Post Main Ad Panel
Read in English لاہور پولیس حراست میں دو خواتین کی موت، پولیس تشدد کے الزامات کی تحقیقات جاری

لاہور پولیس حراست میں دو خواتین کی موت، پولیس تشدد کے الزامات کی تحقیقات جاری

36 ویوز

لاہور میں پولیس حراست میں دو خواتین کی ہلاکت، عدالتی تحقیقات شروع

لاہور: پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پولیس حراست کے دوران دو خواتین کی ہلاکت کا معاملہ تاحال حل نہیں ہو سکا، جبکہ جوڈیشل مجسٹریٹ نے واقعے کی عدالتی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

18 سال سے کم عمر آمنہ اور 22 سالہ انمول کو 4 اگست کو چوری اور دھوکہ دہی کے الزامات میں درج مقدمے کے بعد لاہور کے تھانہ ٹاؤن شپ لایا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق تھانے میں موجودگی کے ابتدائی گھنٹوں کے دوران دونوں خواتین کی طبیعت خراب ہوئی، جس کے بعد انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ دم توڑ گئیں۔

اہلخانہ اور پولیس کے مطابق دونوں خواتین آپس میں نند اور بھابھی تھیں۔

ایک پولیس افسر کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج لاہور کے احکامات پر جوڈیشل مجسٹریٹ نے واقعے کی انکوائری شروع کر دی ہے۔ پولیس حراست میں کسی ملزم کی موت کی صورت میں عدالتی تحقیقات کی جاتی ہیں، جبکہ رپورٹ مقررہ مدت میں پیش کی جاتی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم، عدالتی تحقیقات یا پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی کی رپورٹس میں اگر پولیس تشدد ثابت ہوا تو ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف محکمانہ اور قانونی کارروائی کی جائے گی۔

اہلخانہ کا تشدد کا الزام، پولیس کا مختلف مؤقف

ہلاک ہونے والی انمول کے شوہر ثقلین نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی اہلیہ اور بہن آمنہ کو پولیس حراست کے دوران مبینہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے انمول کی میت دیکھی جس پر مبینہ تشدد کے نشانات موجود تھے۔

اہلخانہ نے پولیس کے اس مؤقف کو بھی مسترد کیا ہے کہ دونوں خواتین منشیات کی عادی تھیں اور ان کی موت مبینہ طور پر منشیات کی زیادہ مقدار استعمال کرنے سے ہوئی۔

دوسری جانب لاہور پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں دونوں خواتین کے منشیات استعمال کرنے کا شبہ سامنے آیا تھا اور پولیس کو خدشہ ہے کہ ان کی موت منشیات کی زیادہ مقدار کے باعث ہوئی۔

پولیس نے دورانِ حراست تشدد یا بدسلوکی کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کے تھانے لائے جانے سے لے کر ان کی موجودگی تک کی ویڈیو ریکارڈنگ حاصل کر لی گئی ہے۔

خواتین کے خلاف مقدمہ

پولیس کے مطابق دونوں خواتین کے خلاف 4 اگست کو ایک شہری کی درخواست پر مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 379 اور 420 شامل کی گئی تھیں۔ یہ دفعات بالترتیب چوری اور دھوکہ دہی سے متعلق ہیں۔

ایف آئی آر کے مطابق مدعی نے الزام عائد کیا تھا کہ دونوں خواتین گھر میں داخل ہوئیں اور مبینہ طور پر سونے کی بالیاں اور رقم لے گئیں۔ پولیس کے پہنچنے پر دونوں خواتین کو ان کے حوالے کر دیا گیا۔

پولیس کے ایک تفتیشی افسر نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں خواتین کے خلاف ماضی میں بھی گجرات اور لاہور میں دھوکہ دہی کے مقدمات درج رہے ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی حتمی تصدیق عدالتی اور تفتیشی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی ہو سکے گی۔

تحقیقات اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار

پولیس کے مطابق دونوں خواتین کا پوسٹ مارٹم کرایا جا چکا ہے اور موت کی حتمی وجہ جاننے کے لیے تفصیلی رپورٹ کا انتظار ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے رہنما حسن مرتضیٰ نے بھی واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

اہلخانہ کے مطابق دونوں خواتین کی تدفین پنجاب کے ضلع پاکپتن کے نواحی علاقے میں کر دی گئی ہے۔

واقعے کی اصل وجہ کا تعین عدالتی تحقیقات، پوسٹ مارٹم رپورٹ اور فرانزک شواہد کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

Post Bottom Ad Panel