تھائی لینڈ کے اسکول میں فائرنگ، 7 افراد ہلاک، حملہ آور طالب علم ہلاک
تھائی لینڈ: 14 سالہ طالب علم کی فائرنگ، سات افراد ہلاک، متعدد زخمی
بینگ کروائی، تھائی لینڈ، 7 اگست (رائٹرز): تھائی لینڈ میں جمعہ کے روز 14 سالہ طالب علم نے اسکول میں اندھا دھند فائرنگ کرکے پانچ اساتذہ اور عملے کے ارکان سمیت مجموعی طور پر سات افراد کو قتل کرنے کے بعد خود کو بھی گولی مار کر ہلاک کر لیا۔ پولیس کے مطابق واقعہ 2022 کے بعد ملک کا بدترین اجتماعی فائرنگ کا واقعہ ہے۔
پولیس نے بتایا کہ ملزم نے پہلے اپنے دادا دادی کو ان کے گھر میں گولی مار کر قتل کیا، جس کے بعد وہ بنکاک کے شمال مغربی علاقے میں واقع ڈیب سیرین نونتھابوری اسکول پہنچا اور وہاں فائرنگ شروع کر دی۔
حکام کے مطابق اسکول میں ہلاک ہونے والے تمام افراد اساتذہ اور عملے سے تعلق رکھتے تھے، جبکہ فائرنگ کے نتیجے میں 23 افراد زخمی بھی ہوئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے اپنے دادا کی ملکیت پستول سے کم از کم 26 گولیاں چلائیں، جبکہ جائے وقوعہ سے مزید 34 گولیاں بھی برآمد کی گئیں۔
واقعے کے بعد طلبہ خوف و ہراس کے عالم میں اسکول سے باہر نکل آئے، جبکہ امدادی ٹیموں نے زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا۔ عینی شاہدین کے مطابق اسکول میں افراتفری کا ماحول تھا اور کئی اساتذہ ایک دوسرے سے لپٹ کر روتے ہوئے دکھائی دیے۔
ایک 18 سالہ طالب علم نے رائٹرز کو بتایا کہ ابتدا میں اسے گولیوں کی آواز پٹاخوں یا کسی چیز کے زور سے ٹکرانے کی آواز محسوس ہوئی۔
طالب علم نے کہا، "پہلے مجھے لگا یہ پٹاخے ہیں۔ پھر مسلسل گولیوں کی آوازیں آئیں، کچھ دیر خاموشی رہی اور اس کے بعد دوبارہ فائرنگ شروع ہو گئی۔"
تھائی لینڈ کے وزیر تعلیم پراسرت جنتاراروانگتونگ نے بتایا کہ حملے میں اساتذہ اور طلبہ دونوں متاثر ہوئے ہیں، جبکہ فائرنگ کے محرکات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
رواں سال تھائی لینڈ میں یہ کسی تعلیمی ادارے پر دوسرا حملہ ہے۔ اس سے قبل فروری میں جنوبی تھائی لینڈ کے ایک اسکول میں فائرنگ کے واقعے میں ایک استاد ہلاک اور ایک طالب علم زخمی ہوا تھا۔
تھائی لینڈ میں حالیہ برسوں کے دوران فائرنگ کے کئی بڑے واقعات پیش آ چکے ہیں، جبکہ سمال آرمز سروے کے مطابق ملک میں جنوب مشرقی ایشیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں شہریوں کے پاس اسلحہ رکھنے کی شرح سب سے زیادہ ہے۔