امریکا اور ایران کے درمیان 60 روزہ مفاہمتی تجویز، جنگ بندی اور ہرمز سے متعلق اہم نکات سامنے آگئے
جنگ کی خبریں

امریکا اور ایران کے درمیان 60 روزہ مفاہمتی تجویز، جنگ بندی اور ہرمز سے متعلق اہم نکات سامنے آگئے

29 May 2026

 

(ڈیجیٹل اطلاع) امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران دونوں ممالک کے درمیان ایک ابتدائی مفاہمتی یادداشت (MOU) پر اتفاق کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے تحت جنگ بندی میں مزید 60 دن کی توسیع اور مستقل امن کے لیے مذاکرات شروع کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس مجوزہ فریم ورک کو ابھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حتمی منظوری درکار ہے، جبکہ ایران اور امریکا دونوں نے تاحال اس حوالے سے باضابطہ تصدیق یا تبصرہ نہیں کیا۔ ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے مذاکراتی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ مفاہمتی یادداشت کے متن کو ابھی حتمی شکل نہیں دی گئی، اور باضابطہ منظوری کے بعد ہی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔ امریکی خبر رساں ادارے Axios کے مطابق مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کو مکمل طور پر بحال کرنے کی تجویز شامل ہے، جس کے تحت بحری گزرگاہ کو بغیر ٹول، رکاوٹ یا مبینہ ہراسانی کے کھولنے پر اتفاق کیا جا سکتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایران کو 30 دن کے اندر آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے کی ذمہ داری دی جا سکتی ہے، جبکہ امریکا ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری ناکہ بندی مرحلہ وار ختم کرے گا تاکہ تجارتی جہاز رانی بحال ہو سکے۔ ذرائع کے مطابق مجوزہ معاہدے میں ایران پر عائد بعض اقتصادی پابندیوں میں نرمی کی شقیں بھی شامل ہیں، جس سے ایران کو عالمی منڈی میں تیل فروخت کرنے میں سہولت مل سکتی ہے۔ یاد رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ مارچ کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھنے سے جہاز رانی شدید متاثر ہوئی تھی۔رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مجوزہ مفاہمت میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کے عزم کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے، جبکہ مذاکرات کے ابتدائی مرحلے میں ایران کے یورینیم افزودگی پروگرام اور انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر پر بات چیت ہوگی۔ ماہرین کے مطابق ایران کے پاس اس وقت بڑی مقدار میں 60 فیصد افزودہ یورینیم موجود ہے، جو اگرچہ ہتھیاروں کے درجے تک نہیں پہنچا، تاہم اسے تیزی سے مزید افزودہ کیا جا سکتا ہے، جس پر عالمی طاقتوں کو تشویش ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاہدہ حتمی شکل اختیار کرتا ہے تو اس سے نہ صرف خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے بلکہ عالمی تیل منڈی، سمندری تجارت اور سفارتی تعلقات پر بھی اہم اثرات مرتب ہوں گے۔