Post Main Ad Panel
Read in English صومالی فورسز نے قزاقوں سے آئل ٹینکر بازیاب کرالیا، 3 پاکستانیوں سمیت 5 افراد ہلاک

صومالی فورسز نے قزاقوں سے آئل ٹینکر بازیاب کرالیا، 3 پاکستانیوں سمیت 5 افراد ہلاک

27 ویوز

30 ستمبر 2026

اسلام آباد — صومالیہ کے نیم خودمختار علاقے پُنٹ لینڈ میں سکیورٹی فورسز نے قزاقوں کے قبضے سے آئل ٹینکر ایم ٹی آنر 25 بازیاب کرا لیا، تاہم پُنٹ لینڈ کے حکام کے مطابق کارروائی مکمل ہونے سے قبل عملے کے پانچ ارکان ہلاک ہو گئے۔

پُنٹ لینڈ کے نائب وزیر اطلاعات بلی قابوسادے نے بی بی سی کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز کے ٹینکر تک پہنچنے سے قبل ہی قزاقوں نے عملے کے پانچ ارکان کو ہلاک کر دیا تھا۔

حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں تین پاکستانی، ایک بھارتی اور میانمار کا ایک شہری شامل ہیں، جبکہ چار دیگر افراد زخمی ہوئے، جن میں تین پاکستانی اور ایک بھارتی شہری شامل ہیں۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستانی شہریوں کی ہلاکتوں سے متعلق اطلاعات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔


عملے میں 10 پاکستانی شامل تھے

’ایم ٹی آنر 25‘ تقریباً 18,500 بیرل تیل لے کر صومالیہ جا رہا تھا جب 21 اپریل 2026 کو صومالی ساحل کے قریب مسلح قزاقوں نے اسے قبضے میں لے لیا۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق جہاز پر 17 رکنی عملہ موجود تھا، جس میں 10 پاکستانی شہری شامل تھے۔

پُنٹ لینڈ حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز نے جہاز کا کنٹرول واپس لینے کے لیے کارروائی کی، جس کے دوران 16 مشتبہ قزاقوں کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ دیگر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

حکام نے تاحال عملے کے پانچ ارکان کی ہلاکت کے مکمل حالات اور وجوہات جاری نہیں کیں۔


پاکستان کی جانب سے اطلاعات کی تصدیق کی کوشش

پاکستان کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ جبوتی میں پاکستانی مشن جہاز اور پاکستانی عملے سے متعلق اطلاعات کی تصدیق کے لیے متعلقہ حکام سے رابطے میں ہے۔

وزارت خارجہ کے مطابق پاکستانی شہریوں کی صورتحال کے بارے میں حتمی معلومات سرکاری تصدیق کے بعد فراہم کی جائیں گی۔


مغویوں کے اہلخانہ کئی ماہ سے فکرمند

پاکستانی عملے کے اہلخانہ نے کئی ماہ تک حکومت سے مغوی ملاحوں کی بحفاظت واپسی کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔

انصار برنی ٹرسٹ کے مطابق قزاقوں نے مغویوں کی رہائی کے بدلے 30 لاکھ امریکی ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا تھا۔

پاکستانی ملاحوں کو کراچی کی ایک میننگ کمپنی کے ذریعے بھرتی کیا گیا تھا۔ کمپنی کا کہنا تھا کہ اس کا کردار عملے کی بھرتی تک محدود تھا، جبکہ جہاز کے آپریشنز اور ہنگامی صورتحال کی ذمہ داری جہاز کے مالکان اور منیجرز پر عائد ہوتی ہے۔

پاکستانی سیکنڈ انجینیئر بھی بازیاب

جہاز پر موجود پاکستانی سیکنڈ انجینیئر حسین یوسف بھی بازیاب ہونے والے عملے میں شامل ہیں۔

ان کے بھانجے طالب رضا نے بی بی سی کو بتایا کہ کارروائی کے بعد ان کی اپنے ماموں سے فون پر بات ہوئی۔ ان کے مطابق حسین یوسف نے بتایا کہ آپریشن کے دوران کچھ افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔

اہلخانہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ زندہ بچ جانے والے پاکستانیوں کو ضروری طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور ہلاک ہونے والوں کی میتیں پاکستان واپس لانے کے لیے فوری انتظامات کیے جائیں۔

پانچ افراد کی ہلاکت اور پاکستانی شہریوں کے جانی نقصان کی حتمی سرکاری تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔

نوٹ: ہلاکتوں اور زخمیوں سے متعلق تفصیلات پُنٹ لینڈ حکام اور دیگر ذرائع سے سامنے آنے والی اطلاعات پر مبنی ہیں۔ سرکاری تصدیق یا مزید معلومات دستیاب ہونے پر خبر کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔

Post Bottom Ad Panel