مودی سے متعلق بیان پر اداکارہ روپالی گنگولی سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں
نئی دہلی، 7 اگست: بھارتی ٹی وی ڈرامہ "انوپما" کی مرکزی اداکارہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی رہنما روپالی گنگولی وزیراعظم نریندر مودی سے متعلق اپنے ایک سوشل میڈیا بیان کے بعد تنقید کی زد میں آ گئی ہیں۔
تنازع اس وقت شروع ہوا جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کرنے لگی، جس میں مبینہ طور پر ایک کم عمر لڑکی وزیراعظم نریندر مودی کی تصویر کے ساتھ توہین آمیز رویہ اختیار کرتی دکھائی دیتی ہے۔ ویڈیو کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
ویڈیو پر ردعمل دیتے ہوئے روپالی گنگولی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، "وزیراعظم کی اس طرح توہین کے نتائج ہونے چاہئیں۔ کاش وہ آمر ہوتے۔"
بیان کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آئے۔ متعدد صارفین نے اداکارہ کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بھارت ایک جمہوری ملک ہے اور کسی عوامی شخصیت کی جانب سے آمریت کی خواہش کا اظہار مناسب نہیں۔
کئی صارفین نے کہا کہ اختلاف رائے اور تنقید جمہوری نظام کا حصہ ہیں، جبکہ بعض نے تاریخی آمریتوں کا حوالہ دیتے ہوئے اداکارہ کے الفاظ کو نامناسب قرار دیا۔
دوسری جانب، بعض صارفین نے روپالی گنگولی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد وزیراعظم کی توہین کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی حمایت کرنا تھا، نہ کہ آمریت کی وکالت کرنا۔
روپالی گنگولی گزشتہ برس بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہوئی تھیں اور اس کے بعد سے مختلف سیاسی اور سماجی معاملات پر اپنی رائے کا اظہار کرتی رہی ہیں۔