کولمبیا میں زلزلے سے بچ جانے والی خاتون نے بیٹے کو دیا زندگی بھر یاد رہنے والا تحفہ
پیریرا، کولمبیا، 12 اگست (رائٹرز) — کولمبیا میں ایک خاندان کی بدترین تشویش اس وقت خوشی میں بدل گئی جب 32 سالہ خاتون کو عمارت کے ملبے تلے تقریباً 38 گھنٹے گزارنے کے بعد زندہ نکال لیا گیا۔ خاتون کے 12 سالہ بیٹے کی سالگرہ بھی اسی روز تھی۔
جولیو سیزر لارگو کو اس وقت شدید تشویش ہوئی جب ان کی بیٹی ڈینیئلا سالگرہ کی تقریب میں نہ پہنچیں۔ اسی روز کولمبیا میں 7.4 شدت کا شدید زلزلہ آیا تھا، جس میں کم از کم 250 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی یا لاپتا ہوئے۔
ڈینیئلا اپنے گھر واپس جا رہی تھیں لیکن ان کا فون مسلسل بند رہا اور کئی گھنٹوں تک خاندان سے رابطہ نہ ہوسکا۔ ان کے والد کو خدشہ ہوگیا کہ ان کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آچکا ہے۔
خاندان نے ڈینیئلا کی تصویر والا پوسٹر لے کر تلاش شروع کی۔ بعد ازاں کچھ لوگوں نے بتایا کہ انہوں نے زلزلے کی صبح ڈینیئلا کو دیکھا تھا۔
چار منزلہ عمارت کے ملبے تلے پھنس گئیں
ڈینیئلا پیریرا کے مرکزی علاقے میں ایک عمارت میں موجود تھیں جب چار منزلہ عمارت زلزلے کے باعث منہدم ہوگئی۔ وہ کنکریٹ کے بھاری ملبے تلے دب گئیں اور ان کا ایک بازو لوہے کے دروازے کے نیچے پھنس گیا۔
ریسکیو ٹیموں نے ایک دوسرے لاپتا شخص کی تلاش کے دوران ڈینیئلا کا سراغ لگایا۔ انہیں ملبے سے نکالنے کے لیے تقریباً 10 گھنٹے تک مسلسل آپریشن جاری رہا، جس میں درجنوں ماہر ریسکیو اہلکاروں اور تقریباً 50 رضاکاروں نے حصہ لیا۔
بالآخر جب ڈینیئلا کو زندہ ملبے سے نکال کر اسٹریچر پر اسپتال منتقل کیا گیا تو جائے وقوعہ پر موجود لوگوں نے خوشی سے تالیاں بجائیں اور نعرے لگائے۔
’ایسا لگا جیسے وہ دوبارہ پیدا ہوئی ہوں‘
ڈینیئلا کے والد نے آنسوؤں کے ساتھ کہا کہ اپنی بیٹی کو اس تکلیف سے گزرتے دیکھنا انتہائی تکلیف دہ تھا، تاہم ان کی زندگی بچ جانے کی خوشی ناقابلِ بیان ہے۔
خاندان نے ڈینیئلا کے بیٹے کی 12ویں سالگرہ منانے کے لیے مانیزالیس کے ایک شاپنگ مال جانے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن زلزلے نے سب کچھ بدل دیا۔
والد کے مطابق بیٹی کی زندگی بچنے کی خوشی انہیں ایسا محسوس کرا رہی ہے جیسے وہ دوبارہ اسی دن پیدا ہوئی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اب ڈینیئلا کو اپنے بیٹے کی پرورش جاری رکھنے کا ایک اور موقع مل گیا ہے۔