لاہور : اچھرہ میں ٹیوشن سینٹر میں جاں بحق ہونے والی طالبہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آگئی ، جس میں گلے میں پھندا لگنے سے موت ہوئی۔ تفصیلات کے مطابق لاہور کے علاقے اچھرہ میں ٹیوشن سینٹر جانے والی 10 سالہ معصوم طالبہ کی پراسرار ہلاکت کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی۔ پوسٹ مارٹم کے عمل کے بعد چھٹی جماعت کی مقتول طالبہ کی لاش ورثاء کے حوالے کر دی گئی ہے، ابتدائی رپورٹ میں موت کی وجوہات بتائی گئیں ہیں۔ طالبہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں درج ذیل حقائق سامنے آئے، جس میں بتایا گیا کہ طالبہ کی موت گلے میں پھندا لگنے کے باعث دم گھٹنے سے ہوئی ہے اور اس کے گلے پر رسی کا واضح نشان موجود ہے۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق طالبہ کے جسم پر کسی قسم کے تشدد یا زبردستی کے دیگر نشانات نہیں پائے گئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ موت کی حتمی وجہ کا تعین فرانزک اور کیمیکل ایگزامینر کی تفصیلی رپورٹ کے بعد ہی کیا جائے گا۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے حاصل کیے گئے فنگر پرنٹس اور ڈی این اے کے شواہد فرانزک لیبارٹری بھجوا دیے ہیں۔ گزشتہ روز افسوسناک واقعہ پیش آیا، جب 10 سالہ بچی اچھرہ میں واقع اپنے ٹیوشن سینٹر گئی تھی، کلاس کے دوران وہ واش روم گئی، لیکن جب 10 منٹ سے زائد وقت گزرنے کے بعد بھی باہر نہ آئی تو انتظامیہ نے واش روم کا دروازہ توڑا، جہاں سے بچی کی لاش ملی۔ مقتولہ کے والد نے بتایا تھا کہ "میری مزید دو بیٹیاں بھی اسی ٹیوشن سینٹر میں پڑھتی ہیں۔ مجھے سینٹر سے فون آیا کہ آپ کی بیٹی بے ہوش ہو گئی ہے۔ جب میں فوری طور پر پہنچا اور بیٹی کو لے کر ہسپتال بھاگا تو ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد بتایا کہ اس کا انتقال تو اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی ہو چکا تھا۔ پولیس نے واقعے کو انتہائی مشکوک قرار دیتے ہوئے خودکشی، قتل اور دیگر تمام ممکنہ پہلوؤں پر تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ٹیوشن سینٹر کے مالکِ مکان کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ شروع کر دی ہے، جبکہ جائے وقوعہ اور اس کے اطراف کی تمام سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی اپنے قبضے میں لے لی ہیں۔ پولیس ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق متوفی طالبہ ماضی میں بھی مبینہ طور پر ایک بار خودکشی کی کوشش کر چکی تھی، تاہم پولیس تمام زاویوں سے حقائق کو پرکھ رہی ہے تاکہ اصل صورتحال واضح ہو سکے۔