مہنگا ورلڈ کپ امریکی ہوٹلوں اور ایئرلائنز کے لیے متوقع معاشی فائدہ نہ لا سکا
نیویارک: فیفا ورلڈ کپ کے آغاز سے چند گھنٹے قبل ہی یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ امریکہ کی سیاحت اور سفری صنعت کو اس بڑے عالمی ایونٹ سے وہ فائدہ حاصل نہیں ہو رہا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔
برسوں سے ورلڈ کپ کو امریکی ہوٹلوں، ایئرلائنز اور سیاحتی شعبے کے لیے ایک بڑے معاشی موقع کے طور پر دیکھا جا رہا تھا، تاہم ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق بین الاقوامی اور مقامی شائقین کی کم دلچسپی کے باعث متوقع سیاحتی رش دیکھنے میں نہیں آیا۔
ماہرین کے مطابق مہنگے میچ ٹکٹ، ویزا کے مسائل اور امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں پھیلے 16 میزبان شہروں کے درمیان سفر کی پیچیدہ صورتحال شائقین کی بڑی تعداد کو سفر سے روک رہی ہے۔
نیویارک سٹی ہوٹل ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر وجے ڈنڈاپانی نے صورتحال کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ "اسے مایوسی کے علاوہ کسی اور نام سے نہیں پکارا جا سکتا۔"
انہوں نے بتایا کہ ایسوسی ایشن نے ورلڈ کپ سے حاصل ہونے والی ہوٹل آمدنی کی پیش گوئی میں 60 فیصد کمی کر دی ہے، جس کے بعد متوقع آمدنی تقریباً 60 ملین ڈالر رہ گئی ہے۔
یورپ سے فلائٹ بکنگز میں نمایاں کمی
ایوی ایشن ڈیٹا کمپنی سیریم (Cirium) کے مطابق جون اور جولائی کے دوران یورپ سے ورلڈ کپ کے میزبان شہروں کے لیے فلائٹ بکنگز گزشتہ سال کے مقابلے میں اوسطاً 3.8 فیصد کم ہیں۔
سب سے زیادہ کمی نیویارک میں دیکھی گئی، جہاں 19 جولائی کو ورلڈ کپ کا فائنل کھیلا جائے گا۔ یورپ سے نیویارک آنے والی پروازوں کی بکنگ میں 15.8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
فیفا نے اندازہ لگایا تھا کہ تقریباً 12 لاکھ شائقین نیویارک کا رخ کریں گے، تاہم مقامی ہوٹل انڈسٹری اب صرف 5 لاکھ کے قریب سیاحوں کی آمد کی توقع کر رہی ہے۔
البتہ حالیہ دنوں میں برطانیہ اور ناروے سے آنے والے شائقین کی بکنگ میں معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے، جسے صنعت کے نمائندے ایک مثبت اشارہ قرار دے رہے ہیں۔
روایتی ورلڈ کپ ٹریول ماڈل دباؤ کا شکار
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ورلڈ کپ سے وابستہ روایتی سیاحتی ماڈل تبدیل ہو رہا ہے۔
ماضی میں شائقین اپنی قومی ٹیموں کی حمایت کے لیے طویل فاصلے طے کرتے اور بڑی رقم خرچ کرتے تھے، لیکن اس بار سفری اخراجات، رہائش کی بڑھتی قیمتیں، مہنگے ٹکٹ اور ویزا سے متعلق خدشات ان کے لیے بڑی رکاوٹ بن رہے ہیں۔
دوسری جانب امریکہ کے اندر بھی فٹبال کی مقبولیت یورپ اور جنوبی امریکہ کے مقابلے میں کم ہونے کے باعث مقامی شائقین اس خلا کو پُر نہیں کر پا رہے۔
ہوٹل انڈسٹری کو آخری لمحات کی بکنگز کا انتظار
ابتدائی مایوس کن اعداد و شمار کے باوجود ہوٹل مالکان اور سیاحتی کاروبار اب بھی امید لگائے بیٹھے ہیں کہ ٹورنامنٹ کے اگلے مراحل میں بکنگز میں اضافہ ہوگا۔
ہاسپیٹیلٹی ڈیٹا کمپنی کوسٹار (CoStar) کے مطابق ورلڈ کپ کے میزبان شہروں میں ہوٹل بکنگز گزشتہ سال کے مقابلے میں صرف 0.5 فیصد بڑھی ہیں، جو توقعات سے کہیں کم ہے۔
صنعتی ماہرین کا خیال ہے کہ گروپ مرحلے کے اختتام اور بڑی ٹیموں کی اگلے راؤنڈز میں رسائی کے بعد شائقین کی دلچسپی میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے آخری لمحات میں سفری طلب بڑھنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب روایتی ہوٹلوں کے مقابلے میں ویکیشن رینٹل سروسز بہتر کارکردگی دکھا رہی ہیں۔ ایئربی این بی سمیت کئی پلیٹ فارمز نے ورلڈ کپ کے دوران ریکارڈ طلب رپورٹ کی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بہت سے مسافر ہوٹلوں کے بجائے متبادل رہائشی آپشنز کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ورلڈ کپ کے آغاز کے ساتھ ہی امریکی سفری اور سیاحتی صنعت کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا آخری لمحات میں آنے والے شائقین اس ایونٹ کو متوقع معاشی کامیابی دلا سکیں گے یا نہیں۔