کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا علی کا دوسرا پوسٹ مارٹم، گولی کمر سے داخل ہو کر سینے سے باہر نکلی
کراچی، 11 اگست --کراچی میں پراسرار حالات میں ہلاک ہونے والے 25 سالہ تاجر میر رضا علی کے دوسرے پوسٹ مارٹم میں انکشاف ہوا ہے کہ انہیں لگنے والی گولی جسم کے اوپری حصے میں کمر سے داخل ہوئی اور سینے کے اگلے حصے سے باہر نکل گئی۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق گولی سے پسلیاں ٹوٹیں اور دل کو شدید نقصان پہنچا۔
میر رضا علی کی موت کی اصل وجہ اور حالات جاننے کے لیے آٹھ سینیئر ڈاکٹروں اور فارنزک ماہرین پر مشتمل خصوصی میڈیکل بورڈ نے ہفتے کے روز کراچی کے سوسائٹی قبرستان میں قبر کشائی کے بعد دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا۔
یہ کارروائی مقامی عدالت کے حکم پر کی گئی، جس نے ابتدائی پوسٹ مارٹم اور موت کے حالات سے متعلق اٹھنے والے سوالات کے بعد ازسرنو طبی معائنے کی اجازت دی تھی۔
چار صفحات پر مشتمل ابتدائی رپورٹ کے مطابق میر رضا علی کی کمر کے بالائی حصے پر گولی لگنے کا نشان موجود تھا جبکہ گولی سینے کے اگلے حصے سے باہر نکلی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گولی کے نتیجے میں پسلیاں ٹوٹنے کے علاوہ دل کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
میڈیکل بورڈ نے میر رضا علی کی پیشانی کے دائیں جانب اور ناک کی ہڈی پر شدید چوٹوں کے نشانات بھی نوٹ کیے۔ ڈاکٹروں کو اوپری دانتوں اور جبڑے کے قریب خون جما ہوا ملا، جبکہ کھوپڑی کے پچھلے حصے میں بھی فریکچر کی نشاندہی ہوئی۔
میڈیکل بورڈ کے مطابق یہ تمام زخم موت سے قبل لگنے والے تھے۔
حتمی وجہ موت ابھی سامنے نہیں آئی
پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے دوسرے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ میر رضا علی کی موت کی حتمی وجہ ابھی بیان نہیں کی گئی۔
میڈیکل بورڈ نے مزید فرانزک تحقیقات کے لیے مقتول کے بال، دانت، ہڈیوں کے ٹکڑے، کفن کے کپڑے کا ایک ٹکڑا اور گولی کے باقیات کے نمونے حاصل کیے ہیں۔
حکام کے مطابق ان نمونوں کا کیمیائی تجزیہ اور ڈی این اے ٹیسٹ کیا جائے گا، جس کے نتائج موصول ہونے کے بعد موت کی حتمی وجہ سے متعلق رپورٹ جاری کی جائے گی۔
میر رضا علی کی لاش کہاں سے ملی؟
میر رضا علی 28 جولائی کو کراچی میں اپنے گھر سے باہر نکلے تھے۔ اہلخانہ کے مطابق انہوں نے اپنی والدہ سے کہا تھا کہ وہ چند منٹ میں واپس آ جائیں گے۔
تاہم وہ واپس نہیں آئے اور کچھ دیر بعد ان کا موبائل فون بند ہو گیا۔ خاندان نے اپنی مدد سے تلاش شروع کی اور پولیس کو بھی اطلاع دی۔
29 جولائی کو پولیس کو کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر بلاک ون میں شاہی قلعہ گراؤنڈ کے قریب جھاڑیوں سے ایک لاش ملی۔
لاش کی حالت خراب ہونے اور جسم پر موجود بعض نشانات کے باعث شناخت فوری طور پر آسان نہیں تھی۔ پولیس کے مطابق میر رضا علی کے والد نے کپڑوں کی مدد سے لاش کی شناخت کی۔
میر رضا علی کی لاش ملنے کے بعد پولیس نے قتل سمیت مختلف پہلوؤں سے تحقیقات شروع کیں، تاہم اب تک کسی شخص کو گرفتار نہیں کیا گیا۔
اہلخانہ نے پولیس تحقیقات پر سوالات اٹھا دیے
میر رضا علی کے اہلخانہ نے ابتدا ہی سے پولیس تحقیقات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ان کے والد میر حسین کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے بیٹے کی موت کے حالات کے حوالے سے کئی سوالات کے جوابات نہیں مل سکے۔ ان کے مطابق ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی ایسے سوالات موجود تھے جن کی مزید تحقیقات ضروری تھیں۔
اہلخانہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہوں نے میر رضا علی کی میت دیکھتے وقت جسم پر بعض چوٹوں کے نشانات محسوس کیے، جس کے بعد انہوں نے عدالت سے رجوع کرکے دوبارہ پوسٹ مارٹم کی درخواست کی۔
میر حسین نے کہا کہ خاندان کا بنیادی سوال یہ ہے کہ ان کا بیٹا اس مقام تک کیسے پہنچا جہاں سے اس کی لاش ملی۔
انہوں نے کسی مخصوص شخص پر الزام عائد کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ موت کے تمام ممکنہ محرکات، بشمول ذاتی یا پیشہ ورانہ دشمنی، کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔
میڈیکل بورڈ کی تشکیل پر بھی تنازع
دوسرے پوسٹ مارٹم سے قبل میڈیکل بورڈ کی تشکیل پر بھی تنازع سامنے آیا تھا۔
میر رضا علی کے اہلخانہ کے وکیل اور انسانی حقوق کے کارکن جبران ناصر نے دعویٰ کیا تھا کہ عدالت کے حکم کے بعد کراچی کے پولیس سرجن نے آٹھ رکنی خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا تھا، تاہم بعد میں راتوں رات بورڈ کے ارکان میں تبدیلی کی گئی۔
اہلخانہ نے نئے بورڈ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے جمعے کے روز قبر کشائی کا عمل مؤخر کروا دیا تھا۔
جبران ناصر نے بعد میں سوشل میڈیا پر بتایا کہ تقریباً 24 گھنٹے کی کشمکش کے بعد پولیس سرجن کراچی کی جانب سے تشکیل دیا گیا اصل خصوصی میڈیکل بورڈ بحال کر دیا گیا، جس کے بعد ہفتے کو قبر کشائی اور دوسرا پوسٹ مارٹم کیا گیا۔
اہلخانہ کا مؤقف تھا کہ ان کا مقصد کسی مخصوص ڈاکٹر یا بورڈ کے حق میں اصرار کرنا نہیں بلکہ عدالتی حکم اور قانونی طریقہ کار کے مطابق شفاف کارروائی یقینی بنانا ہے۔
ابتدائی پوسٹ مارٹم پر بھی سوالات
میر رضا علی کی موت کے بعد کیے گئے پہلے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سامنے آنے پر بھی مزید سوالات پیدا ہوئے تھے۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے اس سے قبل بعض طبی امور پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ ان کے مطابق ابتدائی پوسٹ مارٹم کے دوران لاش کے ایکسرے نہیں کیے گئے اور مبینہ طور پر گن پاؤڈر یا بارودی ذرات کی جانچ کے لیے ہاتھوں سے نمونے بھی حاصل نہیں کیے گئے۔
انہوں نے داخلی اور خارجی زخموں کی مزید جانچ کی ضرورت پر بھی زور دیا تھا۔
ڈاکٹر سمعیہ سید کے مطابق لاش کی حالت خراب ہونے کے باوجود شناخت اور فرانزک تحقیقات کے لیے ڈی این اے سمیت دیگر ضروری شواہد محفوظ کیے جانے چاہییں تھے۔
دوسری جانب کراچی پولیس کے سربراہ آزاد خان نے ان تحفظات پر کہا تھا کہ پولیس طبی ماہرین کی رپورٹ کی بنیاد پر تحقیقات کرتی ہے اور کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے باقاعدہ میڈیکل بورڈ کی رائے کو مدنظر رکھا جائے گا۔
پولیس کا مؤقف
پولیس نے میر رضا علی کے اہلخانہ کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے قبل فرانزک اور طبی شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
میر رضا علی کی موت کی تحقیقات کے لیے ایک تین رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے، جس کی سربراہی اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کے ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو کر رہے ہیں۔ کمیٹی میں ایس ایس پی ایسٹ اور ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد عثمان سدوزئی بھی شامل ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ میڈیکل اور فرانزک رپورٹس سمیت دیگر شواہد کی روشنی میں موت کے حالات کا تعین کیا جائے گا۔
ابھی تک پولیس نے کسی مشتبہ شخص کی گرفتاری یا قتل کے ممکنہ محرک کے بارے میں کوئی حتمی اعلان نہیں کیا۔
میر رضا علی کون تھے؟
میر رضا علی کراچی میں ’وافلکس‘ نامی کاروبار کے 25 سالہ شریک مالک تھے۔ اہلخانہ کے مطابق وہ انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (IBA) کے طالب علم رہے اور مارکیٹنگ کے شعبے میں نمایاں کارکردگی رکھتے تھے۔
ان کے والد میر حسین کے مطابق خاندان میں میر رضا علی اور ان کی ایک بہن دو ہی بچے تھے۔
اہلخانہ کا کہنا ہے کہ میر رضا علی کا کسی کے ساتھ کوئی معروف تنازع یا دشمنی نہیں تھی، تاہم وہ پولیس سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ قتل کے تمام ممکنہ محرکات کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔
شواہد کی فرانزک جانچ اہم قرار
دوسرے پوسٹ مارٹم میں گولی کے راستے، جسم پر موجود چوٹوں اور دیگر زخموں کی نشاندہی نے کیس میں مزید اہم سوالات پیدا کیے ہیں۔
میڈیکل بورڈ کی جانب سے حاصل کیے گئے بال، دانت، ہڈیوں، کپڑے اور گولی کے باقیات کے نمونے اب فرانزک تجزیے کے لیے بھیجے جائیں گے۔
حکام کے مطابق حتمی پوسٹ مارٹم اور فرانزک رپورٹس سامنے آنے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ میر رضا علی کی موت کس طرح واقع ہوئی، ان پر تشدد کب اور کہاں ہوا، اور گولی لگنے کے حالات کیا تھے۔
فی الحال میر رضا علی کی موت کا معاملہ زیر تفتیش ہے اور پولیس کے مطابق حتمی نتائج فرانزک شواہد اور میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کی روشنی میں سامنے لائے جائیں گے۔