نواز شریف نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں گلگت بلتستان میں متعدد منصوبے شروع اور مکمل کیے گئے، جن میں اسپتالوں کی تعمیر، ہائیڈل پاور منصوبے اور نگر کا منصوبہ شامل ہیں۔ ان کے مطابق بعد کے ادوار میں ان منصوبوں پر وہ توجہ نہیں دی گئی جس کی وہ ضرورت تھی، جس کے باعث خطے کی ترقی سست پڑ گئی۔ انہوں نے گلگت بلتستان کے ہوائی اڈے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں یہاں بڑے طیاروں کی لینڈنگ کے لیے سہولتیں ناکافی ہیں۔ ان کے مطابق گلگت ایئرپورٹ کو جدید اور وسیع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ سیاحت اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ وہ وزیر اعظم شہباز شریف سے بات کریں گے کہ اس منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے۔
خطاب میں انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سیاحت کے وسیع امکانات موجود ہیں اور اگر انفراسٹرکچر بہتر ہو جائے تو یہ خطہ روزگار کا بڑا مرکز بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق سیاحتی شعبے کی ترقی سے مقامی نوجوانوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے اور خطے کی معیشت مضبوط ہوگی۔ نواز شریف نے تعلیم اور صحت کے شعبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں جدید اسپتالوں کی کمی ہے اور مریضوں کو علاج کے لیے اسلام آباد یا دوسرے بڑے شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش ہوگی کہ مقامی سطح پر علاج کی بہتر سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ لوگوں کو مشکلات نہ ہوں۔
انہوں نے ہاؤسنگ اور قرضوں کے حوالے سے بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو آسان اقساط اور بلاسود قرضوں کے ذریعے گھر بنانے کے مواقع ملنے چاہئیں۔ ان کے مطابق نوجوانوں کے لیے تعلیمی اسکالرشپس اور لیپ ٹاپ اسکیمیں بھی ضروری ہیں تاکہ وہ جدید تعلیم حاصل کر سکیں۔
نواز شریف نے دیامر بھاشا ڈیم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں زمین کے لیے 100 ارب روپے فراہم کیے گئے تھے، تاہم اس منصوبے میں غیر معمولی تاخیر ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ڈیم نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ پورے پاکستان کے لیے اہم ہے کیونکہ اس سے پانی کے ذخائر اور بجلی کی پیداوار دونوں میں بہتری آئے گی۔
انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ اگر ان کی جماعت کو موقع ملا تو وہ ان منصوبوں کی خود نگرانی کریں گے اور ہر چند ماہ بعد گلگت بلتستان کا دورہ کر کے ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیں گے۔ ان کے مطابق وہ چاہتے ہیں کہ خطہ ترقی کرے اور یہاں کے عوام کو وہ سہولتیں ملیں جن کے وہ مستحق ہیں۔