میک ڈونلڈز اور حریفوں کے لیے صرف سستی ڈیلز اب کافی نہیں
11 اگست (رائٹرز) — امریکا کی بڑی فاسٹ فوڈ چینز کو دوسری سہ ماہی کے دوران قیمتوں کے معاملے میں محتاط صارفین کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے سخت مقابلے کا سامنا رہا، تاہم نتائج سے ظاہر ہوا ہے کہ صرف سستی ڈیلز اور رعایتیں اب گاہکوں کو واپس لانے کے لیے کافی نہیں رہیں۔
گزشتہ دو برس میں مہنگائی سے متاثرہ صارفین کو کم قیمت کھانے کی طرف راغب کرنے کے لیے ویلیو میلز اور پروموشنز فاسٹ فوڈ انڈسٹری کا سب سے مؤثر ذریعہ رہی ہیں۔ تاہم حالیہ نتائج بتاتے ہیں کہ کامیاب برانڈز سستی قیمت کے ساتھ مینو میں جدت، معیار میں بہتری اور بہتر کسٹمر تجربہ بھی فراہم کر رہے ہیں۔
ٹیکو بیل کی حکمت عملی کامیاب
یَم برانڈز کی ملکیت ٹیکو بیل نے بجٹ پر نظر رکھنے والے صارفین کو متوجہ کرنے میں نمایاں کامیابی حاصل کی، تاہم کمپنی نے پورے مینو پر مسلسل رعایتیں دینے کے بجائے مخصوص ڈیلز پر توجہ مرکوز رکھی۔
ٹیکو بیل کے 5، 7 اور 9 ڈالر کے میل باکسز صارفین میں مقبول ہوئے، جبکہ نئے مینو آئٹمز بھی متعارف کرائے گئے جنہوں نے صارفین کو ابتدائی سستی ڈیل سے آگے مزید خریداری پر آمادہ کیا۔
ٹیکو بیل کی سہ ماہی میں ایک ہی اسٹور کی فروخت 7 فیصد بڑھی جبکہ میک ڈونلڈز کی عالمی تقابلی فروخت میں اضافہ 1.3 فیصد رہا۔
فوڈ سروس کنسلٹنسی کنیکشنز کی ڈائریکٹر ریچل روئسٹر کے مطابق ویلیو آفر اس وقت زیادہ کامیاب ہوتی ہے جب وہ واضح اور سادہ ہو اور صارف کو یہ محسوس نہ ہو کہ اسے ایک ڈیل کے نام پر کسی دوسری خریداری کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔
میک ڈونلڈز کی سستی ڈیلز بھی کام نہ آئیں
میک ڈونلڈز نے 3 ڈالر سے کم قیمت والی اشیا اور 4 ڈالر کے ناشتے کی ڈیل پیش کی، لیکن اس کے باوجود کمپنی کو صارفین کی آمد میں مشکلات کا سامنا رہا۔
چیف ایگزیکٹو کرس کیمپچنسکی کے مطابق صارفین کی آمد میں کمی کا تقریباً دو تہائی حصہ کمپنی کے وفادار صارفین سے متعلق تھا۔ انہوں نے مسئلے کو حکمت عملی کے بجائے عملدرآمد کی کمزوری قرار دیا۔
وینڈیز اور وِنگ اسٹاپ بھی دباؤ میں
دیگر فاسٹ فوڈ چینز کو بھی خصوصی آفرز کے باوجود مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
وینڈیز نے 5 ڈالر سے شروع ہونے والی بگی بیگ ویلیو میلز کے باوجود امریکا میں ایک ہی ریسٹورنٹ کی فروخت میں 7 فیصد کمی رپورٹ کی اور اپنا سالانہ مالیاتی اندازہ واپس لے لیا۔
وِنگ اسٹاپ کی امریکا میں ایک ہی اسٹور کی فروخت بھی 7.5 فیصد کم ہوئی، حالانکہ کمپنی نے ایک ڈالر کے چکن وِنگز سمیت متعدد پروموشنز پیش کی تھیں۔
وِنگ اسٹاپ کے چیف ایگزیکٹو مائیکل اسکیپ ورتھ نے کہا کہ شہری علاقوں میں فروخت زیادہ متاثر ہوئی، جہاں گھرانوں کو عموماً زیادہ مالی دباؤ کا سامنا ہے۔ اس کے برعکس زیادہ آمدنی والے علاقوں میں صارفین کی آمد 9 فیصد تک بڑھی۔
وِنگ اسٹاپ کے حصص کی قیمت گزشتہ چھ ماہ میں تین چوتھائی سے زیادہ گر چکی ہے۔
صارفین اب ڈیلز کو زیادہ سمجھداری سے پرکھتے ہیں
ڈی اے ڈیوڈسن کے تجزیہ کار میٹ کرٹس کے مطابق مختلف کمپنیوں کی جانب سے مسلسل پروموشنز نے صارفین کے لیے بہترین ڈیل کا انتخاب مشکل ضرور بنایا ہے، لیکن صارفین اب مختلف آفرز کے فوائد اور نقصانات کا پہلے سے زیادہ غور سے جائزہ لیتے ہیں۔
ان کے مطابق صارفین اب پروموشنز کے شور سے نکل کر یہ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ انہیں حقیقی فائدہ کہاں مل رہا ہے۔
برگر کنگ نے سستی قیمت کے ساتھ معیار بہتر بنایا
سہ ماہی نتائج میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ کامیابی کے لیے کسی ریسٹورنٹ کا سب سے سستا ہونا ضروری نہیں۔
ریسٹورنٹ برانڈز کی ملکیت برگر کنگ نمایاں کامیاب کمپنیوں میں شامل رہا۔ انتظامیہ نے 2 فار 5 ڈالر اور 3 فار 7 ڈالر جیسی ڈیلز کے ساتھ آپریشنز اور مینو کے معیار میں بہتری کو امریکی فروخت میں اضافے کی اہم وجوہات قرار دیا۔
آزاد ریسٹورنٹ کنسلٹنٹ جان گورڈن کے مطابق برگر کنگ ہر وقت گہری رعایت دینے کے بجائے محدود اور تخلیقی انداز میں ڈسکاؤنٹس پیش کر رہا ہے۔
ڈومینوز اور چیپوٹلے کی مختلف حکمت عملی
ڈومینوز پیزا نے ویلیو آفرز اور لائلٹی پروگرامز سے فائدہ اٹھایا، جنہوں نے صارفین کی آمد بڑھانے اور فروخت کو سہارا دینے میں مدد کی۔
دوسری جانب چیپوٹلے نے قیمتوں میں صرف 1 سے 2 فیصد اضافہ کرتے ہوئے مضبوط نتائج حاصل کیے۔
چیپوٹلے کے چیف ایگزیکٹو اسکاٹ بوٹ رائٹ نے کہا کہ ویلیو کا مطلب صرف رعایت یا کم قیمت نہیں، بلکہ سہولت، بہتر عملدرآمد اور مینو میں جدت بھی صارفین کے لیے اہم ہیں۔
فاسٹ فوڈ انڈسٹری میں بدلتا ہوا صارف
حالیہ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی صارف اب صرف کم قیمت کی بنیاد پر فاسٹ فوڈ چین کا انتخاب نہیں کر رہا۔ مناسب قیمت کے ساتھ اچھا معیار، بہتر سروس، سہولت اور مینو میں جدت بھی فیصلہ کن عوامل بنتے جا رہے ہیں۔