(ڈیجیٹل اطلاع) امریکا ایران کشیدگی کے پیش نظر معروف ماہرِ معیشت فرخ سلیم نے پاکستانی عوام کو پیٹرول کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کی وارننگ دے دی۔
تفصیلات کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ بڑھتی فوجی کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے پھیلنے کے خدشات نے عالمی تیل مارکیٹ میں بے یقینی پیدا کر دی ہے، جس کے باعث پاکستان میں بھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
عالمی منڈی میں جولائی کے آغاز پر برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 70 ڈالر فی بیرل تک آ گئی تھی، تاہم جنگی خدشات بڑھنے کے بعد صرف دو ہفتوں میں قیمت بڑھ کر 85 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، یعنی خام تیل تقریباً 15 ڈالر فی بیرل مہنگا ہو گیا۔
دوسری جانب پاکستان میں حالیہ اضافے کے بعد پٹرول کی قیمت 310.71 روپے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 323.30 روپے فی لیٹر ہو چکی ہے۔ حکومت بھارت کی طرز پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ کی بنیاد پر تعین کرنے کے نظام پر بھی غور کر رہی ہے، جس کے نفاذ کی صورت میں عالمی منڈی میں روزانہ کی تبدیلیاں براہِ راست مقامی قیمتوں پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
اس حوالے سے معروف ماہرِ معیشت فرخ سلیم نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عالمی تیل کی قیمتوں کا انحصار بنیادی طور پر طلب اور رسد پر ہوتا ہے، اس وقت عالمی سطح پر رسد طلب سے زیادہ ہے، جس سے قیمتوں پر نیچے آنے کا دباؤ موجود ہے، تاہم جیو پولیٹیکل صورتحال یا وار پریمیم قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ بنتا ہے۔