سابق وزیراعظم تین سال سے جیل میں قید، اہلخانہ اور پارٹی کو صحت کے حوالے سے تشویش
اسلام آباد، 18 اگست (رائٹرز) — پاکستان کی سپریم کورٹ نے حکام کو سابق وزیراعظم عمران خان کو جیل سے اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔ عمران خان گزشتہ تین سال سے جیل میں قید ہیں۔ ان کے وکیل اور سیاسی جماعت نے منگل کو اس پیش رفت کی تصدیق کی۔
عمران خان کو 2022 میں عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد بدعنوانی سمیت متعدد مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے خلاف سرکاری تحائف اور مبینہ غیر قانونی شادی سے متعلق مقدمات بھی قائم کیے گئے۔
ان کے اہلخانہ اور پارٹی کا کہنا ہے کہ جیل میں ان کی صحت مسلسل خراب ہو رہی ہے اور انہیں ان سے ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔ رواں سال ان کے وکیل نے عدالت کو بتایا تھا کہ دورانِ قید عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی خاصی متاثر ہوئی، تاہم بعد میں ایک میڈیکل بورڈ نے بتایا کہ ان کی بینائی میں بہتری آئی ہے۔
عمران خان کے خلاف متعدد مقدمات میں سزائیں معطل یا ختم ہو چکی ہیں جبکہ کچھ مقدمات میں اپیلیں زیرِ سماعت ہیں۔ وہ اپنے خلاف الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
القادر ٹرسٹ زمین کیس
عمران خان کو 2025 میں زمین سے متعلق بدعنوانی کے مقدمے میں 14 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ استغاثہ کے مطابق عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو القادر ٹرسٹ کے ذریعے بطور رشوت زمین فراہم کی گئی۔
حکام کا الزام ہے کہ اس زمین کی مالیت تقریباً 7 ارب پاکستانی روپے تھی اور یہ زمین ایک ایسے پراپرٹی ڈویلپر کی جانب سے دی گئی جس پر برطانیہ میں منی لانڈرنگ کا مقدمہ چلایا گیا تھا۔
حکام کے مطابق عمران خان پر الزام ہے کہ انہوں نے پراپرٹی ڈویلپر کو برطانیہ سے پاکستان واپس آنے والی تقریباً 190 ملین پاؤنڈ کی رقم سے متعلق فائدہ پہنچایا۔
ریاستی راز کا مقدمہ
2024 میں عمران خان کو واشنگٹن میں پاکستانی سفیر کی جانب سے اسلام آباد بھیجے گئے ایک خفیہ سفارتی مراسلے کو منظر عام پر لانے کے الزام میں 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، تاہم بعد میں یہ سزا ختم کردی گئی۔
عمران خان نے الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ مراسلے کا مواد پہلے ہی مختلف ذرائع سے میڈیا میں آچکا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ مراسلہ اس سازش کا ثبوت ہے جس کے ذریعے فوج اور امریکی حکومت نے 2022 میں ان کی حکومت گرانے کی کوشش کی۔ امریکا اور پاکستانی فوج ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
توشہ خانہ اور سرکاری تحائف کا کیس
توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو 2023 میں تین سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ مقدمہ ریاستی تحائف کی فروخت سے متعلق تھا جن کی مالیت 14 کروڑ پاکستانی روپے سے زیادہ بتائی گئی۔
یہ سزا بعد میں معطل کردی گئی، تاہم جنوری 2024 میں ایک احتساب عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اسی معاملے میں 14، 14 سال قید کی سزا سنائی۔ یہ سزا بھی اس وقت اپیل کے باعث معطل ہے۔
عمران خان کا مؤقف ہے کہ انہوں نے تحائف قانونی طریقے سے خریدے تھے۔
سرکاری حکام کے مطابق ان کے بعض ساتھیوں نے یہ تحائف دبئی میں فروخت کیے۔ تحائف میں پرفیومز، ہیرے کے زیورات، ڈنر سیٹس اور سات گھڑیاں شامل تھیں، جن میں چھ رولیکس گھڑیاں تھیں۔
غیر قانونی شادی کا مقدمہ
عمران خان اور بشریٰ بی بی کو فروری 2024 میں ایک عدالت نے سات، سات سال قید کی سزا سنائی تھی۔ عدالت کے مطابق 2018 میں ان کی شادی اسلامی قوانین کے تحت مقررہ عدت مکمل کیے بغیر ہوئی تھی۔
تاہم جولائی 2024 میں ایک عدالت نے دونوں کو اس مقدمے میں بری کردیا۔
مقدمے کے مطابق بشریٰ بی بی نے اپنے سابق شوہر سے طلاق کے بعد اسلامی قانون کے تحت مقررہ عدت مکمل نہیں کی تھی اور دونوں نے جنوری 2018 میں ایک خفیہ تقریب میں نکاح کیا تھا۔