بھارت: 22 افراد کو سزائے موت سنانے والے جج سے تقریباً 100 مقدمات کیوں واپس لیے گئے؟
نئی دہلی، 21 اگست 2026: بھارت میں فاسٹ ٹریک عدالت کے جج روی کمار دیواکر کی عدالت سے تقریباً 100 زیرِ سماعت مقدمات واپس لے کر انہیں دیگر عدالتوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب جج روی کمار دیواکر نے گزشتہ چار ماہ کے دوران 10 مختلف قتل کے مقدمات میں 22 افراد کو سزائے موت سنائی۔
یہ معاملہ ریاست اتر پردیش کے شہر مظفر نگر کی فاسٹ ٹریک عدالت سے متعلق ہے، جہاں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج روی کمار دیواکر سنگین نوعیت کے فوجداری مقدمات کی سماعت کر رہے تھے۔
جن 22 افراد کو سزائے موت سنائی گئی، وہ تمام قتل کے مقدمات میں مجرم قرار پائے تھے۔ ان میں 2019 کے ایک قتل کیس میں ایک خاتون اور اس کے تین بیٹے بھی شامل ہیں۔
مقدمات واپس لینے کی وجہ کیا ہے؟
مقدمات واپس لینے کا فیصلہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ویریندر کمار سنگھ کے حکم پر کیا گیا۔ گزشتہ منگل جاری کیے گئے حکم میں کہا گیا کہ فاسٹ ٹریک عدالت میں زیرِ سماعت مقدمات کی فائلیں واپس لے کر مظفر نگر کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت منتقل کی جا رہی ہیں، جہاں قانون کے مطابق ان کی سماعت مکمل کی جائے گی۔
تاہم حکم میں مقدمات کی منتقلی کی کوئی واضح وجہ بیان نہیں کی گئی۔
رپورٹس کے مطابق واپس لیے گئے مقدمات میں قتل کے بعض اہم اور معروف مقدمات بھی شامل ہیں۔
ایک سرکاری وکیل نے خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کو بتایا کہ ایسے مقدمات جن میں موت یا عمر قید کی سزا ممکن ہے، انہیں جج روی کمار دیواکر کی عدالت سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ویریندر کمار سنگھ کی عدالت منتقل کیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کے مطابق ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر پرمود تیاگی نے کہا کہ وکلا اور ملزمان میں یہ خدشہ پیدا ہو گیا تھا کہ ان مقدمات میں ممکنہ طور پر سزائے موت سنائی جا سکتی ہے۔
روی کمار دیواکر کون ہیں؟
46 سالہ روی کمار دیواکر کا تعلق لکھنؤ سے ہے۔ انہوں نے بی کام اور ایل ایل ایم کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔
انہوں نے 2009 میں اعظم گڑھ میں ایڈیشنل سول جج کی حیثیت سے عدالتی کیریئر شروع کیا۔ 2015 میں انہیں سلطان پور میں سول جج تعینات کیا گیا، جبکہ پانچ ماہ بعد وہ جوڈیشل مجسٹریٹ کے عہدے پر ترقی پا گئے۔
نومبر 2025 سے وہ مظفر نگر میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
وہ حالیہ مہینوں میں سنگین فوجداری مقدمات میں سخت فیصلوں اور سزائے موت سنانے کی وجہ سے خبروں میں رہے ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق مظفر نگر سے قبل بریلی میں تعیناتی کے دوران بھی انہوں نے 13 مجرموں کو سزائے موت سنائی تھی۔ اس طرح ان کے عدالتی کیریئر میں سزائے موت پانے والے افراد کی مجموعی تعداد 35 بتائی جاتی ہے۔

سزائے موت پر عملدرآمد کیسے ہوتا ہے؟
بھارت میں ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزائے موت پر فوری عملدرآمد نہیں کیا جا سکتا۔ سزائے موت کی ہائی کورٹ سے توثیق ضروری ہوتی ہے، جبکہ سزا یافتہ شخص کو سپریم کورٹ میں اپیل کا حق بھی حاصل ہوتا ہے۔
گیان واپی مسجد کیس سے بھی نام خبروں میں آیا
روی کمار دیواکر پہلی مرتبہ 2022 میں اس وقت نمایاں طور پر خبروں میں آئے جب وہ وارانسی میں سول جج تعینات تھے۔ انہوں نے بعض ہندو درخواست گزاروں کی درخواست پر تاریخی گیان واپی مسجد کے احاطے کے ویڈیو گرافک سروے کی اجازت دی تھی۔
سروے میں مسجد کا وضو خانہ بھی شامل تھا، جہاں ہندو درخواست گزاروں نے ایک قدیم فوارے کو شیو لنگ قرار دیا تھا۔ بعد میں سپریم کورٹ نے یہ معاملہ روی کمار دیواکر کی سول عدالت سے ڈسٹرکٹ کورٹ منتقل کر دیا تھا۔
تقریباً 100 مقدمات کی منتقلی کے باوجود متعلقہ حکم میں اس اقدام کی واضح سرکاری وجہ سامنے نہیں آئی ہے۔