امیروں کے پھل جلد دنیا سے ختم ہونے والے ہیںٗ تحقیق
(ڈیجیٹل اطلاع) صحت بخش غذا کا ذکر ہو تو آج کل ڈریگن فروٹ(Dragon fruit) کیوی(kiwi) ایووکاڈو(avocado) اور پیشن فروٹ(passion fruit) جیسے مہنگے اور غیر ملکی پھل اکثر لوگوں کی پہلی پسند بن چکے ہیں، جنہیں عام طور پر امیروں کی پسندیدہ سوغاتیں بھی کہا جاتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں دنیا کے مختلف ممالک میں ان پھلوں کی کاشت میں نمایاں اضافہ ہوا کیونکہ ان کی مانگ مسلسل بڑھی اور کسانوں کو روایتی فصلوں کے مقابلے میں کہیں بہتر آمدنی حاصل ہونے لگی تاہم، اب مارکیٹ میں یہ تشویشناک سوال گونج رہا ہے کہ کیا واقعی ان میں سے چند قیمتی پھلوں کا وجود ہمیشہ کے لیے ختم ہونے والا ہے؟
ماہرینِ موسمیات اب بڑی شدومد کے ساتھ خبردار کر رہے ہیں کہ تیزی سے بدلتی ہوئی آب و ہوا ان نایاب پھلوں کی بقا اور پیداوار کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ، بارش کے بدلتے ہوئے انداز اور شدید موسمی واقعات ان پھلوں کی افزائش، پھول آنے کے عمل اور پیداوار پر منفی اثرات ڈال رہے ہیں۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو مستقبل میں ان پھلوں کی کاشت مزید مشکل ہو سکتی ہے۔
گرمی کی شدت نے خاص طور پر ڈریگن فروٹ کی کاشت کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ اگرچہ اس پھل کو کم پانی میں اگنے والی اور نسبتاً سخت جان فصل سمجھا جاتا ہے، لیکن یہ بھی شدید گرمی سے محفوظ نہیں۔ باغبانی کے شعبے سے وابستہ محققین کے مطابق جب گرمی کا درجہ حرارت مسلسل 36 سے 40 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ رہے تو ڈریگن فروٹ کے پودے شدید دھوپ سے متاثر ہوتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق زیادہ گرمی پودوں کے تنوں اور پھلوں کو نقصان پہنچاتی ہے، پھول آنے کا عمل کمزور پڑ جاتا ہے، پھل بننے کی شرح گھٹ جاتی ہے اور اگر مناسب اقدامات نہ کیے جائیں تو پیداوار میں 30 سے 60 فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔
دوسری جانب کیوی کو ایک مختلف چیلنج کا سامنا ہے۔ یہ پھل قدرتی طور پر نسبتاً ٹھنڈے علاقوں میں بہتر نشوونما پاتا ہے۔ حالیہ جائزوں کے مطابق طویل دورانیے کی شدید گرمی کی لہریں پودوں میں فوٹو کمپلیشن کے عمل کو متاثر کرتی ہیں، جس سے نہ صرف پھل کی نشوونما متاثر ہوتی ہے بلکہ اس کی پیداوار اور معیار بھی کم ہو جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر درجہ حرارت میں اضافہ اسی رفتار سے جاری رہا تو کیوی کی روایتی کاشت کے علاقے مستقبل میں کم موزوں ہو سکتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں گرمی برداشت کرنے والی نئی اقسام متعارف کرانے اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ باغبانی کے طریقوں کو اپنانا ضروری ہوگا۔
صرف ڈریگن فروٹ اور کیوی ہی نہیں بلکہ پیشن فروٹ بھی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے محفوظ نہیں۔ اس پھل کی بہتر پیداوار کے لیے معتدل درجہ حرارت اور زمین میں مناسب نمی ضروری ہوتی ہے، لیکن بڑھتی ہوئی گرمی اور بے ترتیب بارشیں اس کے پھول آنے، پھل بننے اور مجموعی پیداوار کو متاثر کر رہی ہیں۔ اسی لیے ماہرین آبپاشی اور پانی کے مؤثر انتظام کو پہلے سے زیادہ اہم قرار دے رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق مسئلہ صرف گرمی میں اضافے تک محدود نہیں بلکہ شدید موسمی واقعات کی بڑھتی ہوئی تعداد بھی باغبانی کے شعبے کے لیے بڑا خطرہ بن رہی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث ہیٹ ویوز، غیر معمولی بارشوں اور طویل خشک سالی جیسے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جو پھلوں کے باغات کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
اگر پھول آنے کے موسم میں بے وقت بارش ہو جائے تو پولینیشن کا عمل متاثر ہوتا ہے، جبکہ شدید بارشیں پھپھوندی سے ہونے والی بیماریوں کے امکانات بڑھا دیتی ہیں۔ دوسری جانب طویل خشک موسم خاص طور پر نئے لگائے گئے باغات میں پانی کی شدید کمی پیدا کر دیتا ہے کیونکہ ان کے پودوں کی جڑیں ابھی پوری طرح مضبوط نہیں ہوتیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پھلوں کے باغات سالانہ فصلوں کی طرح نہیں ہوتے بلکہ انہیں تیار ہونے میں کئی برس لگتے ہیں۔ ایسے میں ایک ہی موسم کی شدید موسمی تباہی نہ صرف اس سال کی پیداوار کو متاثر کرتی ہے بلکہ آنے والے برسوں میں بھی درختوں اور بیلوں کی پیداوار پر اس کے اثرات باقی رہ سکتے ہیں۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مستقبل میں غیر ملکی پھلوں کی کامیاب کاشت کا انحصار صرف نئی اقسام متعارف کرانے پر نہیں ہوگا بلکہ انہیں بدلتے ہوئے موسم کے مطابق زیادہ مضبوط اور موافق بنانے پر ہوگا۔ گرمی برداشت کرنے والی اقسام، سایہ فراہم کرنے کے مؤثر انتظامات، بہتر آبپاشی اور جدید باغبانی کے طریقے اب ان پھلوں کی کامیاب پیداوار کے لیے ناگزیر بنتے جا رہے ہیں۔
اگرچہ سپر مارکیٹوں میں سجے رنگ برنگے غیر ملکی پھل آج بھی عام صارف کو پہلے جیسے ہی دکھائی دیتے ہیں، لیکن ان پھلوں کو اگانے والے کسانوں کے لیے موسمیاتی تبدیلی خاموشی سے ایک ایسا چیلنج بن چکی ہے جو باغ سے دسترخوان تک کے پورے سفر کو متاثر کر رہی ہے۔