رینجرز کیمپ پر حملے کا ماسٹر مائنڈ قاری بشیر گرفتار
کرائم

رینجرز کیمپ پر حملے کا ماسٹر مائنڈ قاری بشیر گرفتار

calendar_month 14 July 2026 visibility 6

(ڈیجیٹل اطلاع) قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کراچی میں رینجرز کیمپ (کے ٹی سی) پر ہونے والے حملے کے پورے نیٹ ورک کو بے نقاب کرتے ہوئے مرکزی دہشت گرد اور متعدد سہولت کاروں کو گرفتار کر لیا ہے۔
اس حوالے سے صوبائی وزیر داخلہ ضیا النجار، آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی اور ایس ایس پی عرفان بہادر نے اہم تفصیلات سے آگاہ کیا ہے۔
ایس ایس پی عرفان بہادر کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حملے کے فوری بعد کارروائی کرتے ہوئے مرکزی دہشت گرد محمد بشیر عرف قاری بشیر کو گرفتار کیا۔
تفتیش کے دوران معلوم ہوا ہے کہ دہشت گرد افغانستان سے روانگی کے بعد پاکستانی حدود عبور کر کے پہلے حب سٹی پہنچے، جہاں سے انہیں ایک خصوصی گاڑی کے ذریعے چمڑا چورنگی کراچی لایا گیا۔ خارجی دہشت گرد قاری بشیر نے ان تمام حملہ آوروں کو کرائے کے کمرے میں ٹھہرایا اور کراچی میں ان کی ہر قسم کی سہولت کاری کی ذمہ داری خود سنبھالی۔ اس نیٹ ورک میں قاری بشیر کے ساتھ دیگر 13 سہولت کار بھی شامل تھے۔ ایس ایس پی نے بتایا کہ گرفتار ملزم قاری بشیر کا اعترافی بیان قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مل چکا ہے، جس میں اس نے سہولت کاری کے پورے طریقہ کار کی تفصیلات بتائی ہیں۔ ملزم کے قبضے سے وہ ویڈیوز بھی برآمد ہوئی ہیں جن میں دہشت گرد حملے کی تیاری کر رہے ہیں۔
ایس ایس پی کا کہنا تھا کہ ایک ویڈیو میں خودکش بمبار ‘جانان’ دوسرے خارجی دہشت گرد ‘عمر’ کو حملے کی تربیت دے رہا ہے، جس کی ذہن سازی افغانستان کے تربیتی کیمپ میں کی گئی تھی۔
ایس ایس پی نے بتایا کہ دوسری ویڈیو میں دہشت گرد روانگی سے قبل ہتھیاروں کی جانچ کرتے دیکھے جا سکتے ہیں، جبکہ قاری بشیر انہیں رخصت کر رہا ہے۔
پولیس کے مطابق قاری بشیر کا کہنا ہے کہ وہ اسلحہ فراہم کرنے والوں کے بارے میں نہیں جانتا تھا کیونکہ افغانستان میں موجود قیادت ہر گروہ کو براہِ راست مانیٹر اور گائیڈ کر رہی تھی۔
قاری بشیر نے پولیس کو بتایا کہ اس گروہ کو اسلحہ فراہم کرنے والے مرکزی اسمگلر گرفتار ہو چکے ہیں، جن میں دہشت گرد احسان اللہ بھی شامل ہے جس نے کورنگی میں دیگر دہشت گردوں کو اسلحہ فراہم کیا تھا۔
صوبائی وزیر داخلہ سندھ ضیا النجار نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ بعض افغان شہری یہاں عارضی رہائش پر مقیم تھے اور کچھ نے تو مقامی سطح پر شادیاں بھی کر رکھی تھیں۔
انہوں نے پختونوں کے روپ میں افغان شہریوں کی آمد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ اب حکومت نے دوٹوک فیصلہ کیا ہے کہ بغیر ویزے کے رہنے والے ہر افغان شہری کو فوری طور پر ڈی پورٹ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین استعمال ہو رہی ہے اور اس تخریب کاری میں بھارت بھی ملوث ہے۔
آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے سیکیورٹی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان بزدلانہ حملوں کا اصل مقصد کراچی کے امن کو سبوتاژ کرنا ہے۔ صوبے بھر سے کافی بڑی تعداد میں دہشت گرد پکڑے جا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال سندھ میں 37 دہشت گردانہ واقعات ہوئے تھے جبکہ رواں سال صوبے میں اب تک 7 دہشت گردی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ مختلف کارروائیوں کے دوران اب تک 75 کے قریب دہشت گرد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔
آئی جی سندھ نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ دہشت گردوں کو لاجسٹک سپورٹ اور ہتھیار افغانستان سے فراہم کیے جا رہے ہیں۔
ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی نے بتایا کہ کے ٹی سی رینجرز کیمپ حملے کے تمام سہولت کاروں اور کرداروں کو گرفتار کر کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر توڑ دیا گیا ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ دہشت گرد گروپ ‘جماعت الاحرار’ نے کافی عرصے بعد کراچی میں خود کو ظاہر کیا ہے اور اس حملے میں ملوث خوارج کو افغانستان میں بیٹھی قیادت کی مکمل سپورٹ حاصل تھی۔
انہوں نے حملہ آوروں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ مارا جانے والا دہشت گرد ‘جانان’ افغانستان کے صوبے فراہ کا رہائشی تھا، جبکہ دوسرا دہشت گرد ‘بلال’ باجوڑ میں پیدا ہوا لیکن گزشتہ 20 سال سے افغان صوبے کنڑ میں مقیم تھا۔ اس کے علاوہ، گرفتار دہشت گرد ‘عثمان’ کا تعلق افغانستان کے صوبے ننگرہار سے ہے۔ اس پورے کیس کی تفتیش تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔