فیصل آباد، 25 اگست 2026: جڑانوالہ پولیس نے ایک شخص کے قتل کا معمہ 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں حل کرنے کا دعویٰ کیا ہے، پولیس کے مطابق مقتول کی نوعمر بیٹی مبینہ طور پر ایک نوجوان کے ساتھ قتل کی واردات میں ملوث نکلی۔
پولیس کے مطابق جڑانوالہ کے علاقے 116 گ ب میں آصف نامی شخص کی اچانک موت کی اطلاع موصول ہوئی۔ ابتدائی طور پر بتایا گیا کہ نامعلوم افراد نے گھر میں داخل ہو کر فائرنگ کی اور آصف کو قتل کردیا۔
پولیس کے مطابق واقعے کے وقت مقتول کی اکلوتی بیٹی عائشہ ماہ نور، عمر تقریباً 17 سے 18 سال بھی گھر میں موجود تھی۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی سی پی او فیصل آباد تنویر حسین کی ہدایت پر ایس پی جڑانوالہ اختر علی وینس اور ایس ایچ او صدر جڑانوالہ ملک محمد عمران کی سربراہی میں پولیس ٹیم نے تحقیقات شروع کیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے، شواہد اکٹھے کرنے اور جدید تفتیشی طریقہ کار استعمال کرنے کے بعد تحقیقات کا رخ مقتول کی بیٹی کی جانب ہوگیا۔
پولیس کے مطابق دورانِ تفتیش معلوم ہوا کہ لڑکی کے ایک نوجوان کے ساتھ مبینہ مراسم تھے اور مقتول نے دونوں کو ایک ساتھ دیکھ لیا تھا۔ پولیس کا الزام ہے کہ اس کے بعد لڑکی نے مذکورہ نوجوان کے ساتھ مل کر اپنے والد کو قتل کرنے کی مبینہ منصوبہ بندی کی اور واردات انجام دی۔
پولیس نے دعویٰ کیا کہ واقعے کے 24 گھنٹے مکمل ہونے سے پہلے قتل کا سراغ لگا لیا گیا، جسے ابتدائی طور پر نامعلوم افراد کی جانب سے کیا گیا قتل سمجھا جا رہا تھا۔
حکام کے مطابق واقعے سے متعلق مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور ملزمان سے تفتیش جاری ہے۔ پولیس نے کہا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
پولیس کے الزامات ابھی عدالت میں ثابت نہیں ہوئے اور ملزمان کو قانون کے مطابق فیصلہ ہونے تک بے گناہ تصور کیا جائے گا۔