فیصل آباد: خواتین کو محفوظ ماحول کی فراہمی، اینٹی ہراسمنٹ ایکٹ کے تحت تربیتی سیشن کا انعقاد
فیصل آباد، 29 ستمبر 2026ء (ڈیجیٹل اطلاع) — وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات کے تحت صوبہ بھر میں انسداد ہراسگی (اینٹی ہراسمنٹ) ایکٹ کے نفاذ اور آگاہی کے لیے سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں خاتون محتسب پنجاب ڈاکٹر نجمہ افضل نے فیصل آباد کا دورہ کیا اور کمشنر آفس کے کمیٹی روم میں مختلف سرکاری اداروں میں قائم انسداد ہراسگی کمیٹیوں کے لیے ایک خصوصی تربیتی سیشن کی صدارت کی۔ کمشنر فیصل آباد ڈاکٹر عمران حامد شیخ کی نمائندگی ایڈیشنل کمشنر کوآرڈینیشن تنویر مرتضیٰ نے کی۔
اجلاس میں گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، گورنمنٹ جنرل ہسپتال سمن آباد، نصرت فتح علی خان ہسپتال، سوشل سکیورٹی ہسپتال، الائیڈ ہسپتال ون سمیت صحت، تعلیم، کالجز اور دیگر اہم محکموں کی ہراسمنٹ کمیٹیوں کے فوکل پرسنز نے شرکت کی۔ اس موقع پر ریجنل ڈائریکٹر پروفیسر خالد حسن، پرسنل سٹاف آفیسر خاتون محتسب پنجاب حافظ فاروق انور اور دیگر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے خواتین کو کارکردگی کے دوران محفوظ ماحول اور فوری انصاف کی فراہمی پر زور دیا۔
تربیتی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نجمہ افضل نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کو جائے ملازمت پر محفوظ، سازگار اور باوقار ماحول فراہم کرنا تمام اداروں کی اولین اور بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ متاثرہ خواتین کسی پیچیدہ کارروائی کے بغیر سادہ کاغذ پر بھی اپنی شکایت درج کرا سکتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سرکاری محکموں میں قائم اینٹی ہراسمنٹ کمیٹیوں کے اراکین کی استعداد کار (Capacity Building) بڑھانے کے لیے ایسے تربیتی سیشنز کا انعقاد کیا جا رہا ہے تاکہ کمیٹی کے اراکین ہراسانی کے موصول ہونے والے کیسز کی شفاف انکوائری کرنے، قانونی تقاضوں کو سمجھنے اور تفتیش کے درست طریقہ کار پر مؤثر انداز میں عمل پیرا ہو سکیں۔
ڈاکٹر نجمہ افضل نے کام کی جگہوں پر خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے اور انصاف تک ان کی آسان رسائی کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیا۔ اس موقع پر انہوں نے کامیاب تربیتی سیشن کے انعقاد پر ریجنل ڈائریکٹر پروفیسر خالد حسن کی کاوشوں کو بھرپور انداز میں سراہا۔ سیشن کے دوران شرکاء اور اینٹی ہراسمنٹ کمیٹیوں کے ارکان کے مختلف سوالات کے تسلی بخش جوابات بھی دیے گئے۔