Post Main Ad Panel
Read in English 16 سالہ بھارتی لڑکا زیادہ تر وقت پانی میں کیوں گزارتا ہے؟ ’باہر آتے ہی پورے جسم میں جلن شروع ہو جاتی ہے‘

16 سالہ بھارتی لڑکا زیادہ تر وقت پانی میں کیوں گزارتا ہے؟ ’باہر آتے ہی پورے جسم میں جلن شروع ہو جاتی ہے‘

 

کولکتہ، بھارت — 25 اگست 2026: بھارت کی مشرقی ریاست مغربی بنگال کے ضلع مرشد آباد سے تعلق رکھنے والے 16 سالہ لڑکے اقبال کی غیر معمولی کیفیت نے سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کرلی ہے۔ اقبال کا کہنا ہے کہ پانی سے باہر آتے ہی اس کے پورے جسم میں شدید جلن شروع ہوجاتی ہے، جس کے باعث وہ دن کا بیشتر حصہ تالاب کے پانی میں گزارنے پر مجبور ہے۔

بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق بیلڈانگا کے رہائشی اقبال نے بتایا کہ جیسے ہی وہ پانی سے باہر آتا ہے، اس کے پورے جسم میں جلن شروع ہوجاتی ہے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں اقبال کو گھنٹوں تالاب میں موجود دیکھا جاسکتا ہے۔ بعض ویڈیوز میں وہ پانی میں رہتے ہوئے کھانا کھاتے ہوئے بھی نظر آتا ہے۔

اقبال کی غیر معمولی کیفیت نے بھارتی کاروباری شخصیت اننت امبانی کی توجہ بھی حاصل کی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اننت امبانی نے اقبال کے علاج کے لیے ایک طبی ٹیم روانہ کی، جس نے اس کا ابتدائی معائنہ کیا۔

بعد ازاں اقبال کو مزید طبی معائنے اور تشخیص کے لیے ممبئی منتقل کیا گیا، جہاں اسے سر ایچ این ریلائنس فاؤنڈیشن ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

تاہم ڈاکٹروں کی جانب سے تاحال اقبال کی کیفیت کی کوئی حتمی تشخیص سامنے نہیں آئی۔

بچپن سے طبی مسائل کا سامنا

مقامی افراد کے مطابق اقبال صبح سے رات تک کسی نہ کسی تالاب میں موجود رہتا ہے اور کئی گھنٹے پانی میں گزارتا ہے۔ بعض اوقات وہ دوسرے تالابوں کا رخ بھی کرتا ہے۔

اقبال کے والدین کا کہنا ہے کہ بچپن ہی سے اسے مختلف طبی مسائل کا سامنا رہا ہے اور ماضی میں اسے علاج کے لیے ہسپتال میں بھی داخل کرایا گیا تھا، تاہم صحت میں خاطر خواہ بہتری نہیں آئی۔

والدین کے مطابق اب وہ مزید علاج کے اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے، جس کے باعث انہوں نے حکام اور مخیر حضرات سے مدد کی اپیل کی ہے۔

مسلسل پانی میں رہنے سے صحت کو خطرات

ماہرین کے مطابق طویل عرصے تک پانی میں رہنے سے جلد کو نقصان پہنچنے اور مختلف انفیکشنز کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

ماہرینِ امراضِ جلد کا کہنا ہے کہ مسلسل گیلی رہنے والی جلد نرم اور کمزور ہوسکتی ہے، جس سے فنگس اور بیکٹیریا کے انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ طویل عرصے تک نمی کے اثر سے جلد میں دراڑیں، سوزش اور دیگر مسائل بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔

این ڈی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ایک ماہرِ امراضِ جلد نے اقبال کو فوری طبی معائنہ کرانے اور طویل عرصے تک پانی میں رہنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا۔

ماہر نے یہ بھی کہا کہ اقبال کے پانی میں مسلسل رہنے کی بنیادی وجہ جاننا ضروری ہے تاکہ مناسب علاج کیا جاسکے۔

ماہرین کے مطابق اگر اس رویے کے پیچھے ذہنی دباؤ، خوف، کسی مخصوص عقیدے یا نفسیاتی مسئلے کا کردار ہے تو اقبال کا نفسیاتی معائنہ بھی کیا جانا چاہیے۔

ڈاکٹروں کی جانب سے مزید طبی تحقیقات کے بعد ہی یہ واضح ہوسکے گا کہ اقبال کو پانی سے باہر آنے پر جسم میں شدید جلن کیوں محسوس ہوتی ہے اور اس کے لیے مؤثر علاج کیا ہوسکتا ہے۔

 
 
Post Bottom Ad Panel