہ طے کرایا گیا اور شکایت کنندہ نے مزید قانونی کارروائی نہ کرنے کی درخواست دی تھی۔
یونیورسٹی کے ایک اہلکار کے مطابق انتظامیہ نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ پہلے سے طے شدہ معاملہ دوبارہ کیسے شدت اختیار کر گیا اور طلبہ اس تنازع میں کیسے شامل ہوئے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق 24 اگست کو طلبہ ایک معاملے پر احتجاج کر رہے تھے جب فوجی افسر کی اہلیہ وہاں پہنچیں۔ حکام کے مطابق بعض طلبہ کی جانب سے نعرے بازی اور آوازیں کسنے کے بعد صورتحال کشیدہ ہوئی۔
یونیورسٹی کے ایک ملازم محمد نعمان کے مطابق فوجی افسر موقع پر پہنچے تو ان کے ہاتھ میں مبینہ طور پر ایک چھڑی تھی، جس سے انہوں نے بعض طلبہ کو مارا، جس کے بعد ہاتھا پائی شروع ہوگئی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعد ازاں فوجی افسر نے ہوائی فائرنگ کی اور وہاں سے چلے گئے۔
پولیس کی موجودگی میں واقعہ
پولیس حکام کے مطابق واقعے کے وقت اسلام آباد پولیس کے اہلکار پہلے ہی موقع پر موجود تھے کیونکہ یونیورسٹی کے باہر احتجاج جاری تھا۔
اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل پولیس حمزہ ہمایوں نے مظاہرین سے مذاکرات کیے اور انہیں ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔
واقعے کے بعد طلبہ یونیورسٹی سے باہر نکل آئے اور جی ٹی روڈ پر ٹریفک روک دی۔ پولیس نے مظاہرین سے مذاکرات کے بعد صورتحال کو معمول پر لانے کی کوشش کی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز کو تحقیقات کا حصہ بنایا جا رہا ہے، تاہم ان ویڈیوز کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔
سرحد یونیورسٹی انتظامیہ نے بھی واقعے کے خلاف متعلقہ پولیس اسٹیشن میں درخواست جمع کرانے کی تصدیق کی ہے۔
حکام کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور واقعے میں ملوث افراد کی ذمہ داری کا تعین شواہد اور ویڈیوز کے جائزے کے بعد کیا جائے گا۔