پمز نرسری میں آتشزدگی: 14 نومولود جاں بحق، فائر سیفٹی پر سنگین سوالات
اسلام آباد، 27 اگست 2026ء — پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی نومولود بچوں کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 بچوں کی ہلاکت نے ملک کے سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی، ہنگامی انخلا اور انتظامی تیاریوں پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
حکام کے مطابق واقعے کے وقت نرسری میں 15 نومولود بچے موجود تھے، جن میں سے صرف ایک کو زندہ بچایا جا سکا۔ حکومت نے واقعے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جبکہ وفاقی سیکرٹری صحت اسلم غوری کو معطل کر دیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ آگ کی حتمی وجہ کا تعین تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا، تاہم ابتدائی رپورٹ میں ممکنہ طور پر برقی شارٹ سرکٹ یا کسی پلگ پر زائد بوجھ کو آگ لگنے کی وجہ قرار دیا گیا ہے۔

آگ چند منٹ میں پوری نرسری میں پھیل گئی
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے مطابق ابتدائی معلومات میں بتایا گیا ہے کہ آگ صبح تقریباً 6 بج کر 38 منٹ پر لگی۔ عملے کے مطابق ممکنہ طور پر ایئر کنڈیشنر سے چنگاری نکلی، جس کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔
وزیر صحت کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ تقریباً ایک منٹ بعد لوگ نرسری سے باہر نکلنا شروع ہوگئے، تاہم اس کے فوراً بعد کمرہ آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔
واقعے کے وقت نرسری میں دو ڈاکٹرز اور دو انچارج نرسیں موجود تھیں۔ حکام کے مطابق 15 میں سے 14 بچے آکسیجن پر تھے، جس کی وجہ سے آگ کے تیزی سے پھیلنے کا امکان مزید بڑھ گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق ایسے ماحول میں آکسیجن آگ کی شدت میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہے، خصوصاً اس صورت میں جب فائر سپریشن اور خودکار سپرنکلر نظام موجود نہ ہو۔
فائر سیفٹی انتظامات پر سوالات
کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی فائر انسیڈنٹ رپورٹ میں مبینہ طور پر پمز میں آگ سے تحفظ اور انسانی جانوں کے انخلا کے انتظامات کو ناکافی قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بعض ہنگامی اخراج کے راستے بند تھے اور فائر بریگیڈ کے ابتدائی ردعمل کے دوران ہسپتال کے سکیورٹی عملے کی جانب سے رکاوٹ پیش آنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق آگ بجھانے کے لیے 26 فائر ایکسٹنگوئشرز استعمال کیے گئے، تاہم نرسری میں خودکار سپرنکلر سسٹم موجود نہیں تھا۔
فائر سیفٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ انتہائی نگہداشت والے شعبوں، خصوصاً نومولود بچوں کی نرسریوں میں صرف دستی فائر ایکسٹنگوئشرز پر انحصار کافی نہیں ہوتا۔ ایسے مقامات پر فائر ڈیٹیکشن، سموک الارم، خودکار سپرنکلر اور واضح ایمرجنسی ایگزٹ سمیت متعدد حفاظتی نظام ضروری ہوتے ہیں۔
ایمرجنسی دروازے کیوں بند تھے؟
واقعے کے بعد سب سے اہم سوالات میں سے ایک نرسری کے ہنگامی اخراج کے راستوں سے متعلق ہے۔
وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے مطابق ماضی میں نومولود بچوں کے اغوا کے واقعات کے بعد نرسری کے ایک دروازے کو بند رکھنے کا انتظام کیا گیا تھا، جبکہ دوسرے دروازے پر سکیورٹی گارڈ تعینات رہتا تھا۔
تاہم پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رانا عمران سکندر نے اس تاثر کی تردید کی کہ نرسری کے دروازے پر تالا لگا ہوا تھا۔ ان کے مطابق وہاں عملہ موجود تھا اور سکیورٹی انتظامات بچوں کو اغوا سے محفوظ رکھنے کے لیے کیے گئے تھے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ انکوائری کمیٹی اس بات کا بھی جائزہ لے گی کہ ایمرجنسی دروازوں کی صورتحال کیا تھی اور آگ لگنے کے وقت عملے نے کس طرح ردعمل دیا۔
ریسکیو ٹیمیں تاخیر سے پہنچیں یا نہیں؟
آتشزدگی کے بعد بعض عینی شاہدین نے امدادی کارروائیوں میں مبینہ تاخیر کا الزام عائد کیا۔
ایک عینی شاہد نے اے ایف پی کو بتایا کہ آگ کے دوران ان کی تین دن کی بیٹی بھی جاں بحق ہوئی اور انھیں امداد کے انتظار میں سڑک پر بیٹھنا پڑا۔
ایک اور عینی شاہد کے مطابق عمارت کے اندر دھواں بہت زیادہ تھا اور بعض افراد پھنس گئے تھے۔
تاہم وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے امدادی ٹیموں کی تاخیر کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کنٹرول روم میں کال موصول ہونے کے تقریباً چھ منٹ بعد ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ انکوائری کے دوران ریسکیو کارروائی کے ہر مرحلے اور دستیاب سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا جائے گا۔
بچوں کی شناخت کیسے ہوئی؟
آگ کی شدت کے باعث ابتدائی طور پر بچوں کی شناخت کے حوالے سے بھی سوالات سامنے آئے تھے۔
اسلام آباد پولیس نے پہلے کہا تھا کہ لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ تاہم بعد میں حکام نے بتایا کہ تمام 14 بچوں کی میتیں ان کے ورثا کے حوالے کر دی گئی ہیں۔
طلال چوہدری کے مطابق بعض بچوں کے ہاتھوں پر شناختی بینڈ موجود تھے، جبکہ طبی ریکارڈ، عمر، جنس اور دیگر معلومات کی مدد سے بھی شناخت کی گئی۔
ان کے مطابق میتیں ورثا کے حوالے کرنے سے قبل متعلقہ طبی اور انتظامی عمل کے ذریعے تصدیق کی گئی۔
تحقیقات میں کن سوالات کے جواب تلاش کیے جائیں گے؟
حکومت کی قائم کردہ انکوائری کمیٹی کو واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینا ہوگا، جن میں:
-
آگ لگنے کی اصل وجہ کیا تھی؟
-
نرسری میں فائر سیفٹی کے مطلوبہ انتظامات موجود تھے یا نہیں؟
-
ایمرجنسی اخراج کے راستے کس حالت میں تھے؟
-
کیا فائر الارم اور سپرنکلر سسٹم فعال یا نصب تھے؟
-
آگ لگنے کے بعد عملے نے کتنی تیزی سے کارروائی کی؟
-
فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیموں کو پہنچنے میں کتنا وقت لگا؟
-
آکسیجن سپلائی نے آگ کے پھیلاؤ میں کیا کردار ادا کیا؟
-
کیا ہسپتال میں باقاعدہ فائر سیفٹی معائنہ اور تربیت کا نظام موجود تھا؟
سرکاری ہسپتالوں کے لیے بڑا سوال
پمز میں ہونے والا واقعہ پاکستان کے سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کے معیار پر ایک وسیع بحث کو جنم دے سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق نوزائیدہ بچوں کی نرسریاں عام وارڈز کے مقابلے میں زیادہ حساس ہوتی ہیں کیونکہ وہاں موجود مریض خود عمارت سے باہر نکلنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اس لیے آگ سے بچاؤ، خودکار الارم، سپرنکلر، واضح ایمرجنسی راستے اور عملے کی باقاعدہ تربیت انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔
پمز سانحے کی حتمی ذمہ داری اور آگ کی اصل وجہ کا تعین انکوائری اور فرانزک تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ہو سکے گا۔ حکومت نے کہا ہے کہ تحقیقات میں سی سی ٹی وی فوٹیج، فائر رپورٹ، ہسپتال کا ریکارڈ اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا جائے گا۔