سری لنکا میں 3.1 کلوگرام وزنی مثانے کی پتھری نکال لی گئی
ٹرنکومالی، سری لنکا: سری لنکا میں ڈاکٹروں نے ایک 55 سالہ شخص کے مثانے سے 3.1 کلوگرام (6.8 پاؤنڈ) وزنی پتھری نکال لی، جسے ڈاکٹروں کے مطابق اپنی نوعیت کی اب تک دستاویزی طور پر سب سے بڑی پتھری قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ آپریشن گزشتہ ہفتے مشرقی شہر ٹرنکومالی کے ایک ہسپتال میں کیا گیا۔ مریض فالج کے بعد ہسپتال میں داخل ہوا تھا، تاہم دورانِ علاج ڈاکٹروں نے محسوس کیا کہ اسے پیشاب کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔
معائنے کے بعد اس کے مثانے میں بڑی پتھری کی موجودگی کا انکشاف ہوا، جسے بعد ازاں سرجری کے ذریعے نکال دیا گیا۔
ڈاکٹروں کے مطابق پتھری کا وزن تقریباً ایک مکمل مدت کے بعد پیدا ہونے والے بچے کے برابر تھا، جبکہ اس کا حجم تقریباً شتر مرغ کے انڈے جتنا تھا۔
ممکنہ طور پر 5 سے 10 سال تک مثانے میں موجود رہی
سرجری کی قیادت کرنے والے ڈاکٹر پراہالاہان بالاکرشنن نے بتایا کہ دستیاب ریکارڈ کے مطابق یہ سرجری کے ذریعے نکالی جانے والی اب تک کی سب سے بڑی دستاویزی مثانے کی پتھری ہو سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مریض کی صحت اب بہت بہتر ہے، تاہم دیگر طبی پیچیدگیوں کے علاج کے لیے وہ اب بھی ہسپتال میں زیرِ علاج ہے۔
ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ یہ پتھری ممکنہ طور پر مریض کے مثانے میں پانچ سے 10 سال سے موجود تھی۔

مثانے میں پتھری کیسے بنتی ہے؟
مثانے کی پتھری اس وقت بنتی ہے جب پیشاب میں موجود معدنیات جمع ہو کر سخت ٹھوس ذرات یا پتھری کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
یہ مسئلہ عموماً اس وقت پیدا ہوتا ہے جب مثانہ مکمل طور پر خالی نہ ہو سکے۔ ایسے میں پیشاب گاڑھا ہونے لگتا ہے اور معدنیات جمع ہو کر پتھری بنا سکتی ہیں۔
چھوٹی پتھریاں بعض اوقات خود بخود جسم سے خارج ہو جاتی ہیں، تاہم بڑی پتھریاں پیشاب کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا کر سکتی ہیں اور انہیں طبی طریقے سے نکالنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
چار سینٹی میٹر سے بڑی مثانے کی پتھری کو عموماً دیوہیکل پتھری تصور کیا جاتا ہے۔
سابقہ عالمی ریکارڈ
گنیز ورلڈ ریکارڈز کے مطابق مثانے سے نکالی جانے والی سب سے بڑی پتھری کا سابقہ ریکارڈ 2003 میں برازیل میں قائم ہوا تھا۔ اس پتھری کا وزن 1.9 کلوگرام اور لمبائی 17.9 سینٹی میٹر تھی۔
سری لنکا میں گزشتہ ہفتے نکالی گئی پتھری کا وزن 3.1 کلوگرام جبکہ لمبائی تقریباً 17 سینٹی میٹر بتائی گئی ہے۔