Post Main Ad Panel
Read in English عائشہ گلمنہ قتل کیس: والد اور بھائی سمیت 5 گرفتار، پولیس کا ’غیرت کے نام پر قتل‘ کا شبہ

عائشہ گلمنہ قتل کیس: والد اور بھائی سمیت 5 گرفتار، پولیس کا ’غیرت کے نام پر قتل‘ کا شبہ

10 ویوز

 

راولپنڈی، [تاریخ] — راولپنڈی پولیس نے سوشل میڈیا پر معروف ٹک ٹاکر شمسو بی بی عرف عائشہ گلمنہ کے قتل کے مقدمے میں ان کے والد اور بھائی سمیت پانچ افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں قتل کو مبینہ طور پر ’غیرت کے نام پر‘ کیے جانے کا شبہ سامنے آیا ہے۔

ایس ایس پی آپریشنز طارق محبوب نے ہفتے کو راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ گرفتار ملزمان میں مقتولہ کے والد فضل، حقیقی بھائی، چچا زاد بھائی، والد کے چچا اور چچا زاد بھائی کا بیٹا شامل ہیں۔

پولیس کے مطابق عائشہ گلمنہ کو 14 اگست کو تھانہ ٹیکسلا کی حدود میں فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا۔ واقعے کے بعد پولیس نے قتل کی تحقیقات کے لیے متعدد ٹیمیں تشکیل دیں اور 100 سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ کا جائزہ لینے کے علاوہ دیگر تفتیشی ذرائع استعمال کیے۔

ایس ایس پی آپریشنز نے کہا کہ تحقیقات کے دوران مقتولہ کے والد اور بھائی کو بھی شاملِ تفتیش کیا گیا، جہاں پولیس کے مطابق اہم شواہد سامنے آئے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزمان نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر عائشہ گلمنہ کے قتل کی منصوبہ بندی اور کارروائی کا اعتراف کیا۔

پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں قتل کی وجہ مبینہ طور پر غیرت کا معاملہ سامنے آیا ہے، تاہم حکام نے کہا کہ مزید تفتیش کے دوران قتل کے محرکات اور دیگر حقائق واضح ہوں گے۔

ایف آئی آر میں مختلف مؤقف

عائشہ گلمنہ کے قتل کے بعد ان کے والد فضل کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ مقتولہ کو مبینہ طور پر رقم کے لین دین کے تنازع پر قتل کیا گیا۔

ایف آئی آر کے مطابق 14 اگست کو عائشہ گلمنہ کو ایک شخص کی فون کال موصول ہوئی، جس کے بعد وہ اپنی بہن اور بھائی کے ہمراہ گاڑی میں اپنے والد کے گھر روانہ ہوئیں۔ فیصل ٹاؤن کے قریب دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کی۔

فائرنگ کے نتیجے میں ایک گولی عائشہ گلمنہ کی گردن میں لگی اور وہ موقع پر ہلاک ہوگئیں۔ گاڑی ان کے بھائی چلا رہے تھے جو فائرنگ کے بعد بے قابو ہو کر مخالف سمت سے آنے والے ڈمپر سے ٹکرا گئی۔ حادثے میں ان کے بھائی اور بہن بھی زخمی ہوئے۔

ایف آئی آر میں ان کے والد نے الزام عائد کیا تھا کہ مقتولہ نے انہیں بتایا تھا کہ دو افراد نے ان سے رقم لی ہوئی ہے اور انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔

تاہم پولیس کی تازہ تحقیقات میں قتل کا محرک مختلف ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے تحقیقات جاری ہیں

پولیس کے مطابق ملزمان نے مبینہ طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو گمراہ کرنے کے لیے واقعے کا ایک مختلف منظر پیش کرنے کی کوشش کی، تاہم سی سی ٹی وی فوٹیج، دیگر شواہد اور تفتیش کی بنیاد پر پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے اور کیس میں مزید افراد کے کردار سمیت قتل کے حتمی محرک کا تعین کیا جا رہا ہے۔

پولیس کی جانب سے ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے، جبکہ عدالت میں پیش کیے جانے کے بعد مزید پیش رفت متوقع ہے۔

Post Bottom Ad Panel