Post Main Ad Panel
Read in English پاکستان میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا مطالبہ

پاکستان میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا مطالبہ

 

اسلام آباد: پاکستان میں بچوں کو سائبر بُلیئنگ، آن لائن ہراسانی، بلیک میلنگ اور نقصان دہ ڈیجیٹل مواد سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے 16 سال سے کم عمر افراد کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کرنے کی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کردی گئی۔

درخواست وکلا یحییٰ فرید خواجہ اور جلال حیدر ملک کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس پر عدالت آئندہ ماہ سماعت کرے گی۔

درخواست میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے جامع قانون سازی کی جائے، جس کے تحت والدین کو بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کی نگرانی کا اختیار دیا جائے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی کم عمر صارفین کے تحفظ کی ذمہ داری عائد کی جائے۔

درخواست میں اقوام متحدہ کے کنونشن برائے حقوقِ اطفال اور ڈیجیٹل ماحول میں بچوں کے حقوق سے متعلق جنرل کمنٹ نمبر 25 کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ درخواست گزاروں کے مطابق بچوں کے بنیادی حقوق، رازداری اور تحفظ کے اصول آن لائن دنیا میں بھی اسی طرح لاگو ہوتے ہیں جیسے حقیقی زندگی میں۔

16 سال سے کم عمر صارفین پر پابندی کا مطالبہ

درخواست گزار یحییٰ فرید خواجہ نے کہا کہ ان کی بنیادی خواہش یہ ہے کہ پاکستان میں بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے باقاعدہ قانون سازی کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر مکمل پابندی ہونی چاہیے اور پلیٹ فارمز کو اکاؤنٹ بناتے وقت صارفین کی عمر کی مؤثر تصدیق کا پابند کیا جانا چاہیے۔

ان کے مطابق تعلیمی مقاصد، سماجی آگاہی یا مخصوص حالات میں محدود اور نگرانی کے تحت رسائی کی اجازت دی جا سکتی ہے، تاہم عام سوشل میڈیا استعمال کے لیے واضح عمر کی حد مقرر ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سائبر بُلیئنگ، بلیک میلنگ اور آن لائن ہراسانی جیسے مسائل سے بچوں کو مؤثر تحفظ دینے کے لیے مزید قانونی اقدامات کی ضرورت ہے۔

سینیٹ میں بھی بل پیش کیا جا چکا ہے

پاکستان میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کی عمر مقرر کرنے کے لیے گزشتہ سال سینیٹ میں ’سوشل میڈیا (حدِ عمر برائے صارفین) بل 2025‘ بھی پیش کیا گیا تھا۔

یہ بل پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹرز سرمد علی اور مسرور احسن نے پیش کیا تھا، جس میں فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک، واٹس ایپ، اسنیپ چیٹ، یوٹیوب اور دیگر بڑے پلیٹ فارمز کو 16 سال سے کم عمر افراد کے اکاؤنٹس روکنے کا پابند بنانے کی تجویز دی گئی تھی۔

تاہم بل کو مزید مشاورت اور ترامیم کے لیے واپس لے لیا گیا تھا۔

سینیٹر مسرور احسن نے بتایا کہ بل میں موجود بعض خامیوں کو دور کرنے اور تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد اسے دوبارہ پارلیمان میں پیش کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بچوں کی آن لائن حفاظت والدین کے لیے ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے اور قانون ساز بھی اس معاملے کی اہمیت سے آگاہ ہیں۔

سوشل میڈیا کمپنیوں کی ذمہ داری

مجوزہ قانون کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی بچوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کا پابند بنانے کی تجویز ہے۔

اس حوالے سے عمر کی تصدیق، والدین کی نگرانی، نقصان دہ مواد تک رسائی روکنے اور سائبر جرائم کے خلاف کارروائی جیسے اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی اقدامات کا حوالہ

اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں آسٹریلیا، برطانیہ، نیوزی لینڈ اور یورپی ممالک میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق اقدامات کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔

آسٹریلیا میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے حوالے سے قانون گزشتہ سال نافذ ہوا، جس کے تحت پلیٹ فارمز کو کم عمر صارفین کے اکاؤنٹس روکنے کے لیے اقدامات کرنا لازم قرار دیا گیا۔

پاکستان میں اب یہ بحث جاری ہے کہ آیا 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا کی مکمل پابندی مؤثر حل ہے یا عمر کی تصدیق، والدین کی نگرانی، پلیٹ فارمز کی جواب دہی اور سائبر جرائم کے خلاف مؤثر کارروائی پر مشتمل جامع نظام زیادہ بہتر ثابت ہوگا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست کی سماعت کے بعد بچوں کے ڈیجیٹل تحفظ سے متعلق پاکستان کی پالیسی اور قانونی نظام پر اہم بحث سامنے آنے کا امکان ہے۔

Post Bottom Ad Panel